پاکستان ماحولیاتی قوانین کا جائزہ: وفاقی و صوبائی قوانین، پابندیاں، سزائیں، اور وہ خلا جو نفاذ میں ہیر پھیر کرنے والوں کی سزا نہیں دیتے۔
عالمی یومِ ماحول کے موقع پر ہونے والی ماحولیاتی سرگرمیوں، گرین واشنگ، نمائشی شجرکاری، ہیٹ ویو واکس اور اسپانسرڈ پروگراموں کی حقیقت پر خصوصی رپورٹ۔
کراچی ائیر کوالٹی پر تحقیقی جائزہ: 100 ڈسپلے کی تنصیب نمائشی اقدام ہے۔ سیپا کی ذمہ داری، کلائمیٹ ایکشن پلان کا پس منظر، اور حقیقی مانیٹرنگ اسٹیشنز کی کمی کا تجزیہ پڑھیں۔
بغیر منصوبہ بندی اور مقامی ضرورت کو سمجھے کی جانے والی شجرکاری اکثر نمائشی عمل بن جاتی ہے۔ جانئے کہ پائیدار، ذمہ دار اور ماحول دوست شجرکاری کیوں ضروری ہے۔
کراچی کے درختوں کی کٹائی کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔ کونوکارپس ہٹانے کی مہم میں لگنم بھی قربان ہو رہا ہے، گرین کور 2 فیصد سے بھی کم ہے اور کوئی ادارہ جواب دہ نہیں۔ پڑھیں مکمل تجزیہ۔
یوم ارض کوئز اردو میں حصہ لیں اور پلاسٹک آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، جانوروں کے تحفظ اور ماحولیات سے متعلق 20 اہم سوالات کے جوابات دے کر اپنی معلومات جانچیں۔ ابھی کوئز شروع کریں!
عالمی یومِ ارض پر جانیں کہ کیسے چھوٹے انفرادی فیصلے بڑی ماحولیاتی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ اپنی زمین کو بچانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
ہر سال 22 اپریل کو یوم ارض منایا جاتا ہے مگر اکثر لوگ اس کا مقصد نہیں جانتے۔ جانیں اس دن کی تاریخ، مقاصد اور پاکستان کی صورتحال۔
8 اپریل 2026 کو کراچی سے جاری ایک رہنما دستاویز میں کلائمیٹ ایکشن اسکلز نے ملک بھر کے اداروں کو خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی دنوں کو نمائشی سرگرمی بنانے سے گریز کیا جائے۔ بظاہر یہ ایک سادہ اخلاقی اپیل ہے، لیکن اس کے پس منظر میں پاکستان کے ماحولیاتی شعور کے پورے نظام پر…