شہر کی ایک بھیڑ بھری سڑک تھی جہاں ہر شام بحثیں ہوتی تھیں، لمبی، تھکی ہوئی، اور بے نتیجہ۔
چائے کے ہوٹل پر ایک آدمی کہتا، “جب تک حکومت نہیں جاگے گی، کچھ نہیں بدلے گا۔” دوسرا فوراً پلٹتا، “کارخانے ہی سب سے بڑے گنہگار ہیں، ہم غریب آدمی کیا کر سکتے ہیں؟” تیسرا اخبار موڑتے ہوئے آہ بھرتا، “یہ دنیا اتنی بگڑ چکی ہے کہ اب سنورنے کی امید نہیں۔”
اسی سڑک کے کونے پر ایک پرانا پیپل کا درخت کھڑا تھا، صدیوں سے خاموش گواہ۔ وہ روزانہ یہ باتیں سنتا تھا۔ اور وہ جانتا تھا: زمین کو سب سے زیادہ نقصان دھوئیں، زہر یا سیلاب سے نہیں ہوتا بلکہ انتظار سے ہوتا ہے۔ اس انتظار سے جو ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کرتے ہیں۔
لیکن اسی دوران، دنیا کے دوسرے حصوں میں کچھ مختلف ہو رہا تھا۔ ایسا کچھ جو اخباروں میں کم آتا ہے، مگر زمین کو محسوس ہوتا ہے۔
افریقہ کے ایک چھوٹے گاؤں میں ایک بڑھیا نے ایک درخت لگایا۔ اس نے کہا: “میں اسے پھل کھاتے نہیں دیکھوں گی، مگر میرے پوتے دیکھیں گے۔” اس کے پڑوسیوں نے مذاق اڑایا۔ پانچ سال بعد، اسی گاؤں میں تین ہزار درخت تھے۔ وہ بڑھیا اب بھی زندہ ہے اور اب اس کے پوتے بھی درخت لگا رہے ہیں۔
ممبئی کے ورساوا ساحل پر کچرے کی اتنی بڑی دیوار تھی کہ مچھیرے کشتیاں نہیں اتار سکتے تھے۔ ایک نوجوان آفروز شاہ نے اکیلے صفائی شروع کی۔ ہفتے بھر میں دوست آ گئے۔ مہینے بھر میں پورا محلہ آ گیا۔ دو سال میں، پانچ ہزار رضاکاروں نے ساڑھے بارہ ہزار ٹن کچرا اٹھایا۔ سمندر واپس آ گیا۔ مچھلیاں واپس آ گئیں۔ مچھیروں کی روزی واپس آ گئی ۔ صرف ایک آدمی کے “آج سے” کہنے سے۔
ڈنمارک کا ایک چھوٹا قصبہ سامسو، جہاں چند ہزار لوگ رہتے ہیں، نے دس سال میں خود کو مکمل طور پر قابل تجدید توانائی پر منتقل کر لیا۔ اب وہ صرف اپنی ضرورت پوری نہیں کرتے، وہ بجلی باہر بیچتے بھی ہیں۔ انہوں نے یہ کام حکومت کے کہنے پر نہیں کیا۔ انہوں نے یہ اس لیے کیا کیونکہ ایک کسان نے کہا: “ہم کر سکتے ہیں۔”
2008 میں روانڈا نے پلاسٹک تھیلیوں پر مکمل پابندی لگا دی اور نافذ کر دی۔ آج نیروبی، لاگوس اور دہلی جیسے شہر اس کی مثال دیتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے ملک نے ثابت کیا کہ سیاسی ارادہ اور شہری شعور مل کر اصلی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا نے ایک ارب درخت لگانے کا ہدف رکھا اور پورا کیا۔ جنگل واپس آئے، پانی کے چشمے دوبارہ بہنے لگے، پرندے لوٹے۔ ایک چھوٹا سا فیصلہ، ایک بڑا خواب اور ہزاروں ہاتھ جو مٹی میں لگے رہے۔
پھر ایک دن اسی پرانی سڑک پر، اسی جگہ جہاں بحثیں ہوتی تھیں، کچھ خاموش مگر زبردست ہوا۔
کسی نے تقریر نہیں کی۔ کسی نے کمیٹی نہیں بنائی۔ کسی نے انتظار نہیں کیا۔
- ایک دکاندار نے اپنی دکان کے باہر دو ڈبے رکھ دیے، ایک کچرے کے لیے، ایک ری سائیکل کے لیے
- ایک خاتون نے بچوں کے ساتھ گلی میں پودے لگا دیے، بغیر کسی سے پوچھے
- کالج کے چند طالب علموں نے ہفتے میں ایک بار صفائی مہم شروع کر دی
- ایک مقامی فیکٹری نے پانی ضائع ہونے سے روکنے کا منصوبہ بنایا
- یونین کونسل نے ایک خالی پلاٹ کو چھوٹے پارک میں بدل دیا
اور پھر ایک عجیب سلسلہ شروع ہوا۔ تبدیلی شور سے نہیں، عادت سے آئی۔
- پہلے گلی صاف ہوئی
- پھر لوگ سنجیدہ ہوئے
- پھر بچوں نے سوال پوچھنے شروع کیے
- پھر دکانداروں نے پلاسٹک تھیلے ہٹا دیے
- پھر ایک اسکول میں ماحولیاتی کلب بن گیا
- پھر ایک بینک نے کاغذ کم کرنا شروع کیا
- پھر دوسرے علاقوں نے بھی دیکھا اور سیکھا
بلکہ روزمرہ فیصلوں کی طاقت۔
اگر ایک شہر کر سکتا ہے تو دوسرا کیوں نہیں؟
اگر ایک کمپنی بدل سکتی ہے تو دوسری کیوں نہیں؟
اگر ایک محلہ سنور سکتا ہے تو ہمارا کیوں نہیں؟
ہم اکثر پوچھتے ہیں: “وہ کیوں نہیں کر رہے؟”
شاید اب سوال بدلنے کا وقت آ گیا ہے:
🌿 “ہم آج کیا شروع کر رہے ہیں؟”
منتظم: محکمہ ماحولیاتی تحفظ سندھ (SEPA)
ابھی رجسٹر کریں

Leave a Reply