Our Power, Our Planet

شہر کی ایک بھیڑ بھری سڑک تھی جہاں ہر شام بحثیں ہوتی تھیں، لمبی، تھکی ہوئی، اور بے نتیجہ۔

چائے کی پیالیوں میں دنیا کا درد

چائے کے ہوٹل پر ایک آدمی کہتا، “جب تک حکومت نہیں جاگے گی، کچھ نہیں بدلے گا۔” دوسرا فوراً پلٹتا، “کارخانے ہی سب سے بڑے گنہگار ہیں، ہم غریب آدمی کیا کر سکتے ہیں؟” تیسرا اخبار موڑتے ہوئے آہ بھرتا، “یہ دنیا اتنی بگڑ چکی ہے کہ اب سنورنے کی امید نہیں۔”

مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی: گرمیاں جلد، زیادہ اور ناقابلِ برداشت کیوں؟

اسی سڑک کے کونے پر ایک پرانا پیپل کا درخت کھڑا تھا، صدیوں سے خاموش گواہ۔ وہ روزانہ یہ باتیں سنتا تھا۔ اور وہ جانتا تھا: زمین کو سب سے زیادہ نقصان دھوئیں، زہر یا سیلاب سے نہیں ہوتا بلکہ انتظار سے ہوتا ہے۔ اس انتظار سے جو ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کرتے ہیں۔

لیکن اسی دوران، دنیا کے دوسرے حصوں میں کچھ مختلف ہو رہا تھا۔ ایسا کچھ جو اخباروں میں کم آتا ہے، مگر زمین کو محسوس ہوتا ہے۔

کینیا کی خاموش انقلابی: وانگاری ماتھائی کا وارث

افریقہ کے ایک چھوٹے گاؤں میں ایک بڑھیا نے ایک درخت لگایا۔ اس نے کہا: “میں اسے پھل کھاتے نہیں دیکھوں گی، مگر میرے پوتے دیکھیں گے۔” اس کے پڑوسیوں نے مذاق اڑایا۔ پانچ سال بعد، اسی گاؤں میں تین ہزار درخت تھے۔ وہ بڑھیا اب بھی زندہ ہے اور اب اس کے پوتے بھی درخت لگا رہے ہیں۔

رپورٹ: مارچ 2026کو گلوبل وارمنگ نے چوتھا گرم ترین مارچ بنادیا
ممبئی کے نوجوانوں نے سمندر واپس کیا

ممبئی کے ورساوا ساحل پر کچرے کی اتنی بڑی دیوار تھی کہ مچھیرے کشتیاں نہیں اتار سکتے تھے۔ ایک نوجوان آفروز شاہ نے اکیلے صفائی شروع کی۔ ہفتے بھر میں دوست آ گئے۔ مہینے بھر میں پورا محلہ آ گیا۔ دو سال میں، پانچ ہزار رضاکاروں نے ساڑھے بارہ ہزار ٹن کچرا اٹھایا۔ سمندر واپس آ گیا۔ مچھلیاں واپس آ گئیں۔ مچھیروں کی روزی واپس آ گئی ۔ صرف ایک آدمی کے “آج سے” کہنے سے۔

Earth Day 2026
ڈنمارک کا شہر جو بجلی بیچتا ہے

ڈنمارک کا ایک چھوٹا قصبہ سامسو، جہاں چند ہزار لوگ رہتے ہیں، نے دس سال میں خود کو مکمل طور پر قابل تجدید توانائی پر منتقل کر لیا۔ اب وہ صرف اپنی ضرورت پوری نہیں کرتے، وہ بجلی باہر بیچتے بھی ہیں۔ انہوں نے یہ کام حکومت کے کہنے پر نہیں کیا۔ انہوں نے یہ اس لیے کیا کیونکہ ایک کسان نے کہا: “ہم کر سکتے ہیں۔”

روانڈا: پلاسٹک کو خدا حافظ

2008 میں روانڈا نے پلاسٹک تھیلیوں پر مکمل پابندی لگا دی اور نافذ کر دی۔ آج نیروبی، لاگوس اور دہلی جیسے شہر اس کی مثال دیتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے ملک نے ثابت کیا کہ سیاسی ارادہ اور شہری شعور مل کر اصلی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

پاکستان کا ارب درخت سونامی

خیبر پختونخوا نے ایک ارب درخت لگانے کا ہدف رکھا اور پورا کیا۔ جنگل واپس آئے، پانی کے چشمے دوبارہ بہنے لگے، پرندے لوٹے۔ ایک چھوٹا سا فیصلہ، ایک بڑا خواب اور ہزاروں ہاتھ جو مٹی میں لگے رہے۔

ضرور پڑھیں: درختوں کے فوائد اور نقصانات: شجرکاری کب فائدہ دیتی ہے اور کب نقصان؟
دنیا کامل لوگوں نے نہیں بدلی۔ دنیا نے ان لوگوں سے تاریخ لکھوائی جنہوں نے کہا: “جو ہوسکتا ہے، وہ ابھی کرتے ہیں۔”

پھر ایک دن اسی پرانی سڑک پر، اسی جگہ جہاں بحثیں ہوتی تھیں، کچھ خاموش مگر زبردست ہوا۔

کسی نے تقریر نہیں کی۔ کسی نے کمیٹی نہیں بنائی۔ کسی نے انتظار نہیں کیا۔

  • ایک دکاندار نے اپنی دکان کے باہر دو ڈبے رکھ دیے، ایک کچرے کے لیے، ایک ری سائیکل کے لیے
  • ایک خاتون نے بچوں کے ساتھ گلی میں پودے لگا دیے، بغیر کسی سے پوچھے
  • کالج کے چند طالب علموں نے ہفتے میں ایک بار صفائی مہم شروع کر دی
  • ایک مقامی فیکٹری نے پانی ضائع ہونے سے روکنے کا منصوبہ بنایا
  • یونین کونسل نے ایک خالی پلاٹ کو چھوٹے پارک میں بدل دیا

اور پھر ایک عجیب سلسلہ شروع ہوا۔ تبدیلی شور سے نہیں، عادت سے آئی۔

  • پہلے گلی صاف ہوئی
  • پھر لوگ سنجیدہ ہوئے
  • پھر بچوں نے سوال پوچھنے شروع کیے
  • پھر دکانداروں نے پلاسٹک تھیلے ہٹا دیے
  • پھر ایک اسکول میں ماحولیاتی کلب بن گیا
  • پھر ایک بینک نے کاغذ کم کرنا شروع کیا
  • پھر دوسرے علاقوں نے بھی دیکھا اور سیکھا
یہی اصل طاقت ہے۔ نہ صرف ووٹ کی، نہ صرف حکومت کی، نہ صرف پیسے کی۔
بلکہ روزمرہ فیصلوں کی طاقت۔

اگر ایک شہر کر سکتا ہے تو دوسرا کیوں نہیں؟

اگر ایک کمپنی بدل سکتی ہے تو دوسری کیوں نہیں؟

اگر ایک محلہ سنور سکتا ہے تو ہمارا کیوں نہیں؟

ہم اکثر پوچھتے ہیں: “وہ کیوں نہیں کر رہے؟”
شاید اب سوال بدلنے کا وقت آ گیا ہے:

🌿 “ہم آج کیا شروع کر رہے ہیں؟”

آپ کو مدعو کیا جاتا ہے
ویبینار میں شامل ہوں
“Our Power, Our Planet — ہماری طاقت، ہماری زمین”
22 اپریل 2026
صبح 11:00 تا دوپہر 1:00
Zoom / Google Meet

منتظم: محکمہ ماحولیاتی تحفظ سندھ (SEPA)

ابھی رجسٹر کریں
سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی • Sindh Environmental Protection Agency

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *