وفاقی سطح پر بنیادی قانون: ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997 (PEPA)
پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کا بنیادی قانون “ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997” (PEPA) ہے جو پاکستان ماحولیاتی قوانین کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ یہ قانون ہوا، پانی، مٹی، سمندری آلودگی اور شور کے علاوہ خطرناک مواد کے استعمال پر قابو پاتا ہے۔
اس قانون کے تحت اگر کوئی فیکٹری یا صنعت کار قومی معیارات (NEQS) سے تجاوز کرے تو اسے ایک ملین روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ خلاف ورزی مسلسل جاری رہے تو ہر روز کے لیے اضافی ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
قانون کے سیکشن 11 اور 15 کے تحت ایسی موٹر گاڑیاں جن سے دھواں، کاربن مونو آکسائڈ یا شور مقررہ حد سے زیادہ خارج ہو رہا ہو، ان کے چلنے پر پابندی ہے۔ ایسی گاڑیوں کو آلودگی کنٹرول آلات نصب کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
- پہلی بار خلاف ورزی: 1 ملین روپے تک جرمانہ
- روزانہ جاری خلاف ورزی: 1 لاکھ روپے اضافی
- بار بار خلاف ورزی: 2 سال تک قید
- فیکٹری بند کرنے کا حکم
- مشینری ضبط کرنے کا اختیار
صوبوں کے اپنے اپنے قوانین اور ماحولیاتی قوانین نفاذ
خیبر پختونخوا ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 2014 کے تحت صوبے میں پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی انواع (Alien Species) اور جینیاتی طور پر ترمیم شدہ جانداروں کی آمد پر بھی پابندی ہے۔
- پلاسٹک بیگز کا استعمال: 5 لاکھ روپے جرمانہ
- بار بار خلاف ورزی: 1 ماہ قید + جرمانہ
- ممنوعہ پلاسٹک ضبط کرنے کا اختیار
بلوچستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 2012 میں ساحلی علاقوں کے تحفظ، الیکٹرانک ویسٹ کے انتظام، اور ہسپتالوں کے فضلہ (Hospital Waste) کے ضوابط خاص طور پر شامل ہیں۔ کسی بھی فضلہ کا ایسے انداز میں انتظام جو ماحول کو نقصان پہنچائے، مکمل طور پر ممنوع ہے۔
- 1 ملین روپے تک جرمانہ + روزانہ 1 لاکھ اضافی
- 2 سال تک قید (بار بار خلاف ورزی پر)
- فیکٹری بند کرنے کا حکم
- مشینری ضبط
- ماحول بحال کرنے کا حکم (اپنے خرچے پر)
- متاثرہ افراد کو ہرجانہ
پنجاب اور سندھ نے بھی اپنے اپنے ماحولیاتی تحفظ ایکٹ بنائے ہوئے ہیں۔ ان میں صنعتی آلودگی، زرعی کیمیکلز، اور شہری فضلہ کے ضوابط شامل ہیں۔ دونوں صوبوں میں ای آئی اے (EIA) اور آئی ای ای (IEE) رپورٹس بغیر کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکتا۔
جنگلات اور وائلڈ لائف کے تحفظ کے قوانین
1927 کا فوریسٹ ایکٹ آج بھی زیادہ تر صوبوں میں نافذ العمل ہے۔ اس قانون کے تحت محفوظ جنگلات میں درخت کاٹنا، چراغاہ بنانا، شکار، پانی میں زہر ملانا، اور کان کنی مکمل طور پر ممنوع ہے۔
- 6 ماہ تک قید
- 500 روپے تک جرمانہ (قدیم قانون کے مطابق)
- نقصان کی تلافی
- آگ لگانے پر جنگلات میں حقوق معطل
وہ سزائیں جو پاکستان ماحولیاتی قوانین میں نہیں ہیں
اب آتے ہیں اس پہلو پر جس پر شاید ہی کسی نے غور کیا ہو۔ پاکستان ماحولیاتی قوانین — چاہے وفاقی پیپا 1997 ہو یا صوبائی ایکٹس — میں خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزائیں تو تفصیل سے درج ہیں، مگر نفاذ میں ہیر پھیر کرنے والوں، اس ہیر پھیر میں معاونت کرنے والوں، مشاورت دینے والوں، یا پھر خاموشی اختیار کرنے والوں کے لیے کوئی سزا نہیں۔
قانون میں EPA کے اہلکاروں کو تفتیش کا اختیار ہے، فیکٹریوں کی چیکنگ کا اختیار ہے، جرمانے لگانے کا اختیار ہے — مگر اگر کوئی اہلکار رشوت لے کر آنکھیں بند کر لے، اگر کوئی افسر “رپورٹ میں ہیر پھیر” کرے، اگر کوئی وکیل “مشاورت” دے کر غلط رپورٹ تیار کروائے، یا پھر اعلیٰ افسر خاموشی اختیار کرے — ان سب کے لیے قانون میں کوئی سزا تجویز نہیں۔
یہ ایک سنگین ترین قانونی خلا ہے۔ آپ قانون دیکھ لیں:
- ❌ ہیر پھیر کرنے والے افسر کی سزا: نہیں
- ❌ معاونت کرنے والے وکیل/ایجنٹ کی سزا: نہیں
- ❌ مشاورت دینے والے ماہرین کی سزا: نہیں
- ❌ خاموشی اختیار کرنے والے اعلیٰ افسران کی سزا: نہیں
- ❌ رشوت لینے والے اہلکار کی ماحولیاتی قانون میں سزا: نہیں
نتیجہ: قانون صرف “آلودگی کرنے والے” کو پکڑتا ہے، “آلودگی دیکھنے والے اور چپ رہنے والے” کو نہیں۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں “کلاس” لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ماحولیاتی تحفظ صرف فیکٹریوں کے دھواں تک محدود نہیں۔ یہ ایک “نظام” ہے، اور جب نظام کے محافظ ہی نظام کو چونا لگائیں تو پھر قانون کا کوئی فائدہ نہیں۔
پاکستان کے صوبوں میں پاکستان ماحولیاتی قوانین موجود ہیں، پابندیاں ہیں، سزائیں ہیں — مگر یہ سب “آلودگی کرنے والے” تک محدود ہیں۔ نفاذ میں ہیر پھیر، رشوت، غفلت، اور خاموشی — ان سب کے لیے قانون میں کوئی دانت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ماحولیاتی قوانین میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے تاکہ “محافظ” کو بھی “قانون” کے دائرے میں لایا جا سکے۔


Leave a Reply