8 اپریل 2026 کو کراچی سے جاری ایک رہنما دستاویز میں کلائمیٹ ایکشن اسکلز نے ملک بھر کے اداروں کو خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی دنوں کو نمائشی سرگرمی بنانے سے گریز کیا جائے۔ بظاہر یہ ایک سادہ اخلاقی اپیل ہے، لیکن اس کے پس منظر میں پاکستان کے ماحولیاتی شعور کے پورے نظام پر ایک واضح اور سخت تنقید موجود ہے۔

رسمی سرگرمیوں کا موسم
پاکستان میں ماحولیاتی دنوں کے حوالے سے ایک مخصوص طریقہ کار بن چکا ہے۔ اپریل شروع ہوتے ہی اداروں کے باہر بینر لگ جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر سبز رنگ کے گرافکس کی بھرمار ہو جاتی ہے، پارکوں اور اسکولوں میں چند پودے لگا دیے جاتے ہیں، اور پھر معمولات ویسے ہی جاری رہتے ہیں۔ دفاتر میں بلا ضرورت بجلی جلتی رہتی ہے، گاڑیاں غیر ضروری طور پر چلتی رہتی ہیں، اور پلاسٹک کا استعمال جوں کا توں رہتا ہے۔
بنیادی نکتہ
دستاویز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ “بڑے اور وسائل استعمال کرنے والے پروگرام اکثر اسی پیغام سے متصادم ہوتے ہیں جو وہ دینا چاہتے ہیں۔” یعنی ماحول کے تحفظ کا پیغام دینے والے ادارے خود اپنے اقدامات سے ماحولیاتی بوجھ میں اضافہ کر دیتے ہیں۔
کلائمیٹ ایکشن اسکلز کی نئی دستاویز نے اس روایت پر جو سوالات اٹھائے ہیں، وہ نہایت اہم اور بروقت ہیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ جواب یہی ہے کہ جب تک احتساب نہیں ہوگا اور جب تک دکھاوے کو کام سمجھا جاتا رہے گا، بہتری ممکن نہیں۔
باہمی رابطے کا فقدان
پاکستان میں ماحولیاتی شعور کے لیے کام کرنے والے اداروں، این جی اوز، سرکاری محکموں اور نجی تنظیموں کی تعداد کافی ہے، لیکن ان کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجتاً ایک ہی شہر میں ایک ہی موضوع پر متعدد تقریبات منعقد ہو جاتی ہیں، مگر ان کا مجموعی اثر نہ ہونے کے برابر رہتا ہے۔
“جب ہر ادارہ اپنے آپ کو پہلا اور واحد سمجھتا ہو تو مجموعی اثر صفر ہو جاتا ہے، وسائل تقسیم ہو جاتے ہیں اور پیغام بکھر جاتا ہے۔”
دستاویز اس بات پر زور دیتی ہے کہ موجود وسائل اور ذرائع کا بہتر استعمال کیا جائے۔ اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
ایک جیسی سرگرمیوں کی بار بار تکرار سے عوام میں ماحولیاتی تھکن پیدا ہوتی ہے
رابطے کے فقدان سے وسائل ضائع ہوتے ہیں
مشترکہ بیانیہ نہ ہونے کی وجہ سے رویوں میں حقیقی تبدیلی نہیں آتی
خود ساختہ ماہرین
پاکستان میں ایک اور تشویشناک رجحان خود ساختہ ماحولیاتی ماہرین کا ہے، جو بغیر کسی مضبوط تعلیمی یا عملی بنیاد کے خود کو ماہر ظاہر کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے، جہاں چند وائرل پوسٹس اور بین الاقوامی کانفرنسوں کی تصاویر کسی کو بھی ماہر بنا دیتی ہیں۔
یہ افراد مختلف اداروں میں جا کر پیچیدہ اصطلاحات کے ذریعے سادہ معلومات پیش کرتے ہیں، بھاری معاوضہ لیتے ہیں اور پیچھے الجھن اور غلط فہمیاں چھوڑ جاتے ہیں۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ “ماحولیاتی شعور ہر فرد کے لیے قابلِ عمل ہونا چاہیے۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پیغام عام آدمی کی سمجھ اور وسائل سے مطابقت نہ رکھتا ہو تو وہ مؤثر نہیں رہتا۔
پاکستان کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو مقامی مسائل کو مقامی زبان میں سمجھا سکیں، نہ کہ صرف بین الاقوامی فورمز پر نمائندگی تک محدود رہیں۔

اصل ہدف کیا ہے؟
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا تمام سرگرمیوں کا مقصد واقعی ماحول کا تحفظ ہے یا کچھ اور۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی تنظیموں کے لیے ماحولیاتی دن فنڈنگ حاصل کرنے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ان مواقع پر بین الاقوامی اداروں، سرکاری گرانٹس اور کارپوریٹ اسپانسرز تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔
تقریبات جتنی بڑی ہوں، رپورٹس جتنی مفصل ہوں، اگلے سال فنڈنگ کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ اصل ماحولیاتی بہتری پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
دستاویز میں اگرچہ براہ راست الفاظ استعمال نہیں کیے گئے، لیکن یہ ضرور کہا گیا ہے کہ:
“نمائش کے بجائے عملی شرکت پر توجہ دی جائے، اضافی بجٹ اور مہنگی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے۔”
بڑے اخراجات کرنے والے مگر عملی اقدامات سے محروم ادارے محض نمائشی کردار ادا کرتے ہیں
بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت خود ایک ماحولیاتی بوجھ بن سکتی ہے
بعض تنظیمیں اسپانسرز کے مفادات کے باعث ماحولیاتی نقصانات پر خاموش رہتی ہیں
گرین واشنگ ایک ابھرتا ہوا رجحان بن چکا ہے
آگے کا راستہ
اس دستاویز کی اہمیت اس میں ہے کہ یہ پورے نظام کا غیر جانب دارانہ جائزہ پیش کرتی ہے اور اداروں کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔
“آج کے حالات کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ کیا آپ واقعی وہی کر رہے ہیں جس کا دعویٰ کرتے ہیں؟”
یہ سوال پاکستان کے بیشتر اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہیں، اس لیے ماحولیاتی کام صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔
“ماحولیاتی دن یاد دہانی ہوتے ہیں، منزل نہیں۔ ان کی اصل اہمیت اس عمل میں ہے جو ان کے بعد بھی جاری رہے۔”
مجتبیٰ بیگ، بانی، کلائمیٹ ایکشن اسکلز، کراچی
آنے والے ہفتوں میں یوم ارض، یوم حیاتیاتی تنوع اور عالمی یومِ ماحول قریب ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اس بار ادارے روایتی طرزِ عمل کو دہراتے ہیں یا کوئی حقیقی تبدیلی لاتے ہیں۔
یہ رپورٹ کلائمیٹ ایکشن اسکلز کی جاری کردہ رہنما دستاویز
“Guidelines for Thoughtful, Low-Impact Observance of Environmental Days Across Pakistan”
پر مبنی تجزیہ ہے۔

Leave a Reply