کلائمیٹ اردو | 22 اپریل 2026 | ماحولیاتی ڈیسک
ہر سال 22 اپریل کو دنیا ‘زمین کا عالمی دن’ مناتی ہے، مگر سروے بتاتے ہیں کہ اکثریت صرف نام جانتی ہے۔ اس دن کے پیچھے موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی کا شعور بیدار کرنے کی جو داستان ہے وہ بہتوں کو معلوم نہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں تو یہ دن منانا اور نہ منانا اکثر ایک برابر ہو جاتا ہے۔

نام سب جانتے ہیں مگر اندر کی کہانی کچھ اور ہے

ماحولیاتی شعور کے عالمی اداروں کے سروے بار بار یہی نتیجہ دیتے ہیں: دنیا کی تقریباً 60 سے 70 فیصد آبادی ‘یوم ارض’ یا ‘Earth Day’ کا نام سن کر سر ہلا دیتی ہے، مگر جب پوچھا جائے کہ یہ دن کیوں منایا جاتا ہے، اس کا ماحولیاتی شعور سے کیا تعلق ہے، یا اس سال کی تھیم کیا ہے۔ تو جواب دینے والوں کی تعداد 25 سے 30 فیصد سے زیادہ نہیں جاتی۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ تناسب اور بھی کم ہے۔

یوم ارض کا حال کچھ ایسا ہے جیسے کسی شاعر کا نام سب جانتے ہوں، مگر اس کا کلام کسی نے نہ پڑھا ہو۔
ماحولیاتی شعور: ماحولیاتی شعور سے مراد یہ جاننا اور سمجھنا ہے کہ ہمارے روزمرہ کے افعال؛ گاڑی چلانا، پلاسٹک استعمال کرنا، درخت کاٹنا؛ زمین، فضا اور موسم پر کیا اثر ڈالتے ہیں۔

یوم ارض ہے کیا؟ سب سے آسان تعریف

یوم ارض یا زمین کا عالمی دن ہر سال 22 اپریل کو منایا جانے والا وہ دن ہے جب دنیا بھر کے لوگ، تنظیمیں اور حکومتیں اپنی زمین، فضا، سمندروں اور جنگلات کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ اس کا آغاز 22 اپریل 1970 کو امریکہ سے ہوا، جب سینیٹر گیلارڈ نیلسن نے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف دو کروڑ امریکیوں کو سڑکوں پر اکٹھا کیا۔ آج یہ دن 193 سے زائد ممالک میں منایا جاتا ہے اور اسے دنیا کا سب سے بڑا سیکولر سول ایونٹ قرار دیا جاتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی: موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کا مطلب ہے کہ زمین کا مجموعی درجہ حرارت انسانی سرگرمیوں خصوصاً کوئلے اور تیل کے جلانے کی وجہ سے بڑھ رہا ہے، جس سے بارشوں، سیلابوں، خشک سالی اور طوفانوں کا نظام بدل رہا ہے۔

مقاصد کیا ہیں؟ صرف درخت لگانا نہیں

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یوم ارض کا مطلب ہے ایک دن درخت لگا دو اور فارغ ہو جاؤ۔ حقیقت میں اس دن کے پیچھے ایک مکمل ماحولیاتی ایجنڈا ہے جس میں گلوبل وارمنگ کو محدود کرنا، پلاسٹک آلودگی ختم کرنا، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینا، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، اور سب سے بڑھ کر عوامی سطح پر ماحولیاتی شعور پیدا کرنا شامل ہے۔ یوم ارض منانے کے پلیٹ فارم earthday.org کے مطابق اس تنظیم کا ہدف 2030 تک 30 ارب درخت لگانا اور پلاسٹک کے استعمال میں 60 فیصد کمی لانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تعلیم کے شعبہ میں اُمید کی کرن
گلوبل وارمنگ: گلوبل وارمنگ یعنی زمین کا درجہ حرارت گرین ہاؤس گیسوں (جیسے CO₂) کی وجہ سے مسلسل بڑھنا۔ اگر یہ 1.5 ڈگری سیلسیس سے اوپر گیا تو گلیشیئر پگھلنے، سمندر بلند ہونے کے علاوہ طوفانوں، سیلابوں اور گرمی کی لہروں کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہو گا۔

یوم ارض کی ہر سال نئی تھیم کیوں؟

یہ بھی بڑی دلچسپ بات ہے کہ پہلے والی تھیم پر عمل ہوا ہو یا نہ مگر یوم ارض ہر سال ایک نئی تھیم کے ساتھ آتا ہے۔ 2024 کی تھیم تھی Planet vs. Plastics یعنی پلاسٹک کے خلاف زمین کی جنگ او 2025 کی تھیم ہے Our Power, Our Planet یعنی ہماری طاقت ہمارا سیارہ۔

یہ تھیمیں محض نعرے نہیں، بلکہ یہ ہر سال کے ماحولیاتی ایجنڈے کا محور ہوتی ہیں جن کے گرد مہمات، قانون سازی اور عوامی آگاہی منظم ہوتی ہے۔ جیسے کسی رسالے کا ایڈیٹوریل فوکس ہوتا ہے، ویسے ہی ہر سال کی تھیم دنیا کو بتاتی ہے کہ اس وقت سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ کیا ہے۔

ترقی یافتہ بمقابلہ ترقی پذیر ممالک میں یوم ارض منانے کے الگ طریقے

جرمنی، سویڈن یا کینیڈا میں یوم ارض کا مطلب ہے: اسکولوں میں ماحولیاتی شعور کی کلاسیں، حکومتی اداروں کے ہدف اعلانات، کمپنیوں کی ‘نیٹ زیرو’ حکمت عملیاں، اور عوامی مقامات پر کچرا اٹھانے کی مہمات۔ یہ دن وہاں ایک پالیسی پیش رفت کا موقع ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ماحولیاتی دن؛ شعور کا جشن یا وسائل کا ضیاع
یوم ارض
تصویر لوڈ نہیں ہو سکی۔ براہ کرم یہاں کلک کریں تصویر دیکھنے کے لیے۔

دوسری طرف بنگلہ دیش، نائیجیریا یا پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں تصویر مختلف ہے۔ یہاں وہ ممالک ہیں جو ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہے ہیں مگر اس کا مقابلہ کرنے کی مالی اور ادارہ جاتی صلاحیت سب سے کم ہے۔ ستم یہ کہ گلوبل وارمنگ میں ان کا حصہ سب سے کم ہے، لیکن نقصان سب سے زیادہ انہی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں مگر کاربن اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یعنی سزا اسے ملتی ہے جس نے جرم نہیں کیا۔

پاکستان: منانا اور نہ منانا ایک برابر کیوں؟

پاکستان میں ہر سال یوم ارض آتا ہے، سرکاری اداروں کے اعلامیے جاری ہوتے ہیں، این جی اوز سیمینار کرتی ہیں، اخبارات میں کالم چھپتے ہیں، اور پھر 23 اپریل کو سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ کراچی کے ندی نالے پھر سے کچرے سے بھر جاتے ہیں، لاہور کا اے کیو آئی (ہوا کا معیار) پھر ‘خطرناک’ زون میں چلا جاتا ہے، اور جنگلات کٹائی کی رفتار میں کوئی فرق نہیں آتا۔

اس کی وجہ کمزور گورننس ہے یعنی ادارے کمزور، قوانین موجود مگر نافذ نہیں، احتساب نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماحولیاتی قوانین کاغذ پر خوبصورت ہیں، مگر ای پی اے (انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی) کے ادارے اتنے کمزور ہیں کہ فیکٹری مالکان سے لے کر کچرا پھینکنے والوں تک کوئی ڈرتا نہیں۔

ای پی اے: پاکستان کے ہر صوبے میں ماحول کے تحفظ کا ادارہ ہے جس کا کام ہر قسم کی ماحولیاتی آلودگی کو ماحولیاتی قوانین نافذ کرکے روکنا ہے اور آلودگی پھیلانے والوں پر عدالتوں سے جرمانے عائد کرانا اور سزائیں دلوانا ہے۔ اس کے علاوہ ہر قسم کی ترقیاتی اور پیداواری سرگرمی میں ماحول کو نقصان نہ ہونے دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
کمزور گورننس: گورننس کا مطلب ہے حکومت اور اداروں کا نظم و نسق۔ جب قوانین بنتے ہیں مگر لاگو نہیں ہوتے، سرکاری ادارے بے اختیار ہوں اور احتساب نہ ہو تو اسے کمزور گورننس کہتے ہیں۔
«جس ملک میں کچرے کا قانون لاگو نہ ہو، وہاں ماحولیاتی ایجنڈا رکھنا ایسے ہے جیسے ٹوٹے چھت تلے بارش سے بچاؤ کی تقریر کریں۔»

پاکستان میں یوم ارض منانے کا طنزیہ انداز

سوشل میڈیا پر ہر 22 اپریل کو ایک مخصوص قسم کا مواد وائرل ہوتا ہے: لاہور کی سموگ کے ساتھ ‘Happy Earth Day’ کا کیپشن، ندی میں تیرتے کچرے پر ‘ہم نے اپنا کردار ادا کر دیا’ کا میم، یا صنعتی علاقے کی تصویر کے ساتھ ‘ماحولیاتی شعور زندہ باد’ کا طنزیہ تبصرہ۔ یہ مذاق بے مقصد نہیں یہ اس بے بسی کا اظہار ہے جو عام شہری محسوس کرتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ نظام اسے سنتا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شجرکاری کب فائدہ دیتی ہے اور کب نقصان؟

ماحولیاتی صحافی اور محققین اسے Eco-Cynicism یا ماحولیاتی یاسیت کہتے ہیں جب لوگ مسئلے کو سمجھتے بھی ہیں، محسوس بھی کرتے ہیں، مگر تبدیلی کی امید چھوڑ دیتے ہیں۔

موقع پرست: جن کے لیے یوم ارض سنہری دن ہے

کچھ لوگوں کے لیے زمین کا عالمی دن ایک بھرپور موقع ہوتا ہے۔ این جی اوز اور بین الاقوامی ترقیاتی ادارے اس دن نئے پروجیکٹ لانچ کرتے اور فنڈنگ حاصل کرتے ہیں۔ کارپوریٹ کمپنیاں ‘گرین’ یا ‘ماحول دوست’ اشتہارات چلاتی ہیں۔ چاہے ان کی پروڈکشن لائن سے دن رات دھواں اٹھتا ہو، اس عمل کو ‘گرین واشنگ’ کہتے ہیں۔ سیاستدان درخت لگانے کی تصاویر کھنچواتے ہیں جو انتخابی مہم کا حصہ ہوتی ہیں۔ ماحولیاتی مشیر اور کنسلٹنٹ رپورٹیں بناتے اور معاوضہ لیتے ہیں۔

کراچی میں ایک فرد نے ماحولیاتی تقریبات منانے کو کاروبار بنالیا ہے اور پورے شعبہ ماحولیات میں کسی میں ہمت نہیں کہ اُس کے خلاف ایک لفظ بھی کہہ سکے شاید اسی کو ماحولیاتی دھونس جمانا کہتے ہیں۔

یہ وہ طبقہ ہے جو یوم ارض کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ ‘مناتا’ ہے۔ مگر زمین کے لیے اس کا فائدہ اکثر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

بددلی سے منانے والے: جو جانتے بھی ہیں، مگر مایوس بھی ہیں

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو واقعی ماحولیاتی مسائل کو گہرائی سے سمجھتے ہیں ماحولیاتی سائنسدان، ایماندار موسمیاتی صحافی، کلائمیٹ ایکٹیوسٹ اور ماحول دوست افراد و گروہ۔ یہ ہر یوم ارض کو ایک قسم کی تکلیف کے ساتھ مناتے ہیں۔ ان کے لیے یہ دن ان رپورٹوں کی یاددہانی ہے جو بتاتی ہیں کہ کاربن اخراج ابھی بھی ریکارڈ سطح پر ہے، سمندر گرم ہو رہے ہیں، گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور عالمی سطح پر کی گئی پیشرفت ناکافی ہے۔

«ان کی بددلی جہالت سے نہیں، علم کی زیادتی سے آتی ہے وہ جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، اور اسی لیے تکلیف میں ہیں۔»

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

یوم ارض کو صرف سوشل میڈیا پوسٹ نہ بننے دیں۔ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی سے لڑنا حکومتوں کا کام ہے۔ مگر ماحولیاتی شعور پیدا کرنا ہمارا یعنی کمیونٹی کا بھی کام ہے۔ آج سے شروع کریں:

  • گھر میں سنگل یوز پلاسٹک کا استعمال بند کریں
  • ایک درخت لگائیں اگر نہیں تو کسی تنظیم کے توسط سے لگوائیں
  • اپنے علاقے کے EPA یا ضلعی ماحولیاتی دفتر میں شکایت کا طریقہ سیکھیں
  • بچوں کو یوم ارض کا مطلب سمجھائیں کیونکہ یہ اگلی نسل کی زمین ہے
  • یہ مضمون آگے شیئر کریں کیونکہ ماحولیاتی شعور پھیلانا بھی ایک قدم ہے

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یوم ارض محض ایک دن سے بڑھ کر ہے تو یہ مضمون ضرور شیئر کریں اور بتائیں کہ آپ اپنے گھر یا محلے میں کون سا ایک قدم اٹھا سکتے ہیں۔

#یوم_ارض #زمین_کا_عالمی_دن #موسمیاتی_تبدیلی #ماحولیاتی_آلودگی #گلوبل_وارمنگ #ماحولیاتی_شعور #پاکستان #EarthDay2025

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *