کراچی کے سینے پر ہر روز ایک نئی چوٹ لگتی ہے، وہ آری کی چوٹ جو رات کی تاریکی میں چلتی ہے اور صبح تک ایک پرانا، گھنا، سایہ دار درخت بس ایک ٹھوٹھ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس بار جو ہو رہا ہے وہ خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ کراچی کے درختوں کی کٹائی ایک سرکاری مہم کے نام پر ہو رہی ہے جس کا مقصد شہر کو “سرسبز” کرنا بتایا جاتا ہے۔
کونوکارپس کے نام پر اور کیا کچھ کاٹا جا رہا ہے؟
کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے کچھ عرصے سے ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد شہر میں لگے ہوئے کونوکارپس کے درختوں کو ہٹا کر مقامی انواع لگانا ہے۔ اصولی اعتبار سے اس سوچ میں منطق ہے۔ کونوکارپس پاکستانی نہیں بلکہ غیر مقامی نوع ہے جسے 2008 میں تیزی سے بڑھنے اور شہری آلودگی برداشت کرنے کی صلاحیت کے باعث بڑے پیمانے پر لگایا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ درخت ساحلی علاقوں کے لیے زیادہ موزوں ہے اور اس کے پھول الرجی اور سانس کی تکالیف کا باعث بن سکتے ہیں۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ زمین پر یہ مہم صرف کونوکارپس ہٹانے تک محدود نہیں رہی۔
ہارٹیکلچر کے ایک ماہر نے لگنم کے درختوں کی کٹائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوع کو ماحولیاتی اہمیت کے باعث تحفظ اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مہم صرف کونوکارپس ہٹانے کی تھی تو لگنم کیوں کاٹا گیا؟ اس سوال کا جواب ابھی تک کوئی ادارہ واضح طور پر نہیں دے رہا۔
لگنم (Conocarpus lancifolius) کراچی کے ساحلی اور شہری ماحول میں کئی دہائیوں سے پروان چڑھتا رہا ہے۔ یہ درخت گہرا سایہ دیتا ہے، آکسیجن کی پیداوار زیادہ ہے، شہری گرمی کم کرنے میں مؤثر ہے اور اس کی لمبی عمر شہری اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے۔ پرانے لگنم کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور یہ سالوں میں تیار ہوتا ہے، اسے دوبارہ لگا کر فوری متبادل حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ نوٹ: لگنم اور کونوکارپس مختلف انواع ہیں۔
کراچی کا گرین کور آخر کتنا بچا ہے؟
گرین کور محض درختوں کی گنتی نہیں، اس میں پارکس، گھاس، سبز پٹیاں، جھاڑیاں، شہری جنگلات، باغات اور نباتاتی رقبہ سب شامل ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور شہری ماحولیات کے گہرے تعلق کو سمجھنے کے لیے یہ تفصیلی مضمون پڑھیں۔ کراچی کے معاملے میں یہ تعریف خود ہی اس کی ناکامی کی کہانی بیان کر دیتی ہے۔
گرین کور سے مراد کسی شہر کا وہ کل رقبہ ہے جو نباتاتی احاطے میں آتا ہو، یعنی درخت، پارکس، گھاس کے میدان، سبز پٹیاں، باغات، جھاڑیاں، شہری جنگلات اور کھلی سبز زمینیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی بستیاں کے معیار کے مطابق کسی بھی شہر میں یہ کم از کم 25 فیصد ہونا چاہیے۔
درختوں کی گنتی کیوں نہیں؟
دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے اس شہر میں آج تک باقاعدہ “درخت شماری” نہیں ہوئی۔ کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں جو بتائے کہ کراچی میں اس وقت کتنے درخت ہیں، کون کون سی انواع ہیں، کہاں ہیں اور ان کی صحت کیسی ہے۔
کراچی کی شجرکاری کی تاریخ یہ ہے کہ تقسیم سے لے کر ساٹھ کی دہائی تک مقامی درخت لگائے گئے، ستر کی دہائی میں ناریل، اسی اور نوے کی دہائیوں میں لگنم اور یوکلپٹس، اور 2000 کی دہائی میں کونوکارپس کا دور آیا۔ لیکن یہ سب تاریخی مشاہدات ہیں، ادارہ جاتی ریکارڈ نہیں۔
شہری ماحولیات میں آج سب سے مستند معیار “3-30-300 اصول” ہے، جو 2021 میں عالمی شہری جنگلات کے ماہر سیسل کونینیندجک نے پیش کیا اور اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے یورپ نے اسے اپنی پالیسی میں شامل کیا:
کراچی میں کوئی سرکاری ڈیٹا موجود نہیں جس کی بنیاد پر یہ تینوں پیمانے ناپے جا سکیں، اور یہ خود ایک بڑی ادارہ جاتی ناکامی ہے۔
کراچی کا سبزہ کیوں ختم ہوا؟
یہ دہائیوں کی غلط ترجیحات، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور ادارہ جاتی بے حسی کی مشترکہ داستان ہے۔ بے ہنگم ہاؤسنگ اسکیموں نے شہر کے اطراف میں قدرتی سبز علاقے نگل لیے۔ سڑکوں کی توسیع کے نام پر سینکڑوں پرانے درخت کاٹے گئے۔ کمرشل تجاوزات نے سبز پٹیوں کو ختم کیا۔ زیر زمین بنیادی ڈھانچے کی تنصیب میں درختوں کی جڑیں قربان ہوئیں۔ پارکنگ اور ٹریفک کی ضروریات نے سبز جگہیں سیمنٹ میں ڈھانپ دیں۔
کراچی کی شدید گرمی محض موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں۔ زمین اور موسمیاتی تبدیلی کے درمیان گہرے تعلق کو سمجھنے کے لیے یہ تجزیہ ضرور پڑھیں۔ گرمی کا ایک بڑا حصہ اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ سے آتا ہے جو شہری سطح پر درختوں کے خاتمے اور کنکریٹ کی بھرمار سے پیدا ہوتا ہے۔
جب کسی شہر میں درختوں کی جگہ کنکریٹ اور اسفالٹ لے لے تو یہ مواد دن میں سورج کی حرارت جذب کرتے اور رات کو اسے آہستہ آہستہ خارج کرتے ہیں۔ نتیجتاً شہر کا اوسط درجہ حرارت آس پاس کے دیہی علاقوں سے کہیں زیادہ ہو جاتا ہے۔ درخت اس اثر کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ سایہ فراہم کرتے اور نمی خارج کرتے ہیں۔
ادارے خاموش کیوں ہیں؟
کراچی میں درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری کسی ایک ادارے کے پاس نہیں۔ کے ایم سی کا محکمہ پارکس، فاریسٹ ڈپارٹمنٹ، محکمہ ماحولیات، ضلعی انتظامیہ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی جیسے ادارے جزوی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ جب ذمہ داری اس طرح تقسیم ہو تو ہر ادارہ ذمہ داری دوسرے پر ڈال دیتا ہے۔
محکمہ ماحولیات کے ذرائع کے مطابق لگنم کے درختوں کی کٹائی کے بارے میں ایک رپورٹ تیار ہوئی ہے، لیکن اس کی سفارشات عام نہیں کی گئیں۔ کوئی افسر واضح طور پر نہیں بتا رہا کہ ذمہ داری کس پر ڈالی گئی اور کارروائی کب ہوگی۔ یہ خاموشی جواب سے زیادہ شور مچاتی ہے۔
سندھ میں غیر قانونی درخت کاٹنا ماحولیاتی قوانین کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ سیپا (سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی) کو خلاف ورزیوں پر جرمانہ عائد کرنے اور مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے متعدد مرتبہ درختوں کو عوامی ورثہ قرار دیتے ہوئے ان کی حفاظت لازمی قرار دی ہے، مگر عملاً ان قوانین کا نفاذ نہ ہونے کے برابر ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم کا کیا ہوا؟
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ماضی میں شہری علاقوں میں غیر قانونی درختوں کی کٹائی روکنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے واضح احکامات جاری کیے ہیں۔ حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ نے شاہراہ فیصل پر درختوں کی کٹائی کو چیلنج کرنے والی ایک شہری درخواست پر کے ایم سی اور سیپا کو جواب دینے کا حکم دیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومتیں عدالت عالیہ کے فیصلوں پر حقیقی معنوں میں عمل کریں تو نئی ماحولیاتی پالیسی بنانے کی ضرورت بھی نہ پڑے، اصل مسئلہ قوانین کا نفاذ ہے، نہ کہ قوانین کا نہ ہونا۔
شجرکاری یا تصویری مہم؟
کے ایم سی اور سندھ حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً شجرکاری مہمات کا اعلان ہوتا ہے۔ ہر مون سون میں پودے لگانے کی تقریبات ہوتی ہیں، تصاویر بنتی ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں آتی ہیں۔ سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہر 10 درختوں کے کاٹے جانے پر 10 نئے درخت لگائے جائیں گے، لیکن اس کی کوئی باقاعدہ مانیٹرنگ نہیں۔ ایل نینو اور موسمیاتی مالیات جیسے عالمی عوامل کا پاکستان پر اثر جاننے کے لیے یہ تجزیہ ملاحظہ کریں۔
کاربن سیکویسٹریشن وہ قدرتی عمل ہے جس میں درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے اسے اپنے تنے، جڑوں اور زمین میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ پرانے، بڑے درخت چھوٹے پودوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ کاربن ذخیرہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک صدی پرانا درخت کاٹ کر اس کی جگہ نیا پودا لگانا ماحولیاتی نقطہ نظر سے نقصان کا سودا ہے۔
مٹی کے نمونے لینا، پانی کی دستیابی جانچنا، مقامی ماحولیاتی موزونیت جانچنا اور بعد از شجرکاری مانیٹرنگ کرنا، یہ سب ابھی باقاعدہ نظام کا حصہ نہیں بن سکا۔ شجرکاری مہمات اکثر منقطع اور خلا میں معلق ہوتی ہیں۔
کراچی کے مقامی اور موزوں درخت
ماہرین ماحولیات کے مطابق یہ درخت کراچی کی آب و ہوا اور شہری ماحول کے لیے سب سے موزوں ہیں:
مقامی نوع، گھنا سایہ، دواؤں کی خصوصیات، شہری آلودگی برداشت کرتا ہے
مقامی نوع، رات کو بھی آکسیجن، گہری جڑیں، دیرپا سایہ
مقامی نوع، وسیع چھت، پرندوں کا مسکن، شہری گرمی کم کرتا ہے
تقریباً مقامی، شاندار لال پھول، گرمیوں میں سایہ اور حسن
مقامی، پیلے پھول، گھنا سایہ، ساحلی آب و ہوا میں بہترین
مقامی پھل دار، پرندوں اور انسانوں کے لیے مفید، گہرا سایہ
مقامی، مضبوط لکڑی، شہری سڑکوں کے کنارے موزوں
کراچی کی گرمی میں تیز نشوونما، گھنا سایہ
خوبصورت پھول، اچھا سایہ، درمیانے درجے کا درخت
کراچی میں درخت کون بچائے گا؟
کراچی میں مؤثر ماحولیاتی کارکن نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں شہری مہمات اور درخت بچاؤ تحریکیں نسبتاً زیادہ منظم ہیں۔ کراچی میں نہ کوئی مستقل احتجاج ہے، نہ مؤثر سوشل میڈیا مہم، نہ عوامی دباؤ، نہ سول سوسائٹی کی مستقل نگرانی۔ کراچی میں درختوں کی کٹائی ایک معمول بن چکی ہے جس پر شہر کا ضمیر سوچتا ہی نہیں۔ میڈیا میں خبریں آتی ہیں، ٹاک شوز میں چرچہ ہوتا ہے اور پھر خاموشی۔
کراچی میں درختوں کی کٹائی ایک سیاسی، ادارہ جاتی اور شہری ناکامی ہے۔ کے ایم سی نے مہم شروع کی مگر نگرانی نہیں رکھی۔ محکمہ ماحولیات نے رپورٹ بنائی مگر سفارشات چھپا لیں۔ عدالتوں نے حکم دیے مگر عمل نہیں ہوا۔ شہریوں نے شکایت کی مگر مستقل آواز نہیں اٹھائی۔ جب آخری سایہ دار درخت بھی گر جائے گا تو کون جواب دے گا؟
آپ کی رائے اہم ہے
آپ کے علاقے میں شجرکاری کی کیا صورت حال ہے؟ کیا آپ کے محلے میں پرانے درخت کاٹے جا رہے ہیں؟ کیا نئے پودے لگائے جا رہے ہیں اور ان کی دیکھ بھال ہو رہی ہے؟ اپنا تجربہ ضرور بتائیں، کراچی کی ہر گلی کی کہانی اہم ہے۔


Leave a Reply