شہر کی گرمی اور درختوں کی ٹھنڈک ایک نئی تحقیق جو پاکستان کے لیے بہت اہم ہے
بیلجیم کی ایک جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں، ہم جانیں گے کہ کب درخت ٹھنڈک دیتے ہیں، کب نہیں، اور پاکستان کے شہروں میں اس کا کیا مطلب ہے
جب شہر پک جاتا ہے
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیوں شہر کے درمیان میں سب سے زیادہ گرمی ہوتی ہے؟ کیوں لاہور یا کراچی کے مرکزی علاقوں میں درجہ حرارت نواحی علاقوں سے پانچ سے سات ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوتا ہے؟ اس کی وجہ ہے “شہری گرمی کا جزیرہ”، جسے انگریزی میں Urban Heat Island کہتے ہیں۔
جب شہر میں عمارات، سڑکیں، اور کنکریٹ کی سطحیں سورج کی روشنی جذب کرتی ہیں تو وہ رات تک حرارت خارج کرتی رہتی ہیں۔ اس سے شہر کا درجہ حرارت ارد گرد کے دیہی علاقوں سے کئی ڈگری زیادہ رہتا ہے۔ اسے شہری گرمی کا جزیرہ کہتے ہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کے شہروں میں گرمی نے ناقابل یقین حدیں پار کر دی ہیں۔ مئی 2024 میں موئن جو دڑو کا درجہ حرارت تقریباً 52.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔ کراچی میں 2015 کی لہر نے 1200 سے زائد افراد کی جانیں لے لیں۔ اور یہ صرف آغاز ہے۔
مئی 2024
2015 کی لہر میں
اقوام متحدہ کی رپورٹ
گزشتہ 20 سالوں میں
📚 مزید جانیں: www.climateurdu.com/mosamyati-tabdeeli پر شہری گرمی کے جزیرے پر ہماری تفصیلی تحقیقی رپورٹ پڑھیں
ایک نئی تحقیق جو سب کچھ بدل سکتی ہے
حال ہی میں بیلجیم کے شہر لیوون میں ایک تحقیق ہوئی جس نے شہری سبز علاقوں کی ٹھنڈک کی صلاحیت کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ اس تحقیق میں 125 شہری موسمیاتی سٹیشنوں سے تین سال تک (2022 تا 2024) اعداد و شمار اکٹھے کیے گئے۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کون سے درخت اور کون سی گھاس شہر کو ٹھنڈا کرنے میں زیادہ مؤثر ہیں، اور موسمی حالات کیسے ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ تحقیق پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ہمارے ہاں بھی درخت لگانے کی مہمات تو چلتی ہیں، لیکن کسی نے نہیں سوچا کہ کب اور کیسے لگانے چاہییں۔ صرف “درخت لگاؤ” کا نعرہ کافی نہیں، بلکہ “سمجھ بوجھ کر درخت لگاؤ” کی ضرورت ہے۔
تحقیق میں درختوں کو “ہائی گرین” (HG) اور گھاس و جھاڑیوں کو “لو گرین” (LG) کا نام دیا گیا۔ ان دونوں کی ٹھنڈک کی شرح مختلف موسمی حالات میں ناپی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹھنڈک دینا کوئی سادہ کام نہیں، بلکہ یہ ہوا، پانی، سورج کی روشنی، اور درجہ حرارت کے پیچیدہ کھیل پر منحصر ہے۔
🌍 کلائمیٹ فنانس اور شہری منصوبہ بندی کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ہمارا بلاگ دیکھیں: climateurdu.com/blog
درخت دن میں، گھاس رات میں
تحقیق کا سب سے حیران کن نتیجہ یہ نکلا کہ درخت اور گھاس دونوں کا کردار وقت کے لحاظ سے مختلف ہے۔ دن میں بادشاہ درخت ہوتے ہیں، لیکن رات کو تختہ پلٹ جاتا ہے۔
دن کے وقت: درختوں کا دور
فی فیصد ٹھنڈک۔ درخت سورج کی روشنی کو روکتے ہیں اور پانی کے بخارات کے ذریعے ٹھنڈک پیدا کرتے ہیں۔ لیکن یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہوا خشک ہو اور زمین میں نمی موجود ہو۔
رات کے وقت: گھاس کا دور
فی فیصد ٹھنڈک۔ گھاس اور جھاڑیاں رات کو درختوں سے زیادہ ٹھنڈک دیتی ہیں۔ درخت رات کو لمبی لہریں روک دیتے ہیں، جبکہ گھاس کی سطح چھوٹی ہونے کی وجہ سے حرارت آسانی سے خارج ہو جاتی ہے۔
یہ وہ عمل ہے جس میں پودے اپنی جڑوں سے پانی کھینچ کر پتوں سے بخارات کی شکل میں خارج کرتے ہیں۔ اس عمل میں حرارت خرچ ہوتی ہے، جس سے ارد گرد کی فضا ٹھنڈی ہوتی ہے۔ یہ پودوں کی “قدرتی ایئر کنڈیشننگ” ہے۔
لیوون کی تحقیق کے مطابق رات کو گھاس اور جھاڑیوں کی ٹھنڈک کی شرح منفی 0.089 ڈگری سینٹی گریڈ فی فیصد تک پہنچتی ہے، جبکہ درختوں کی صرف منفی 0.033 ڈگری سینٹی گریڈ فی فیصد ہوتی ہے۔ اس کے برعکس دن کے وقت درختوں کی ٹھنڈک منفی 0.027 ڈگری سینٹی گریڈ فی فیصد جبکہ گھاس کی صرف منفی 0.012 ڈگری سینٹی گریڈ فی فیصد ہوتی ہے۔
💡 شہری سبز علاقوں کی منصوبہ بندی کے بہترین طریقوں کے لیے ملاحظہ کریں: www.climateurdu.com/climate-smart-agriculture
وہ موسم جب درخت بھی ہار مان جاتے ہیں
اب یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا درخت ہمیشہ ٹھنڈک دیتے ہیں؟ جواب ہے نہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ چار ایسے موسمی حالات ہیں جب درختوں کی ٹھنڈک کم یا ختم ہو جاتی ہے:
- جب ہوا بہت نم ہو: جب فضا میں نمی بہت زیادہ ہو تو ہوا مزید پانی کے بخارات جذب نہیں کر سکتی۔ درخت پانی خارج کرنا چاہتے ہیں لیکن ہوا لینے کو تیار نہیں ہوتی۔ اس صورت میں درختوں کی ٹھنڈک بہت کم ہو جاتی ہے۔ یہ حالت پاکستان کے ساحلی شہروں جیسے کراچی میں عام ہے جہاں بحیرہ عرب سے نمی آتی رہتی ہے۔
- جب زمین خشک ہو: جب زمین میں پانی نہ ہو تو درخت اپنے پتے بند کر لیتے ہیں تاکہ پانی بچایا جا سکے۔ یہ “اسٹومیٹل کلوجر” کہلاتا ہے۔ اس صورت میں درخت ٹھنڈک دینا تقریباً بند کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں گرمیوں کے موسم میں اکثر یہی حالت بنتی ہے جب بارشیں نہیں ہوتیں۔
- جب سورج بہت تیز ہو: یہ حیران کن بات ہے لیکن تحقیق سے ثابت ہوا کہ جب سورج کی روشنی بہت شدید ہوتی ہے تو درختوں کی ٹھنڈک کم ہو جاتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ درخت سورج کی روشنی جذب کرتے ہیں اور اگر پانی کی کمی ہو تو یہ حرارت واپس خارج ہونے لگتی ہے۔
- جب گرمی کی شدت کم ہو: جب درجہ حرارت بہت زیادہ نہ ہو تو درختوں میں ٹھنڈک دینے کی “مانگ” ہی نہیں ہوتی۔ وہ آرام سے بیٹھے رہتے ہیں اور زیادہ پانی نہیں خارج کرتے۔
پتوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں جنہیں اسٹومیٹا کہتے ہیں۔ جب پانی کی کمی ہوتی ہے تو یہ سوراخ بند ہو جاتے ہیں تاکہ پانی بچایا جا سکے۔ اس سے پانی کے بخارات کم خارج ہوتے ہیں اور ٹھنڈک بھی کم ملتی ہے۔
یہ ہوا میں پانی کے بخارات کی “بھوک” کی پیمائش ہے۔ جب ہوا گرم اور خشک ہوتی ہے تو VPD زیادہ ہوتا ہے، یعنی ہوا مزید پانی جذب کرنے کو تیار ہوتی ہے۔ اس صورت میں پودے زیادہ پانی خارج کرتے ہیں اور زیادہ ٹھنڈک ملتی ہے۔ لیکن جب ہوا نم ہو تو VPD کم ہوتا ہے اور ٹھنڈک بھی کم ملتی ہے۔
🔬 موسمیاتی تبدیلی اور شہری حرارت کے سائنسی پہلوؤں پر مزید پڑھیں: climateurdu.com/march-2026-global-warming
رات کی ٹھنڈک اور اس کے دشمن
گھاس اور جھاڑیاں رات کو ٹھنڈک دیتی ہیں، لیکن ان کی بھی کچھ حدود ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ گھاس کی رات کی ٹھنڈک بھی کئی عوامل پر منحصر ہے:
زیادہ گرمی کا اثر
جب مسلسل کئی دن درجہ حرارت 25 ڈگری سے اوپر رہے تو گھاس بھی تھک جاتی ہے۔ اس کی جڑیں اتنی گہری نہیں ہوتیں جتنی درختوں کی، اس لیے پانی کی کمی اسے جلدی متاثر کرتی ہے۔ تحقیق میں “ہیٹ ایکسیس” کا تصور استعمال کیا گیا، جو مسلسل گرمی کے دنوں کا مجموعی حساب ہے۔
کم سورج کی روشنی
بادلوں والے دنوں میں گھاس کم ٹھنڈک دیتی ہے کیونکہ اسے توانائی نہیں ملتی۔ رات کو بادلوں کی موجودگی میں زمین سے خارج ہونے والی لمبی لہریں واپس آ جاتی ہیں، جس سے ٹھنڈک کم ہوتی ہے۔
نمی والی ہوا
درختوں کی طرح گھاس بھی نمی والی ہوا میں کم ٹھنڈک دیتی ہے۔ VPD کم ہونے کی وجہ سے پانی کے بخارات کم خارج ہوتے ہیں۔
یہ ایک حساب کتاب ہے جو بتاتی ہے کہ کتنے دنوں سے درجہ حرارت ایک خاص حد (مثلاً 25 ڈگری) سے اوپر ہے۔ اگر درجہ حرارت 28 ڈگری ہو اور حد 25 ڈگری ہو تو ایک دن کا ہیٹ ایکسیس 3 ڈگری ہو گا۔ یہ بتاتا ہے کہ پودے کتنی دیر سے “گرمی کے دباؤ” میں ہیں۔
🌡️ شہری گرمی کے جزیرے سے نمٹنے کے طریقوں کے لیے ہمارے ماہرین کی رائے پڑھیں: www.climateurdu.com/elnino-climate-finance
پاکستان کے شہروں کے لیے کیا سبق ہے؟
اب جبکہ ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ کون سی نباتات کب کام آتی ہیں، تو پاکستان کے شہروں کے لیے کچھ واضح سبق نکلتے ہیں۔ ہر شہر کی اپنی آب و ہوا، اپنی مشکلات، اور اپنی ضرورتیں ہیں۔
شہر کا درجہ حرارت گزشتہ بیس سالوں میں 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ 2014 میں سبز علاقے 769 مربع کلومیٹر تھے جو 2024 میں صرف 182 مربع کلومیٹر رہ گئے۔ اس کے برعکس عمارات والا رقبہ 297 سے بڑھ کر 927 مربع کلومیٹر ہو گیا۔ اس صورت صرف درخت لگانا کافی نہیں۔ ہمیں ایسی پلاننگ چاہیے جس میں دن کے لیے درخت اور رات کے لیے گھاس دونوں شامل ہوں۔
یہ شہر پہلے ہی ساحلی نمی کا شکار ہے۔ ایسے میں درخت دن کے وقت بھی مکمل طور پر ٹھنڈک نہیں دے سکتے۔ یہاں زمین میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنانا ہو گا۔ نیویارک یونیورسٹی اور آغا خان یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق کراچی میں فی کس سبز رقبہ صرف 4.17 مربع میٹر ہے، جو عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ 9 مربع میٹر سے آدھا بھی کم ہے۔
ان شہروں میں درختوں کی کٹائی اور غیرقانونی تعمیرات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ یہاں درخت نہ صرف ٹھنڈک دیتے ہیں بلکہ سیلاب سے بھی بچاتے ہیں۔ ایسے میں گہرے جڑوں والے درخت لگانے کی ضرورت ہے جو خشکی بھی برداشت کر سکیں۔
یہاں گرمی انتہائی شدید ہوتی ہے اور بارشیں کم۔ ایسے میں صرف درخت لگانا کافی نہیں، بلکہ پانی کے انتظام کے بغیر درخت زندہ بھی نہیں رہ سکتے۔ یہاں ایسی نباتات لگانا ہوں گی جو کم پانی میں زندہ رہ سکیں، جیسے نیم، برگد، اور صحرائی پودے۔
🏙️ پاکستان کے شہروں میں کلائمیٹ ایکشن کی حکمت عملی کے لیے: www.climateurdu.com/blog
پانی کا انتظام سب سے اہم
اس تحقیق کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ صرف درخت لگانا کافی نہیں، بلکہ ان تک پانی پہنچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بیلجیم کی تحقیق میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ جب زمین میں نمی کم ہوتی ہے تو درختوں کی ٹھنڈک 50 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں بارشوں کا پانی ضائع ہونے کے بجائے اسے ذخیرہ کرنا ہو گا۔ شہروں میں ایسی سطحیں بنانی ہوں گی جو پانی کو زمین میں جذب ہونے دیں۔ سڑکوں کے کنارے درخت لگانے سے پہلے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ ان کی جڑوں تک پانی پہنچ سکے۔
یہ زمین میں پانی کی مقدار کی پیمائش ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ایک خاص حجم کی مٹی میں کتنا پانی موجود ہے۔ تحقیق میں یہ پایا گیا کہ جب VWC کم ہوتا ہے (یعنی زمین خشک ہو) تو درخت اپنی ٹھنڈک کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔
پانی کے انتظام کے عملی اقدامات
- بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے underground tanks بنانا
- سڑکوں اور پارکنگ میں پانی جذب کرنے والی سطحیں استعمال کرنا
- درخت لگانے سے پہلے اس بات کا یقین کرنا کہ پانی کی رسائی ممکن ہے
- شہری فارم ہاؤسنگ میں drip irrigation کا استعمال
- پارکس میں rain gardens بنانا جہاں پانی قدرتی طور پر جمع ہو
💧 پانی کے انتظام اور شہری سبز علاقوں کے بارے میں مزید معلومات: climateurdu.com/karachi-tree-cutting
ایک نیا نظریہ: “موسمی سبز پلاننگ”
اس تحقیق کی روشنی میں پاکستان کو “موسمی سبز پلاننگ” اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں مختلف موسموں کے لیے مختلف پلاننگ کرنی ہو گی، نہ کہ سال بھر ایک ہی طرح کے درخت لگانے ہوں گے۔
گرمیوں کے لیے
ایسے درخت لگانے جو خشکی برداشت کر سکیں۔ گھاس کی جگہ ایسی جھاڑیاں لگانا جو کم پانی میں زندہ رہ سکیں۔ نیم، برگد، اور جامن جیسے درخت بہترین انتخاب ہیں۔
مون سون کے لیے
ایسی نباتات جو زیادہ پانی جذب کر سکیں تاکہ سیلاب کا خطرہ کم ہو۔ یہاں گھاس اور جھاڑیاں بہتر کام کرتی ہیں کیونکہ وہ پانی کو روکتی ہیں۔
سردیوں کے لیے
ایسے درخت جن کے پتے جھڑ جائیں تاکہ سورج کی روشنی گھر تک پہنچ سکے۔ یہاں “ڈی سی ڈی یوز” (Deciduous Trees) بہتر ہیں جو سردیوں میں بغیر پتوں کے ہو جاتے ہیں۔
یہ وہ درخت ہیں جو موسم سرما میں اپنے پتے گرا دیتے ہیں۔ اس سے سورج کی روشنی زمین تک پہنچتی ہے جو سردیوں میں فائدہ مند ہوتی ہے۔ گرمیوں میں ان کے پتے نکل آتے ہیں اور ٹھنڈک دیتی ہیں۔ برگد، پیپل، اور شاہ توت اس کی مثالیں ہیں۔
🌱 موسمی پلاننگ اور شہری جنگلات کے بارے میں ہمارے ماہرین کے مشورے: www.climateurdu.com/balcony-solar-panel
حکومتی اقدامات کی ضرورت
لاہور کا ہیٹ ویو مینجمنٹ پلان 2025-2028 اس سمت میں ایک اچھا قدم ہے۔ اس میں کول روفز، سبز چھتیں، اور شہری جنگلات کی تجویز دی گئی ہے۔ لیکن اس پلان میں ابھی بھی ایک کمی ہے، وہ یہ کہ مختلف نباتات کے لیے مختلف موسمی حالات کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔
حکومت کو چاہیے
- ہر شہر میں “سبز رقبہ کا نقشہ” تیار کرے جس میں بتایا جائے کہ کس علاقے میں کون سی نباتات لگانا مناسب ہے۔
- پانی کے انتظام کے بغیر درخت نہ لگائے۔ اس کے لیے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام لگانے ہوں گے۔
- شہری منصوبہ سازی میں “ٹھنڈک زونز” بنائے جائیں جہاں دن میں درخت اور رات میں کھلی گھاس والے علاقے ہوں۔
- عمارات کی تعمیر میں یہ لازمی کیا جائے کہ ہر عمارت کے گرد اتنی جگہ ہو جہاں درخت لگ سکیں۔
📜 پاکستان میں کلائمیٹ پالیسی اور قانون سازی کے بارے میں: climateurdu.com/zameen-mosamyati-tabdeeli
اختتام
درخت لگانا ایک اچھا کام ہے، لیکن اسے سمجھ بوجھ کر کرنا ہو گا۔ بیلجیم کی یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ ٹھنڈک دینا صرف درختوں کا کام نہیں، بلکہ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں ہوا، پانی، سورج کی روشنی، اور نباتات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
پاکستان کے شہروں میں گرمی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سائنسی طریقے سے سوچنا شروع نہ کیا تو صرف درخت لگانے کی مہمات بھی کارآمد ثابت نہیں ہوں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی مقامی آب و ہوا کو سمجھیں، پانی کے وسائل کا احترام کریں، اور ایسی شہری منصوبہ بندی کریں جو نہ صرف درخت لگائے بلکہ ان کی حفاظت بھی کرے۔
آخر میں ایک بات یاد رکھیں: درخت صرف لگانا نہیں، ان کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اور یہ خیال صرف پانی دینے تک محدود نہیں، بلکہ یہ سمجھنا بھی شامل ہے کہ کب، کیسے، اور کن حالات میں وہ ہمارے شہر کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔ ایک درخت جو پانی کے بغیر لگایا جائے، وہ صرف ایک لکڑی کا کھمبہ ہے جو گرمی اور زیادہ بڑھا سکتا ہے۔
آپ کا شہر کیسا ہے؟
ہمیں بتائیں کہ آپ کے شہر میں گرمی کا حال کیا ہے؟ کیا آپ کے علاقے میں درخت لگانے کی کوششیں ہو رہی ہیں؟ کیا پانی کا انتظام ہے؟
🗣️ ہمیں اپنی رائے دیں
آپ کے شہر کا نام کیا ہے؟ وہاں گرمیوں میں درجہ حرارت کتنا بڑھ جاتا ہے؟ کیا آپ کے خیال میں درخت لگانے کے علاوہ اور کیا اقدامات ضروری ہیں؟
مزید تحقیقی مضامین اور کلائمیٹ فنانس کی تربیت کے لیے ملاحظہ کریں: www.climateurdu.com/blog
© 2026 کلائمیٹ ایکشن اسکلز | جملہ حقوق محفوظ

