کلائمیٹ اردو

آج کل ایک خبر بہت تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ 2026 میں ایل نینو کی وجہ سے دنیا میں گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔ سوشل میڈیا کی زبان میں یہ خبر ایک یقینی تباہی کی طرح پیش کی جا رہی ہے، لیکن سائنس ہمیشہ امکانات کی زبان بولتی ہے، فیصلوں کی نہیں۔

یہی فرق سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو کلائمیٹ فنانس، ترقیاتی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور پالیسی سازی سے وابستہ ہیں۔ کیونکہ اگر خطرے کو صحیح نہ سمجھا جائے تو سرمایہ بھی غلط جگہ لگتا ہے۔

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایل نینو کوئی اچانک آنے والی آفت نہیں بلکہ ایک قدرتی موسمیاتی چکر ہے۔ یہ ہر دو سے سات سال بعد بحرالکاہل کے پانی کو معمول سے زیادہ گرم کر دیتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا میں مختلف شکلوں میں سامنے آتے ہیں۔ کہیں خشک سالی بڑھتی ہے، کہیں شدید بارشیں، کہیں سمندری طوفان زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔

بحرالکاہل یعنی Pacific Ocean دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے۔ ایل نینو کے دوران اس کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے، جو دنیا بھر کے موسم کو متاثر کرتا ہے۔

پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے اس کا مطلب اکثر کمزور مون سون، زیادہ گرمی، پانی کی قلت اور بعض علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس موضوع پر مزید جاننے کے لیے ہماری تفصیلی رپورٹ گرمیاں جلد، کثرت سے اور شدید کیوں ہوتی جارہی ہیں ضرور پڑھیں۔

کلائمیٹ فنانس کے نقطۂ نظر سے اس کا مطلب صاف ہے: سرمایہ صرف آفات کے بعد امداد پر نہیں بلکہ پہلے سے تیاری پر لگنا چاہیے۔ پانی کے ذخائر، ہیٹ ویو ایکشن پلان، موسمیاتی لحاظ سے محفوظ زراعت، شہری ٹھنڈک کے منصوبے اور Early Warning Systems اب اختیاری نہیں بلکہ ضروری سرمایہ کاری ہیں۔

Early Warning Systems یعنی قبل از وقت انتباہی نظام، جو موسمیاتی آفات سے پہلے خبردار کرتے ہیں تاکہ نقصان کم سے کم کیا جا سکے۔

عالمی ادارہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی سے جولائی 2026 کے درمیان ایل نینو کے آغاز کا امکان بہت مضبوط ہے۔ یعنی اس کے آنے پر سائنس پر اعتماد ہے، لیکن اس کی شدت کے بارے میں ابھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

یہاں میڈیا اور سائنس کے درمیان اصل فرق پیدا ہوتا ہے۔ میڈیا کہتا ہے کہ ”تمام ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے”، جبکہ سائنس کہتی ہے کہ ”خطرہ موجود ہے، تیاری کریں”۔

کاربن بریف کے تجزیے کے مطابق 2026 تقریباً یقینی طور پر تاریخ کے چار گرم ترین سالوں میں شامل ہوگا اور غالب امکان یہ ہے کہ یہ دوسرا گرم ترین سال ہوگا۔ لیکن 2024 کا ریکارڈ توڑنے کا امکان ابھی صرف انیس فیصد ہے۔ اس پر مزید تفصیل گلوبل وارمنگ نے گزشتہ مارچ کو اب تک کا چوتھا گرم ترین مارچ کیسے بنایا میں دیکھی جا سکتی ہے۔

”انیس فیصد امکان” اور ”یقینی تباہی” یہ دونوں ایک جیسے نہیں ہیں۔ مگر پالیسی سازی میں یہی باریک فرق سب کچھ بدل دیتا ہے۔

کلائمیٹ فنانس کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ فیصلے سنسنی خیز خبروں پر نہیں بلکہ Scenario-based Planning پر ہونے چاہئیں۔ اگر مضبوط ایل نینو آتا ہے تو ایک حکمت عملی، اگر معمولی شدت کا ہوتا ہے تو دوسری حکمت عملی۔ فنڈنگ کو ایک ہی امکان پر نہیں بلکہ مختلف ممکنہ حالات پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔

Scenario-based Planning یعنی منظر نامے پر مبنی منصوبہ بندی۔ اس میں ایک سے زیادہ ممکنہ حالات کو سامنے رکھ کر حکمت عملی تیار کی جاتی ہے۔

یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ایل نینو اکیلا مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ گلوبل وارمنگ ہے جو پہلے ہی زمین کو مسلسل گرم کر رہی ہے۔ ایل نینو صرف اس موجودہ گرمی پر ایک اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔

یوں سمجھیں جیسے ایک پہلے سے گرم کمرے میں ایک اور ہیٹر آن کر دیا جائے۔ کمرہ پہلے ہی گرم تھا، ایل نینو صرف اس حرارت کو مزید بڑھاتا ہے۔

ڈبلیو ایم او نے واضح کیا ہے کہ 2024 تاریخ کا گرم ترین سال اس لیے بنا کیونکہ طاقتور ایل نینو اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ایک ساتھ اثر انداز ہوئیں۔

گرین ہاؤس گیسیں وہ گیسیں ہیں جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین جو زمین کی حرارت کو فضا میں روک لیتی ہیں اور درجہ حرارت بڑھاتی ہیں۔

کلائمیٹ فنانس کے لیے یہاں سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ صرف Adaptation کافی نہیں، Mitigation بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اگر ہم صرف گرمی سے بچنے کے منصوبے بناتے رہیں لیکن اخراج کم نہ کریں تو مسئلہ ہر سال مزید مہنگا ہوتا جائے گا۔ قابل تجدید توانائی، کم کاربن انفراسٹرکچر، صاف ٹرانسپورٹ اور صنعتی اصلاحات پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

Adaptation یعنی موافقت: موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کی تیاری۔ Mitigation یعنی تخفیف: گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کر کے مسئلے کی جڑ کو ختم کرنا۔

اب بات ہوتی ہے ”سپر ایل نینو” کی، جسے میڈیا اکثر خوفناک عنوان بنا دیتا ہے۔ موجودہ ماڈلز کے مطابق 2026 میں ایل نینو آنے کا امکان تقریباً 85 فیصد ہے، جبکہ اس کے انتہائی شدید یعنی سپر ایل نینو بننے کا امکان صرف 20 سے 25 فیصد کے درمیان ہے۔

”یعنی چار میں سے ایک موقع۔ یہ خطرہ نظرانداز کرنے کے قابل نہیں، لیکن اسے یقینی تباہی کہنا بھی درست نہیں۔”

کلائمیٹ فنانس کی زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ Risk Financing اور Climate Insurance کو مضبوط کیا جائے۔ شدید گرمی، زرعی نقصان، پانی کی قلت اور شہری صحت کے بحران کے لیے مالی تحفظ کے نظام پہلے سے موجود ہونے چاہئیں، تاکہ بحران کے وقت صرف امداد کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ موسمیاتی تباہی آئے گی لیکن بچاؤ بھی ممکن ہے، اس بارے میں مزید پڑھنا بہت مفید رہے گا۔

Climate Insurance یعنی موسمیاتی بیمہ: ایسا مالی نظام جو موسمیاتی آفات کے نقصان کو پورا کرتا ہے تاکہ کاشتکار، حکومت یا کاروبار بحران کے بعد جلد سنبھل سکیں۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ پیغام اور بھی اہم ہے کیونکہ یہاں گرمی کی لہریں پہلے ہی جان لیوا ثابت ہو رہی ہیں۔ زرعی پیداوار متاثر ہوتی ہے، مزدوروں کے کام کے اوقات کم ہوتے ہیں، صحت کے اخراجات بڑھتے ہیں اور توانائی کی طلب اچانک اوپر چلی جاتی ہے۔

یہ صرف موسمیاتی مسئلہ نہیں، یہ معاشی مسئلہ بھی ہے۔

کلائمیٹ فنانس کو اب صرف ماحولیات کے شعبے تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ خوراک، پانی، صحت، روزگار اور قومی سلامتی کا معاملہ بن چکا ہے۔ ترقیاتی بینکوں، گرین فنڈز، نجی سرمایہ کاروں اور حکومتی منصوبہ سازوں کو پاکستان جیسے ممالک میں Heat Resilience، Water Security اور Climate-smart Agriculture کو ترجیح دینی ہوگی۔ موسمیاتی تبدیلی کو بنیادی سطح پر سمجھنے کے لیے موسمیاتی تبدیلی کو ہمیشہ کے لیے سمجھیں آسان زبان اور حل کے ساتھ بہت مددگار ثابت ہوگی۔

Climate-smart Agriculture یعنی موسم دوست زراعت: کاشتکاری کے وہ طریقے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے باوجود پیداوار برقرار رکھیں اور ماحول کو نقصان بھی کم پہنچائیں۔

آخر میں اصل سبق بہت سادہ ہے۔

میڈیا اکثر کہتا ہے ”ہو گیا سمجھو”، جبکہ سائنس کہتی ہے ”خطرہ ہے، تیار رہو”۔

کلائمیٹ فنانس کا کام بھی یہی ہے: گھبراہٹ پر نہیں، تیاری پر سرمایہ لگانا۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ بحران آنے کے بعد زیادہ پیسہ خرچ کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ بحران آنے سے پہلے سمجھداری سے سرمایہ کاری کی جائے۔ یہی مستقبل کی اصل معیشت ہے، اور یہی حقیقی موسمیاتی قیادت۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *