عالمی یوم ماحول (World Environment Day) ہر سال 5 جون کو منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1972ء میں اسٹاک ہوم کانفرنس کے موقع پر اس دن کا اعلان کیا تھا اور 1973ء سے باقاعدہ منایا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام (UNEP) اس دن کی قیادت کرتا ہے اور 150 سے زائد ممالک اس میں حصہ لیتے ہیں۔ ہر سال ایک میزبان ملک اور ایک خاص موضوع (Theme) منتخب کیا جاتا ہے۔
5 جون یعنی عالمی یوم ماحول کی آمد آمد ہے اور کراچی سمیت ملک کے طول و عرض میں درجنوں تنظیموں نے سیمینار، شجرکاری مہمات، آگاہی واکس اور میڈیا کانفرنسوں کے اعلانات شروع کر دیے ہیں۔ کاغذ پر یہ سرگرمیاں جتنی متاثرکن نظر آتی ہیں، زمینی حقائق اس تصویر کا ایک بالکل مختلف رُخ دکھاتے ہیں۔
2026ء میں عالمی یوم ماحول کی میزبانی جمہوریہ آذربائیجان کر رہا ہے اور تقریب کا مرکز دارالحکومت باکو ہوگا۔ اس سال کی مرکزی توجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، اور یہ پیغام کہ موسمیاتی عمل صرف کاربن اخراج کم کرنے تک محدود نہیں بلکہ معیشتوں کے ڈھانچوں کو از سرِنو ترتیب دینے اور فطرت سے اپنے تعلق کو درست کرنے کا نام ہے۔
سال کا سب سے بڑا ماحولیاتی تہوار، اور سب سے بڑی رسمی کارروائی
عالمی یوم ماحول کو چونکہ سال کا سب سے بڑا ماحولیاتی تہوار سمجھا جاتا ہے، اس لیے اسے منانا ان حلقوں کے لیے بھی ناگزیر ہو جاتا ہے جن کی ماحولیات کے دیگر گیارہ مہینوں میں کارکردگی مکمل طور پر صفر رہتی ہے۔ سرکاری ادارے خاص طور پر اس موقع کو اس شان و شوکت سے مناتے ہیں گویا ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہو چکا ہو اور اب ان کے پاس کرنے کو واقعی کچھ بچا نہ ہو۔ وہی ادارے جن کی ایک سال میں ایک بھی کارخانے پر چھاپہ مارنے یا آلودگی پھیلانے والے کو نوٹس دینے کی خبر نہیں آتی، یومِ ماحول پر بڑے بینرز، مہمان خصوصی اور پریس ریلیز کے ساتھ نمودار ہو جاتے ہیں۔ ایسے واقعات پر مزید تناظر کے لیے سیپا اور یومِ ارض کا جائزہ بھی ملاحظہ کریں۔
اسکول بند، طلبہ غیر حاضر، آگاہی مہم بے مقصد
ستم ظریفی یہ ہے کہ کراچی اور ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے گرمیوں کی تعطیلات کے باعث بند ہیں۔ نوجوان نسل جو ماحولیاتی آگاہی کا اصل ہدف ہونی چاہیے، ان پروگراموں سے مکمل طور پر غیر حاضر ہے۔ ایسے میں سوال فطری ہے کہ جب سامعین میں طالب علم ہی نہیں تو یہ آگاہی مہم آخر کس کو آگاہ کر رہی ہے؟
جھلساتی گرمی میں واک، شرکاء کی حالت غیر
کراچی سمیت ملک کے کئی شہروں میں اس وقت شدید ہیٹ ویو کا راج ہے اور درجہ حرارت خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔ اس کے باوجود بعض تنظیموں نے “آگاہی واکس” کا اہتمام کر ڈالا۔ رپورٹس کے مطابق کراچی اور دیگر شہروں میں ایسی واکس کے دوران شرکاء کی حالت غیر ہونے، چکر آنے اور طبی امداد کی ضرورت پڑنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ماحول بچانے کی واک میں انسانی صحت کا یہ خراجہ کسی طنزیہ کہانی سے کم نہیں۔
جھلساتی گرمی میں شجرکاری، نیک نیتی یا نمائش
زرعی اور ماحولیاتی ماہرین واضح کر چکے ہیں کہ مئی جون کی تپتی دھوپ میں پودے لگانا ان کی بقا کے لیے انتہائی ناموافق ہے کیونکہ نئے پودے مناسب درجہ حرارت اور مسلسل پانی کے بغیر جڑ نہیں پکڑتے۔ شجرکاری کا موزوں وقت مون سون کی ابتدا یا سردیوں کے اواخر ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کیمرے کے سامنے پھاوڑا چلانے کی روایت پوری آب و تاب سے جاری ہے، اور یہ پودے چند ہفتوں بعد کہاں جاتے ہیں یہ کوئی نہیں پوچھتا۔
منظور شدہ فنڈز کا حساب کتاب، اصل محرک کیا ہے
اندرونی ذرائع کے مطابق بیشتر تنظیموں کے لیے یہ پروگرام دراصل سالانہ بجٹ کے منظور شدہ فنڈز کو بروقت خرچ کرنے کا سب سے آسان ذریعہ بن چکے ہیں۔ مالی سال کے اختتام سے قبل اخراجات کا ریکارڈ مکمل کرنا ہو یا ڈونر ایجنسی کو “نتائج” دکھانے ہوں، یہ پروگرام دونوں مقاصد بیک وقت پورے کر دیتے ہیں۔
ماحولیاتی مجرم بطور اسپانسر: گرین واشنگ عروج پر
سب سے قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ کراچی میں منعقد ہونے والے کئی پروگراموں کی اسپانسر شپ انہی صنعتی و تجارتی اداروں اور ان کے مشاورتی اداروں سے حاصل کی جا رہی ہے جن پر ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں یا جن کے خلاف ماحولیاتی ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں۔ ماحول پر بوجھ ڈالنے والی کمپنیوں کا عالمی یوم ماحول کے پروگراموں میں بطور “گرین اسپانسر” شامل ہونا ماہرین کے نزدیک ماحولیاتی دنوں میں گرین واشنگ کی بدترین مثال ہے۔
کرائے کی آڈینس، بھری محفل کا راز
کراچی میں متعدد ایسے پروگراموں میں حاضری کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سامعین بڑی حد تک منتظمین کے احباب، رشتہ داروں، حلقہ اثر کے افراد اور خود اسپانسر کمپنیوں کے ملازمین پر مشتمل ہوتے ہیں۔ آڈینس کو لانے کے لیے کئی طرح کی ترغیبات استعمال کی جاتی ہیں جن میں عمدہ چائے، اسنیکس اور ریفریشمنٹ کا وعدہ سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ ایک بوریت بھری تقریری نشست کے بعد کوئی آرٹ، موسیقی یا تخلیقی سرگرمی رکھی جاتی ہے تاکہ لوگ پہلا حصہ برداشت کریں اور پروگرام کی “حاضری” مکمل دکھے۔ یہ بھری ہوئی تصاویر پھر رپورٹوں میں شامل ہوتی ہیں، ڈونرز کو بھیجی جاتی ہیں اور پروگرام کی “کامیابی” کا ثبوت بن جاتی ہیں۔ اسی نوعیت کی صورتحال یومِ ارض کے ڈراما میں بھی دیکھی جا چکی ہے۔
- تعلیمی ادارے بند، طالب علم غائب
- گرمی ناموافق، واک میں حالت غیر
- شجرکاری کا غلط موسم
- ماحولیاتی مجرم اسپانسر
- سرکاری ادارے سال بھر غائب
- بھرے ہال، سرسبز بینرز
- کیمرے کے سامنے پھاوڑا
- چائے، ریفریشمنٹ، آرٹ سرگرمی
- گرین اسپانسر شپ کا اعلان
- شان دار پریس ریلیز
ماہرین کا موقف اور اصلاحاتی تجاویز
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان پروگراموں کا احتساب نہیں ہوگا اور فنڈنگ کا نظام شفاف نہیں بنایا جائے گا، عالمی یوم ماحول محض ایک کاروباری موقع بنا رہے گا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈونر ایجنسیاں اثرات کی عملی پیمائش پر زور دیں، اسپانسر شپ کا مکمل انکشاف لازمی قرار دیا جائے اور پروگراموں کی حاضری و نتائج کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے۔ یہ پروگرام مون سون یا تعلیمی سیشن کے آغاز میں منتقل کیے جائیں تاکہ شجرکاری موثر ہو اور طلبہ واقعی شامل ہو سکیں۔ اور سب سے بڑھ کر، ماحولیاتی قوانین توڑنے والے اداروں کو اس دن کی میزبانی کرنے کا حق نہ دیا جائے کیونکہ یہ اس پورے تصور کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔


Leave a Reply