صبح کے سات بجے تھے۔ نورین نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو آسمان پر ایک عجیب سی پیلی چادر پھیلی ہوئی تھی۔ ہوا بالکل ساکن تھی، اور گلی کے کتے بھی کسی سایہ دار جگہ کی تلاش میں بھاگتے پھر رہے تھے۔

نورین چودہ برس کی تھی اور جیکب آباد کے ایک محلے میں رہتی تھی، جہاں گرمی کوئی نئی بات نہیں تھی۔ لیکن آج کچھ مختلف تھا۔ دادی صبح سے ہی کہہ رہی تھیں: “بیٹا، آج سورج کچھ زیادہ ہی تپش بکھیر رہا ہے۔”

نورین نے بستہ اٹھایا تو والد عبدالرحمن، جو مقامی اسکول میں استاد تھے، دروازے پر روک کر بولے: “آج اسکول جاؤ گی؟ موسم کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔”

“ابا، امتحانات قریب ہیں،” نورین مسکرائی۔ “آپ ہر سال یہی کہتے ہیں کہ گرمی زیادہ ہے۔”

یہ بات کسی حد تک درست بھی تھی۔ جیکب آباد کو “دنیا کا گرم ترین شہر” کہا جاتا ہے، اور 2017 میں یہاں درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا۔ نورین اور اس کا خاندان اس حقیقت کو ایسے قبول کر چکے تھے جیسے یہ کوئی ناقابلِ تبدیل تقدیر ہو۔

اسکول جاتے ہوئے گلیوں میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ عام دنوں میں اس وقت بچے کھیلتے نظر آتے، لیکن آج صرف چند بوڑھے درختوں کے سائے میں بیٹھے دکھائی دیے۔ نورین نے محسوس کیا کہ اس کی چپل تیز دھوپ میں گویا پگھلنے لگی ہے۔

جیکب آباد میں ہیٹ ویو کے دوران چودہ سالہ لڑکی نورین

کلاس روم میں گرمی کی پہلی علامات

اسکول میں بھی حالات کچھ عجیب تھے۔ کلاس روم کی دیواریں گرم ہو چکی تھیں۔ استانی نے پنکھا چلایا تو ہوا کا ایک گرم جھونکا آیا۔ “بچیو، آج بہت گرمی ہے۔ پانی زیادہ پیا کرو،” استانی نے تاکید کی۔

نورین کی دوست زینب نے سر ہلایا: “میں تو صبح سے سر درد سے پریشان ہوں۔”

“شاید نیند پوری نہیں ہوئی،” نورین نے کہا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب نورین اور اس کے خاندان کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک ہیٹ ویو، یعنی شدید گرمی کی لہر، کی ابتدائی علامات دیکھ رہے ہیں۔

جیکب آباد اتنا گرم کیوں ہے؟

جیکب آباد کی شدید گرمی کی وجوہات سائنسی ہیں۔ یہ شہر سندھ کے شمال میں واقع ہے، جہاں کوہِ سلیمان کا ریگستان سندھ کے میدانی علاقے سے ملتا ہے۔ یہاں کی فصلیں دریائے سندھ کے پانی پر انحصار کرتی ہیں، مگر پانی کے بخارات بننے سے ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔ جب درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کرے اور نمی بھی زیادہ ہو تو “ہیٹ انڈیکس”، یعنی محسوس ہونے والا درجہ حرارت، اصل درجہ حرارت سے 10 سے 15 ڈگری زیادہ محسوس ہو سکتا ہے۔

نورین کو یہ سب معلوم نہیں تھا۔ اس کے محلے میں زیادہ تر لوگوں کو بھی نہیں تھا۔ ملک میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی کی کمی ہی وجہ ہے کہ نورین جیسے کئی خاندان ایسی انتباہی علامات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ صرف اتنا جانتے تھے کہ گرمی ہے، اور اس سے بچنا ہے۔

دادی کی طبیعت خراب ہونے لگی

دوپہر تک حالات بگڑنے لگے۔ گھر میں بجلی چلی گئی اور پنکھے بند ہو گئے۔ نورین کی دادی، جو ستر برس کی تھیں، کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی سانس لینے میں دقت محسوس کر رہی تھیں۔

“امی جان، کیا ہوا؟” نورین کی والدہ فاطمہ نے پوچھا۔

“کچھ نہیں، بس تھکن سی محسوس ہو رہی ہے،” دادی نے جواب دیا۔

فاطمہ نے سوچا، شاید یہ بڑھاپے کی کمزوری ہے۔ انہوں نے دادی کو ایک گلاس پانی دیا اور کہا: “آرام کریں، شام تک ٹھیک ہو جائیں گی۔”

یہ ایک عام غلطی ہے جو بہت سے خاندان کرتے ہیں۔ بزرگ افراد میں پیاس کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے، اس لیے وہ خود بخود کم پانی پیتے ہیں، اور ان کا جسم درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ لیکن نورین کے خاندان کو یہ بات معلوم نہیں تھی۔

سعیدہ کی تنبیہ: “کل سے ہیٹ ویو الرٹ ہے!”

شام پانچ بجے محلے میں ایک ہلچل مچی۔ کمیونٹی ہیلتھ ورکر سعیدہ گلی گلی گھوم رہی تھیں، ہاتھ میں موبائل فون جس پر موسمی ایپلی کیشن کھلی ہوئی تھی۔

“بہنو، کل سے ہیٹ ویو الرٹ جاری ہے!” سعیدہ نے نورین کے گھر آ کر بتایا۔ “محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے۔ اگلے تین دن درجہ حرارت 48 ڈگری تک جا سکتا ہے۔”

“یہ ہیٹ ویو ہوتی کیا ہے؟” فاطمہ نے پوچھا۔

“جب تین یا زیادہ دن تک زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہے تو اسے ہیٹ ویو کہتے ہیں،” سعیدہ نے سمجھایا۔ “اور جیکب آباد میں یہ اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمارے خطے میں گرمی کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔”

نورین نے دلچسپی سے پوچھا: “لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں؟”

“سب سے پہلے، صبح دس بجے سے شام چار بجے تک گھر سے باہر نہ نکلیں۔ نکلنا ضروری ہو تو سر پر گیلا کپڑا رکھیں۔ ہر گھنٹے پانی پئیں، چاہے پیاس نہ لگے۔ بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں۔”

نورین نے یہ ساری باتیں کاغذ پر لکھ لیں۔ اسے لگا جیسے وہ کوئی نئی زبان سیکھ رہی ہو۔

گرمی کی لہر میں کمیونٹی ہیلتھ ورکر محلے میں ہیٹ ویو الرٹ کی تنبیہ دے رہی ہے

کامران کی زندگی خطرے میں

اگلے دن صبح سے ہی درجہ حرارت تیزی سے بڑھنے لگا۔ نورین نے دیکھا کہ پڑوس کا چھ سالہ بچہ کامران گلی میں کھیل رہا تھا۔ اس کے والد کام پر جا چکے تھے اور والدہ گھر کے کاموں میں مصروف تھیں۔

“کامران، اندر آ جاؤ، بہت گرمی ہے!” نورین نے آواز دی۔

“نہیں، میں کھیل رہا ہوں،” کامران نے جواب دیا۔

کچھ دیر بعد کامران کی والدہ چیختی ہوئی آئیں: “نورین! میرے بیٹے کو کچھ ہو گیا ہے!”

نورین دوڑی۔ کامران ایک سایہ دار جگہ پر پڑا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ تھا، پسینہ خشک ہو چکا تھا، اور اس کا جسم تپ رہا تھا۔

نورین کی والدہ فاطمہ گھبرا گئیں: “اسے فوراً ہسپتال لے چلیں!”

“رکیں!” سعیدہ وہاں پہنچ گئیں۔ “پہلے اسے ٹھنڈا کریں، پھر ہسپتال لے جائیں۔”

ہیٹ اسٹروک کی صورت میں فوری اقدامات:

  • مریض کو فوراً سائے میں لائیں
  • کپڑے ڈھیلے کریں
  • جسم پر ٹھنڈا پانی ڈالیں
  • گیلے کپڑے یا تولیے لگائیں
  • تیز پنکھا چلائیں

نورین نے مدد کی۔ کامران کو ٹھنڈے کمرے میں لے جایا گیا، اس کے کپڑے ہلکے کیے گئے، ایک ٹب میں ٹھنڈا پانی لا کر اس کے جسم پر ڈالا گیا، گیلے تولیے لگائے گئے اور پنکھا تیز چلا دیا گیا۔

“یہ کیوں ضروری ہے؟” فاطمہ نے پوچھا۔

“جب جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرے تو اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچنے لگتا ہے،” سعیدہ نے بتایا۔ “اگر ہم اسے بغیر ٹھنڈا کیے ہسپتال لے جاتے تو راستے میں اس کی حالت مزید بگڑ سکتی تھی۔ پہلے جسم ٹھنڈا کرنا، پھر طبی امداد لینا ہی صحیح طریقہ ہے۔”

بیس منٹ بعد کامران کی حالت میں بہتری آنے لگی۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ فوری ٹھنڈک ہی نے اس کی جان بچائی۔

یہ واقعہ نورین کی زندگی بدلنے والا ثابت ہوا۔

نورین، محلے کی “ہیٹ ایمبیسیڈر” بن گئی

اگلے دن نورین اپنے اسکول کے پرنسپل سے ملی: “سر، کیا میں کلاس میں بچوں کو گرمی سے بچاؤ کے طریقے بتا سکتی ہوں؟”

پرنسپل نے حیرت سے پوچھا: “تمہیں یہ سب کس نے سکھایا؟”

“سعیدہ خالہ نے۔ اور میں نے خود دیکھا ہے کہ یہ علم کتنا ضروری ہے۔”

نورین نے ایک مختصر پیشکش تیار کی: موسمی الرٹس کو کیسے سمجھنا ہے، گھر میں پانی کیسے ذخیرہ کرنا ہے، بزرگوں اور بچوں کا خیال کیسے رکھنا ہے، سائے کی جگہیں کیسے تلاش کرنی ہیں، اور ہلکے کپڑے کیوں ضروری ہیں۔ اساتذہ حیران رہ گئے۔ ایک چودہ سالہ لڑکی، جو خود چند دن پہلے تک اس خطرے سے ناواقف تھی، اب دوسروں کو سکھا رہی تھی۔

نورین کے گھر میں بھی تبدیلیاں آئیں۔ صبح ناشتے میں اب نمکین لسی بنتی، جو پانی اور نمک کی کمی پوری کرتی۔ گھر میں ہر وقت ٹھنڈا پانی دستیاب رہتا۔ دادی کے کمرے میں گیلا پردہ لٹکایا جاتا تاکہ ہوا ٹھنڈی رہے، اور چھت پر سفید چادر بچھائی گئی تاکہ گرمی منعکس ہو۔ جس طرح کراچی کے دریائے مالیر میں پانی کے ذخائر کی صورتحال سے واضح ہوتا ہے، پانی کی حفاظت اور ذخیرہ اندوزی ہر خطے کے لیے یکساں اہم ہے۔

سب سے اہم بات یہ رہی کہ محلے میں ایک “گرمی چوکیدار” کا نظام شروع ہوا۔ ہر روز ایک نوجوان موسمی الرٹ چیک کرتا اور گلی گلی اعلان کرتا، بزرگوں کے گھروں میں پانی پہنچایا جاتا، اور بچوں کو سائے دار جگہوں میں کھیلنے کی تلقین کی جاتی۔

جیکب آباد کے محلے میں ہیٹ ویو سے بچاؤ کی کمیونٹی تیاری

ایک مہینے بعد جب دوبارہ ہیٹ الرٹ آیا تو محلہ تیار تھا۔ کوئی گھبرایا نہیں، کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ اور جب نورین نے کامران کو دوبارہ صحت مند کھیلتے دیکھا تو اسے لگا جیسے اس نے کوئی امتحان پاس کر لیا ہو۔

جیکب آباد کی دھوپ آج بھی اتنی ہی تیز ہے، لیکن نورین جانتی ہے کہ گرمی کوئی لاعلاج تقدیر نہیں بلکہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا مقابلہ علم، تیاری اور باہمی تعاون سے کیا جا سکتا ہے۔ ملک بھر میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ، مؤثر پاکستان کے ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد بھی ایسی کمیونٹیز کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

اب وہ اسکول کی “ہیٹ ایمبیسیڈر” ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا رجسٹر ہے جس میں اس نے تمام اہم نکات نوٹ کر رکھے ہیں: پانی کی مقدار، سائے کے اوقات، ابتدائی طبی امداد کے مراحل، اور سب سے بڑھ کر، کمیونٹی کی طاقت۔

“مجھے نہیں معلوم مستقبل میں موسم کتنا گرم ہو گا،” ایک دن نورین نے اپنی استانی سے کہا۔ “لیکن مجھے یہ ضرور معلوم ہے کہ اگر ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں، ایک دوسرے کو سکھائیں، تو کوئی بھی گرمی ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔”

روشنی سے زیادہ طاقتور علم ہوتا ہے۔

استانی نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔ کھڑکی سے باہر جیکب آباد کی دھوپ اپنی پوری شدت سے چمک رہی تھی، لیکن اس کمرے میں ایک نوجوان لڑکی بیٹھی تھی جو جانتی تھی کہ روشنی سے زیادہ طاقتور علم ہوتا ہے — اور اب وہ علم اس کے محلے کے ہر گھر تک پہنچنے لگا تھا۔

📚 مزید جانیں، خود کو اور اپنے خاندان کو محفوظ بنائیں

اس کہانی میں شامل عملی معلومات دراصل جامع ہیٹ ویو سے بچاؤ کی تیاری کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔

Climate Action Skills اگست کے پہلے ہفتے سے ایک 10 ہفتوں پر مشتمل آن لائن اور خود رفتار Heat Resilience Masterclass شروع کرنے جا رہا ہے۔

یہ کورس 90 فیصد فنڈڈ ہے، اس لیے شرکاء کو صرف اصل فیس کا 10 فیصد، یعنی محض 1,000 روپے ادا کرنے ہوں گے۔

⚠️ یہ خصوصی پیشکش صرف پہلے 50 رجسٹریشنز کے لیے ہے، اور نشستیں تیزی سے بھر رہی ہیں۔

ابھی رجسٹر کریں تاکہ اگلی ہیٹ ویو سے پہلے خود کو، اپنے خاندان، دفتر، اسکول اور کمیونٹی کو محفوظ بنا سکیں۔

یاد رکھیں: اگر آپ نے یہ زندگی بچانے والا ہنر سیکھنے میں تاخیر کی، تو ممکن ہے آپ کو بھی نورین جیسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔ لیکن بروقت علم، تیاری اور کمیونٹی آگاہی گرمی سے متعلق کئی بیماریوں اور اموات کو روک سکتی ہے۔

“آفت کے دوران جدوجہد کرنا، آفت سے پہلے سیکھنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔”

ابھی رجسٹر کریں، کیونکہ ایک جان بچانا پوری کمیونٹی کو بچانے کے مترادف ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *