موسمیاتی آگہی: سونے کی چڑیا یا گلوبل ساؤتھ کی سب سے بڑی دھوکہ دہی؟

موسمیاتی آگہی: سونے کی چڑیا یا گلوبل ساؤتھ کی سب سے بڑی دھوکہ دہی؟

ایک بے باک تحقیقی مضمون

مقدمہ: وہ ایک فیصد کا راگ اور جوابی سوال

گلوبل ساؤتھ (Global South)
ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ترقی پذیر ممالک جنہیں صنعتی انقلاب کے دوران استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ممالک میں زیادہ تر غریب آبادی رہتی ہے اور وہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان سمیت گلوبل ساؤتھ کا ہر ملک ایک ہی راگ الاپ رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے اور اس کے نقصانات سب سے زیادہ ہم بھگت رہے ہیں۔ یہ بات درست بھی ہے اور تکلیف دہ بھی۔ لیکن اس راگ کے پیچھے ایک ایسی حقیقت پوشیدہ ہے جس پر کوئی بات نہیں کرتا۔

کوئی یہ نہیں کہتا کہ ہم اتنے نااہل، نکمے اور کم تعلیم یافتہ ہیں اور خود ساختہ ماہر ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچنے کی نہ الف ب سے واقف ہیں اور نہ ہونا چاہتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اس میں لوٹ مار کی گنجائش ہی نہیں۔

موسمیاتی موافقت (Climate Adaptation)
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ اور ان کے ساتھ ڈھلنے کے اقدامات۔ مثلاً سیلاب سے بچاؤ کے بند بنانا، نئی فصلیں متعارف کروانا، پانی کے ذخیرے بنانا، ساحلی علاقوں میں حفاظتی دیواریں تعمیر کرنا۔ یہ اصل کام ہے جو زمین پر نظر آتا ہے۔

اسی لیے عالمی اداروں میں موسمیاتی موافقت کی فنڈنگ بے مصرف پڑی ہے۔ گرین کلائمیٹ فنڈ، عالمی بینک، اقوام متحدہ کے پاس اربوں ڈالر موافقت کے منصوبوں کے لیے مختص ہیں، لیکن ہم ہیں کہ “آگہی اور ایڈوکیسی” کے نام پر “جو دے اس کا بھلا، جو نہ دے اس کا بھلا” کی صدائیں لگا کر لوٹ مار میں مصروف ہیں۔

گرین کلائمیٹ فنڈ (Green Climate Fund – GCF)
اقوام متحدہ کا ایک ادارہ جو ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ اس کے پاس 10 ارب ڈالر سے زائد فنڈز ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر آگہی اور تخفیف اخراجات پر خرچ ہوتے ہیں، نہ کہ موافقت پر۔

یہ وہ منظر نامہ ہے جسے ہم آگے بڑھائیں گے۔

پہلا باب: موافقت کے منصوبے، وہ مشکل راستہ جسے کوئی نہیں چنتا

تکنیکی مہارتوں کی دیوار

موسمیاتی موافقت کے منصوبے چلانے کے لیے آپ کو درج ذیل چیزیں جاننی ضروری ہیں:

  • موسمیاتی علوم (Climate Science): درجہ حرارت میں اضافے، بارشوں کے نمونوں، سیلاب اور خشک سالی کی سائنس کو سمجھنا
  • انجینئرنگ: سیلاب سے بچاؤ کے بند، پانی کے ذخیرے، زراعت کے نئے طریقے
  • آئی ٹی اور ڈیٹا سائنس: موسمیاتی ماڈلنگ، جی آئی ایس (GIS) mapping، اعداد و شمار کا تجزیہ
  • پالیسی سائنس: حکومتوں کے ساتھ کام کرنے کا طریقہ، قانونی چارٹ

یہ سب کچھ سیکھنے میں پانچ سے دس سال لگ جاتے ہیں۔ اور پھر بھی صرف کتابی علم کافی نہیں، زمینی تجربہ چاہیے۔

زمینی شواہد کی سخت ضرورت

موافقت کے منصوبوں میں آپ کو ثبوت (Evidence) پیش کرنا ہوتا ہے:

  • کتنے ایکڑ زمین پر نئی فصل کاشت ہوئی؟
  • کتنے گاؤں کو سیلاب سے بچایا گیا؟
  • کتنے ایم ایم بارش کنٹرول کی؟
  • کتنی آبادی کو صاف پانی مہیا ہوا؟

یہ سب کچھ پیمائش (Measurement) ہوتی ہے، تصدیق (Verification) ہوتی ہے، اور آڈٹ (Audit) ہوتا ہے۔ عالمی فنڈرز جیسے گرین کلائمیٹ فنڈ یا عالمی بینک کے پاس سخت اصول ہیں۔ وہ ہر ڈالر کا حساب مانگتے ہیں۔

کمیونٹی سپورٹ اور ٹیم ورک

ایک موافقت کا منصوبہ کبھی اکیلے نہیں چل سکتا۔ آپ کو درکار ہوتے ہیں:

  • مقامی کمیونٹیز جو منصوبے میں شامل ہوں
  • حکومتی ادارے جو اجازت اور سپورٹ دیں
  • تکنیکی ماہرین جو منصوبے کو ڈیزائن اور نگرانی کریں
  • مقامی لیبر جو کام کرے

یہ ایک پیچیدہ نظام ہے جہاں ایک کنارہ ٹوٹنے سے پورا خیمہ گر سکتا ہے۔

حکومت کے ساتھ کام کرنا

موافقت کے منصوبوں میں آپ کو حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ یہاں کوئی “ڈرانا دھمکانا” نہیں چلتا۔ آپ کو:

  • محکمہ زراعت سے ملنا پڑتا ہے
  • محکمہ آبپاشی سے بات کرنی پڑتی ہے
  • محکمہ موسمیات سے ڈیٹا لینا پڑتا ہے
  • محکمہ ماحولیات سے اجازت لینی پڑتی ہے

یہ سب کچھ شفافیت (Transparency) اور جوابدہی (Accountability) کے دائرے میں ہوتا ہے۔

دوسرا باب: موسمیاتی آگہی اور ایڈوکیسی، سونے کی چڑیا جسے سب پکڑنا چاہتے ہیں

موسمیاتی آگہی (Climate Awareness / Advocacy)
لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں آگاہ کرنا، سیمینارز، ورکشاپس، سوشل میڈیا مہمات، پوسٹرز اور بروشرز تقسیم کرنا۔ یہ اصل میں کام نہیں بلکہ کام کرنے کا “احساس” پیدا کرنا ہے۔ اس میں زمین پر کوئی ٹھوس اقدام نہیں ہوتا۔

قصے کہانیاں، اور کچھ نہیں

موسمیاتی آگہی کے منصوبوں کے لیے آپ کو کیا درکار ہے؟

  • کچھ پاور پوائنٹ سلائڈز بنانا آنا
  • سمینار اور ورکشاپ کرنا آنا
  • سوشل میڈیا پوسٹس بنانا آنا
  • پوسٹرز اور بروشرز چھپوانا آنا
  • تقریریں کرنا آنا

یہ سب کچھ تین سے چھ ماہ میں سیکھا جا سکتا ہے۔ کوئی ڈگری نہیں چاہیے، کوئی تکنیکی سرٹیفیکیٹ نہیں چاہیے۔ بس زبان آنی چاہیے اور دکھاوا کرنا آنا چاہیے۔

اگرچہ کلائمیٹ ایکشن اسکلز نامی ادارہ باقاعدگی کے ساتھ کلائمیٹ ایکٹوازم کی دس ماہ پر مشتمل تربیت فراہم کر رہا ہے، تاہم بعض افراد اپنی انا اور خود پسندی کے باعث، مطلوبہ علم اور مہارتوں سے محروم ہونے کے باوجود، اس پروگرام میں شامل ہونے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ حالانکہ اس تربیتی پروگرام میں وہ عملی اور نظریاتی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں جو مؤثر ماحولیاتی سرگرمیوں اور قیادت کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں، لیکن ایسے افراد سیکھنے کے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔

کاغذی منصوبے، زمین پر کچھ نہیں

آگہی کے منصوبوں میں زمینی شواہد کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ آپ نے:

  • پانچ سو لوگوں کو سمینار سنایا؟ ثبوت: حاضری کی فہرست (جسے خود بنایا جا سکتا ہے)
  • دس ہزار بروشر تقسیم کیے؟ ثبوت: رسید (جسے کسی پرنٹر سے بنوایا جا سکتا ہے)
  • سوشل میڈیا پر ایک لاکھ لوگوں تک پہنچے؟ ثبوت: اسکرین شاٹ (جسے فوٹوشاپ سے بنایا جا سکتا ہے)

یہ سب کچھ کاغذوں میں ہوتا ہے، حقیقت میں نہیں۔

دو تین “ہم نوالہ و ہم پیالہ” اور لوٹ مچاؤ

آگہی کے منصوبوں میں آپ کو:

  • کوئی بڑی ٹیم نہیں چاہیے
  • کوئی تکنیکی ماہر نہیں چاہیے
  • کوئی کمیونٹی سپورٹ نہیں چاہیے
  • کوئی حکومت سے باقاعدہ اجازت نہیں چاہیے

بس دو تین دوست ملیں، ایک این جی او بنائیں، ایک ویب سائٹ بنا لیں، اور فنڈنگ کے درخواستیں دینا شروع کر دیں۔

سرکاری اداروں کو ڈرا دھمکا کر کام نکالنا

آگہی کے منصوبوں میں عام طور پر حکومت کے ساتھ براہ راست کام نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کبھی ضرورت پڑے تو:

  • آر ٹی آئی کی دھمکی دے کر
  • میڈیا ٹرائل کی دھمکی دے کر
  • احتجاج کی دھمکی دے کر

کام نکال لیا جاتا ہے۔ کیونکہ آگہی کے نام پر کوئی بھی احتجاج یا میڈیا کیمپین حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔

تیسرا باب: گھپلے کی گنجائش، موافقت بمقابلہ آگہی

پہلو موافقت کے منصوبے آگہی کے منصوبے
تکنیکی مہارت موسمیاتی علوم، انجینئرنگ، آئی ٹی ضروری صرف چرب زبانی اور دکھاوا کافی
شواہد زمینی، پیمائش شدہ، آڈٹ شدہ کاغذی، خود ساختہ، غیر تصدیق شدہ
ٹیم سائز بڑی، متنوع، تکنیکی چھوٹی، دو تین دوست
حکومت سے تعلق باقاعدہ، شفاف، مشترکہ بے باقاعدہ، ڈرا دھمکا
آڈٹ سخت، بین الاقوامی نرم یا کوئی نہیں
وقت تین سے پانچ سال چھ ماہ سے ایک سال
بجٹ کا استعمال 70 سے 80 فیصد اصل میں 20 سے 30 فیصد اصل میں، باقی جیب میں
گھپلے کی گنجائش انتہائی کم انتہائی زیادہ

حقیقی اعداد و شمار

عالمی سطح پر موسمیاتی فنڈنگ کا جائزہ لیں تو صورتحال مزید واضح ہوتی ہے:

7% گرین کلائمیٹ فنڈ کے منظور شدہ منصوبوں میں موافقت کا حصہ
92% جنوبی ایشیا میں آگہی پر خرچ ہونے والا حصہ
24x آگہی پر موافقت سے 24 گنا زیادہ خرچ
او آئی سی ڈی (OECD)
تعاون و اقتصادی ترقی کی تنظیم، جس میں 38 ترقی یافتہ ممالک شامل ہیں۔ یہ تنظیم عالمی امداد اور ترقیاتی فنڈز کی نگرانی کرتی ہے۔ اس کی رپورٹس کے مطابق گلوبل ساؤتھ میں ہر ایک ڈالر موافقت کے منصوبے پر، 24 ڈالر آگہی کے منصوبوں پر خرچ ہوتے ہیں۔

چوتھا باب: گلوبل ساؤتھ کی این جی اوز، کیوں آگہی منصوبوں پر جھپٹتی ہیں؟

پاکستان کی مثال

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے نام پر کام کرنے والے 500 سے زیادہ این جی اوز ہیں۔ ان میں سے:

60% صرف آگہی پر کام کرتی ہیں
25% آگہی اور کاربن اخراج میں تخفیف دونوں پر
15% صرف موافقت کے منصوبوں میں شامل

اور ان 15 فیصد میں سے بھی بیشتر بین الاقوامی این جی اوز ہیں جیسے ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر، آکسفام، یا ریڈ کراس، جو سخت آڈٹ کے نظام میں کام کرتی ہیں۔

بنگلہ دیش کی صورتحال

بنگلہ دیش، جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، وہاں بھی صورتحال مختلف نہیں:

  • 80 فیصد موسمیاتی گرانٹس آگہی پر خرچ ہوتی ہیں
  • سیلاب سے بچاؤ کے اصل منصوبے حکومت چلاتی ہے
  • این جی اوز زیادہ تر “تعلیم اور آگہی” کے نام پر فنڈ لےتی ہیں

افریقہ کے ممالک

افریقہ میں صورتحال مزید سنگین ہے:

  • کینیا، نائیجیریا، یوگنڈا میں 90 فیصد سے زیادہ موسمیاتی منصوبے آگہی پر ہیں
  • اصل موافقت کے منصوبے جیسے پانی کے ذخیرے، سیلاب سے بچاؤ، نئی فصلیں یہ سب یا تو حکومتیں چلاتی ہیں یا بین الاقوامی ادارے

پانچواں باب: جرائم پیشہ سوچ اور موسمیاتی آگہی

سونے کی چڑیا کیسے بنی؟

موسمیاتی آگہی کو “سونے کی چڑیا” بنانے میں درج ذیل عوامل اہم ہیں:

1. فنڈنگ کا آسانی سے دستیاب ہونا

عالمی ادارے آگہی کے منصوبوں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ:

  • ان کا نتیجہ فوری نظر آتا ہے (ایک ورکشاپ، ایک سیمینار)
  • ان کی رپورٹنگ آسان ہے (تعداد میں، نہ اثر میں)
  • ان میں سیاسی خطرہ کم ہے (کوئی بڑا منصوبہ نہیں جو ناکام ہو)

2. آڈٹ کا فقدان

آگہی کے منصوبوں کا آڈٹ تقریباً ناممکن ہے:

  • آپ نے کسی کو آگاہی دی یا نہیں، کیسے ثابت ہوگا؟
  • ایک ورکشاپ “کامیاب” تھی یا نہیں، معیار کیا ہے؟
  • سوشل میڈیا کی “ریچ” حقیقی تھی یا خریدی گئی؟

3. “شعوری ماہر” بننے کی سہولت

آج کل ہر دوسرا شخص خود کو “موسمیاتی ماہر” قرار دے رہا ہے۔ اس کے لیے:

  • کوئی ڈگری نہیں چاہیے
  • کوئی سرٹیفیکیٹ نہیں چاہیے
  • کوئی تجربہ نہیں چاہیے
  • بس “شعور” کا دعویٰ کافی ہے

چھٹا باب: وہ چار فیصد جو باقی کو بے نقاب کرتے ہیں

موسمیاتی تخفیف (Climate Mitigation)
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے اقدامات، جیسے شمسی توانائی، ہوا کی توانائی، درخت لگانا، کاربن اخراج کم کرنا۔ یہ بھی اچھے اقدامات ہیں لیکن ان میں بھی گھپلے کی گنجائش آگہی سے کم اور موافقت سے زیادہ ہوتی ہے۔

کیوں صرف چار فیصد؟

عالمی اداروں کا دعویٰ ہے کہ موافقت کے منصوبے مہنگے ہیں، مشکل ہیں، اور نتائج میں وقت لگتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

  • موافقت کے منصوبوں میں شفافیت زیادہ ہوتی ہے
  • ان میں آڈٹ سخت ہوتا ہے
  • ان میں گھپلے کی گنجائش کم ہوتی ہے
  • ان میں جرائم پیشہ افراد کی گنجائش نہیں

اسی لیے وہ لوگ جو موسمیاتی تبدیلی کے نام پر کاروبار کرنا چاہتے ہیں، وہ آگہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

باقی 96 فیصد کا کاروبار

باقی 96 فیصد منصوبوں میں:

  • کاربن اخراج میں تخفیف کے نام پر صنعتوں کو گرانٹس دی جاتی ہیں (جو اصل میں ان کی اپنی صنعت کو فائدہ پہنچاتی ہیں)
  • آگہی کے نام پر سیمینارز اور ورکشاپس ہوتی ہیں (جہاں کھانا، ٹرولیاں، اور ہوٹل کے بل اصل خرچ ہوتے ہیں)
  • تعلیم کے نام پر دو تین روزہ کورسز بنائے جاتے ہیں (جو کسی کام نہیں آتے)

ساتواں باب: ایک بے باک نتیجہ

جو چیخیں نکلنی چاہئیں

اس تحریر کو پڑھ کر شاید کئی لوگوں کو تکلیف ہو۔ وہ لوگ جو:

  • سمینارز کے نام پر ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں
  • ورکشاپس کے نام پر بین الاقوامی سیریں کرتے ہیں
  • آگہی کے نام پر سوشل میڈیا پر “انفلوئنسر” بنے بیٹھے ہیں
  • موسمیاتی تبدیلی کے نام پر این جی اوز چلا رہے ہیں لیکن زمین پر ایک پودا نہیں لگایا
  • فنڈنگ کے نام پر غریب ممالک کے غریب عوام کے حقوق کھا رہے ہیں

موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ اس سے کروڑوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ سیلاب آ رہے ہیں، خشک سالیاں بڑھ رہی ہیں، فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، پانی ختم ہو رہا ہے۔ اور اس حقیقی مسئلے کا حل آگہی کے سیمینارز میں نہیں، موافقت کے منصوبوں میں ہے۔

لیکن موافقت کے منصوبے مشکل ہیں، تکنیکی ہیں، شفاف ہیں، اور گھپلے کے لیے ناکافی ہیں۔

اسی لیے گلوبل ساؤتھ کی این جی اوز، جن میں سے بیشتر خود کو “ماحولیاتی کارکن” قرار دیتی ہیں، وہ موافقت کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔

آخری بات

اگر آپ واقعی موسمیاتی تبدیلی سے لڑنا چاہتے ہیں، تو:

  • سیلاب سے بچاؤ کے بند بنائیں، نہ کہ سیلاب پر سیمینارز
  • نئی فصلیں متعارف کروائیں، نہ کہ زراعت پر ورکشاپس
  • پانی کے ذخیرے بنائیں، نہ کہ پانی کے بحران پر تقریریں
  • کمیونٹیز کو طاقت دیں، نہ کہ ان کے نام پر فنڈز حاصل کریں

ورنہ یہ “چار فیصد” کا تناسب ہمیشہ ایسا ہی رہے گا، اور موسمیاتی تبدیلی کے نام پر کاروبار کرنے والوں کی چیخیں جو دراصل ان کی کامیابی کی نشانی ہیں ہمیشہ سنائی دیں گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *