جب طارق ابوالحسن جیسا سینئر صحافی اپنے مضمون “میری ملیر ندی مر رہی ہے” میں کہتا ہے کہ ملیر ندی ختم ہو رہی ہے تو پہلا ردعمل یہی ہوتا ہے کہ یہ ایک جذباتی شخص کی جذباتی بات ہے۔ بچپن کی یادوں میں گم ایک آدمی جو ہر تبدیلی کو تباہی سمجھ رہا ہے۔ ترقی کا مخالف، جدیدیت سے خائف، ماضی پرست۔

یہ کہنا آسان ہے۔

لیکن جب آپ ان کی باتوں کو صرف جذبات کے ترازو پر نہیں، بلکہ ہائیڈرولوجی یعنی آبیات کے علم پر، ارضیات پر، تاریخ پر اور دنیا بھر کے تجربات پر پرکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ غلط نہیں کہہ رہے۔ بلکہ وہ جتنا کہہ رہے ہیں، حقیقت اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

39 کلومیٹر لمبائی میں ندی کی تہہ کھودی گئی
20 فٹ گہرائی تک ریت اور مٹی نکالی گئی
600 فٹ تک کھودنے پر بھی بمشکل پانی ملتا ہے
4.7 کروڑ مکعب میٹر ریت کا اندازاً حجم چرایا گیا

ندی کبھی نہیں بھولتی، یہ شاعری نہیں بلکہ سائنس ہے

دنیا کے ہر ماہرِ آبیات کے علم کا ایک بنیادی اصول ہے جسے انگریزی میں “River Memory” یعنی دریا کی یادداشت کہتے ہیں۔

🔬 سائنسی وضاحت

کوئی بھی ندی یا دریا ہزاروں سال میں اپنا راستہ بناتا ہے۔ وہ راستہ اس کی زمین کی ساخت میں، مٹی کی تہوں میں، پانی کے بہاؤ کے زاویوں میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ آپ اس کے اوپر پتھر رکھ دیں، کنکریٹ ڈال دیں، عمارت بنا دیں۔ ندی پھر بھی اپنا راستہ یاد رکھتی ہے۔ اور جب موقع ملتا ہے، وہ اپنے راستے پر لوٹ آتی ہے۔

اس مظہر کو Fluvial Geomorphology (دریائی ارضی شکل سازی) کا اہم ترین اصول سمجھا جاتا ہے۔

🌍 دنیا بھر کی ندیاں اور فطرت کا بدلہ، تاریخی مثالیں

ندی / دریا ملک کیا کیا گیا نتیجہ
مسیسیپی امریکہ بند بنائے، راستے موڑے، کنارے کنکریٹ سے باندھے 1993 سیلاب: اربوں ڈالر نقصان، ندی پرانے راستوں پر لوٹی
یانگزی چین دنیا کا سب سے بڑا ڈیم — تھری گارجز گاد جمع، نیچے کٹاؤ، قدرتی ماحول متاثر
رائن جرمنی 19ویں صدی میں تنگ اور سیدھا کیا سیلاب زیادہ تباہ کن؛ اربوں یورو خرچ کر کے دوبارہ قدرتی بنایا
لاس اینجلس امریکہ کنکریٹ نہر میں تبدیل زیر زمین پانی ختم، قدرتی حیات تباہ، آج اربوں سے بحالی جاری
ہوانگ ہو چین (1931) قدرتی بہاؤ تبدیل تاریخ کا بدترین سیلاب، لاکھوں ہلاک
راوی پاکستان فلڈ پلین پر تجاوزات 2010 سیلاب: لاہور کے نئے علاقے زیر آب جو پہلے کبھی نہ تھے
ملیر ندی پاکستان 39 کلومیٹر بھرائی، 20 فٹ کھدائی، ریت چوری حساب ابھی باقی ہے…
⚠ فوری انتباہ

سوال یہ نہیں کہ ملیر ندی وار کرے گی یا نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کب کرے گی اور کتنے لوگ اس کی زد میں ہوں گے۔ کورنگی میں لاکھوں لوگ رہتے ہیں۔ یہ خطرہ فرضی نہیں ہے۔


تاریخ کے صفحات پر ملیر ندی کراچی

مغل دور — 17ویں صدی
اس علاقے سے گزرنے والے سفرنامہ نگاروں نے ملیر ندی کے کنارے قیام کیا۔ اس کے پانی کو میٹھا اور صحت بخش لکھا گیا۔
1860 کی دہائی — برطانوی دور
انگریز انجینئروں نے ملیر ندی کا باریک مطالعہ کیا اور ڈملوٹی نظام بنایا۔ ندی کے اندر درجن سے زائد کنویں، زیر زمین پانی اکٹھا کرتے اور کراچی شہر تک پہنچاتے انجینئرنگ کا ایک شاہکار جو ندی کے قدرتی رویے کو سمجھ کر بنایا گیا تھا۔
21 فروری 1948
قائداعظم محمد علی جناح نے ملیر کینٹونمنٹ کا دورہ کیا اور پاکستانی فوج کے کسی یونٹ کا پہلا دورہ کیا۔ ڈان اخبار کے تاریخی آرکائیو میں موجود ایک نادر تصویر کے کیپشن کے مطابق قائداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح نے نواب بہاولپور کے ساتھ ملیر میں ہائی ٹی بھی کی۔ ملیر ان کی پسندیدہ آرام گاہ تھی۔
1970 کی دہائی
بھٹو دور میں چھوٹے چھوٹے بند بنا کر برساتی پانی ذخیرہ کرنے کا دور اندیش اقدام۔ ساتھ ہی سیوریج ندی میں چھوڑنے کی تباہ کن ابتدا بھی اسی دور میں ہوئی۔
حالیہ برسوں — شاہراہِ بھٹو تعمیر
39 کلومیٹر لمبائی میں ندی کے اندر سے 20 فٹ گہری کھدائی۔ نرم ریت سے بھرائی۔ درمیانے سیلاب میں ہی ایک حصہ بہہ گیا۔
💡 کیا آپ جانتے ہیں؟

قائداعظم جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایک سال میں، جب وہ بیمار تھے اور ان کی صحت تیزی سے گر رہی تھی، ملیر کو اپنے فوجی دوروں کے لیے چنا۔ وہ کراچی کے کسی اور مقام پر بھی جا سکتے تھے۔ یہ اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ اس سرزمین کی کشش تھی جہاں کی فضا شفابخش تھی۔


آبیات کی زبان میں ملیر ندی کراچی کی تباہی کا سائنسی حساب

طارق ابوالحسن نے جو کچھ محسوس کیا اور دیکھا، آبیات کی زبان میں اسے پاکستان کے ماحولیاتی قوانین کی روشنی میں بھی پرکھنا ضروری ہے۔

💧 ملیر ندی کا قدرتی پانی کا چکر: پہلے اور اب

پہلے (قدرتی نظام)

مون سون بارش
ندی میں بہاؤ
نرم ریت میں جذب
زیر زمین ذخیرہ بھرتا ہے
سال بھر کنوؤں میں پانی

اب (تباہ شدہ نظام)

مون سون بارش
ندی میں بہاؤ
کنکریٹ سے ٹکراؤ
تیزی سے سمندر میں
زمین پیاسی، کنویں خشک
🔬 Recharge Failure — زمین کا بھرنے سے انکار

ماہرین اس کو “Recharge Failure” کہتے ہیں۔ جب آپ ندی کی 39 کلومیٹر لمبائی میں 20 فٹ گہری بھرائی کرتے ہیں تو پانی ریت میں جذب نہیں ہو سکتا۔ وہ سطح پر بہتا ہے اور تیزی سے سمندر میں چلا جاتا ہے۔ زیر زمین ذخیرہ – جسے Aquifer کہتے ہیں – خالی رہ جاتا ہے۔

نتیجہ: کنویں خشک، پھر مزید گہرائی، پھر وہ بھی خشک۔ جب تک پانی بالکل ختم نہیں ہوتا یا اتنا گہرا نہیں ہو جاتا کہ نکالنا ممکن نہ رہے۔

💧 زیر زمین پانی کی سطح: پہلے اور اب

پہلو ✅ پہلے ⛔ اب
پانی کی گہرائی 100 سے 150 فٹ 400 سے 600 فٹ، بمشکل
کنوؤں کی حالت فعال، سال بھر پانی سیکڑوں کنویں خشک
برساتی پانی کی منزل زمین میں جذب سیدھا سمندر
سرکاری پانی سپلائی ڈملوٹی نظام سے ملیر کے گوٹھوں میں سرکاری سپلائی نہیں
زراعت کی حالت سیکڑوں ایکڑ باغات باغات اجڑ رہے ہیں

بیس فٹ کھدائی کا حساب: جو کاغذ پر نہیں ملتا

طارق ابوالحسن نے لکھا ہے کہ 39 کلومیٹر لمبائی میں ندی کے اندر سے بیس فٹ گہری کھدائی ہوئی۔ آبیات اور تعمیراتی علم کی بنیاد پر ایک سادہ حساب:

📊 حجم کا اندازہ

39,000 میٹر × 200 میٹر (اوسط چوڑائی) × 6 میٹر (20 فٹ) = 4 کروڑ 68 لاکھ مکعب میٹر

یہ وہ ریت اور مٹی ہے جو ملیر ندی کے پیٹ سے نکالی گئی۔ یہ ریت کہاں گئی؟ کچھ بھرائی میں، باقی فروخت ہوئی۔ کراچی میں ریت کا کاروبار انتہائی منافع بخش ہے۔ یہ وہی ریت تھی جو ندی کا زیر زمین پانی سنبھالتی تھی۔ ٹرکوں میں بھر کر لے جائی گئی۔

مرم کی جگہ ملیر ندی کی نرم ریت استعمال ہوئی۔ نرم ریت تیز سیلابی پانی کے کٹاؤ کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اور یہ پہلے ہی ثابت ہو چکا ہے۔

— ماحولیاتی ماہرین کا اتفاق رائے

سیلاب کا خطرہ: آبیات کی ریاضی جو خوفناک ہے

ملیر ندی ایک فعال سیلابی ندی ہے۔ اب صورتحال بدل گئی ہے اور کراچی کے ماحولیاتی بحران کا یہ پہلو سب سے زیادہ فوری توجہ چاہتا ہے۔

🔬 Hydraulic Pressure Concentration

پانی کی رفتار اور اس کے کٹاؤ کی طاقت کا رشتہ مربع (Square) کے حساب سے بڑھتا ہے، یعنی رفتار کے مربع (رفتار × رفتار) کے برابر۔ رفتار دو گنا ہو تو کٹاؤ کی طاقت چار گنا (2²=4)۔ رفتار تین گنا ہو تو نو گنا (3²=9)۔

ملیر ندی کے بیچ میں ایکسپریس وے بنانے سے پانی کا راستہ تنگ ہو گیا ہے۔ سیلاب کے وقت رفتار بڑھے گی۔ وہ تیز رفتار پانی بائیں کنارے کے کمزور بند پر ٹکرائے گا۔

🌊 سیلاب کے خطرے میں اضافہ: موازنہ

عنصرقدرتی ندیملیر ندی اب
پانی کے بہاؤ کی چوڑائی پوری ندی کی چوڑائی نصف یا اس سے کم
سیلابی پانی کی رفتار قابل کنٹرول خطرناک حد تک تیز
کٹاؤ کی طاقت معمول 4 سے 9 گنا زیادہ
بند پر دباؤ دونوں کناروں پر برابر صرف بائیں بند پر، یک طرفہ
بھرائی کا مواد N/A نرم ریت — کٹاؤ کے خلاف بے بس
خطرہ کم کورنگی انڈسٹریل ایریا اور لاکھوں آبادی
⚠ ثبوت پہلے ہی آ چکا ہے

گزشتہ سال ملیر ندی میں درمیانے درجے کے سیلاب میں میمن گوٹھ کے قریب شاہراہِ بھٹو کا ایک تعمیر شدہ حصہ بہہ گیا۔ بعد میں اس جگہ ستونوں پر ایکسپریس وے بنائی گئی۔ یعنی ڈیزائن کی غلطی تسلیم کر لی گئی۔ بڑے سیلاب کا ابھی انتظار ہے۔


قدرتی ندی بمقابلہ انسانی مداخلت: فرق کیا ہوتا ہے؟

🌿 قدرتی ندی بمقابلہ شاہراہِ بھٹو والی ملیر ندی

پہلوقدرتی ندیمداخلتی ندی
ریت کی تہہ قدرتی فلٹر، پانی جذب 20 فٹ تک کھودی گئی
فلڈ پلین سیلاب پھیلتا، زمین جذب کرتی تنگ، پانی سیدھا سمندر
حیاتی تنوع مچھلیاں، پرندے، کچھوے، گیدڑ تقریباً ختم
زراعت سیکڑوں ایکڑ باغات باغات اجڑ رہے ہیں
ہجرتی پرندے سائبیریا سے آتے تھے اب نہیں آتے
مقامی آبادی کا پانی 100-150 فٹ گہرائی پر 400-600 فٹ، بمشکل
کاربن جذب کرنے کی صلاحیت درخت، گھاس، جڑی بوٹیاں کنکریٹ، کاربن چھوڑتا ہے

ماحولیاتی صحافت میں ایک اصطلاح ہے “سست تشدد”: وہ تباہی جو آہستہ آہستہ ہوتی ہے، جو فوری نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے کیمرے نہیں آتے، بریکنگ نیوز نہیں بنتی۔ لیکن وہ اتنی ہی حقیقی ہوتی ہے جتنی کوئی آنے والی تباہی۔

— Rob Nixon، “Slow Violence and the Environmentalism of the Poor” (2011)

اگر صحیح کیا جاتا تو: ستونوں پر بنی ہوتی

طارق ابوالحسن نے کہا ہے کہ اگر ایکسپریس وے ستونوں پر بنائی جاتی تو مسائل نہ ہوتے۔ یہ کوئی خیالی بات نہیں۔

✅ دنیا میں کامیاب مثالیں موجود ہیں

بنکاک تھائی لینڈ، کوالالمپور ملیشیا اور ممبئی بھارت میں ندیوں اور سمندری علاقوں کے اوپر سے ستونوں پر شاہراہیں گزاری گئی ہیں جو پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکتی نہیں، بلکہ اس کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔ یہ مہنگا ہے لیکن دیرپا ہے اور ندی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

ستونوں پر بنانا مہنگا ہوتا، یہ سچ ہے۔ لیکن اس اضافی لاگت کا موازنہ ان نقصانات سے کریں جو پاکستان میں ماحولیاتی غلط فہمیوں کی وجہ سے آنے والی نسلوں کو اٹھانے پڑیں گے سیلابوں میں، زیر زمین پانی ختم ہونے میں، کورنگی کے خطرے میں تو ستونوں کی لاگت بہت کم نظر آتی ہے۔

لیکن ستونوں پر بنانے میں ریت نہیں چرائی جا سکتی تھی۔ اور ریت چوری کے کاروبار نے سستی بھرائی کا خرچ بھی پورا کیا اور اوپر سے منافع بھی دیا۔


وہ آوازیں جو دبائی گئیں، اور جن کا حساب باقی ہے

ملیر کے پرانے باشندوں، بلوچ برادری، جوکھیو خاندان اور ماحولیاتی ماہرین نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی تھی۔ لیکن ان کی آوازوں کو پولیس اور مقدمات کے ذریعے دبایا گیا۔

📜 تاریخی ریکارڈ

جوکھیو خاندان کی قربانی

2017 میں جوکھیو خاندان کے ارکان نے ملیر ندی میں تجاوزات کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ ان میں سے کچھ کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ یہ کہانی ریکارڈ پر ہے، اخباروں میں چھپی ہے، اور آج بھی انصاف کا انتظار ہے۔

جب مقامی لوگ، جو نسل در نسل کسی جگہ رہتے آئے ہوں، کہیں کہ کچھ غلط ہو رہا ہے تو انہیں نظرانداز کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔ انہیں اس زمین کا، اس پانی کا، اس ہوا کا وہ علم ہوتا ہے جو کسی کتاب میں نہیں ملتا۔


قائداعظم اور ملیر: ایک تاریخی رشتہ جو متعدد ذرائع سے ثابت ہے

طارق ابوالحسن نے لکھا کہ قائداعظم چھٹیوں میں ملیر ندی کے کنارے آتے تھے۔ یہ بات ایک نہیں، متعدد تاریخی ذرائع سے ثابت ہے۔

🏛 قائداعظم اور ملیر: تاریخی حوالہ جات

ماخذتفصیل
ڈان اخبار آرکائیو تاریخی تصویر کا کیپشن: قائداعظم اور فاطمہ جناح نے نواب بہاولپور کے ساتھ ملیر میں ہائی ٹی کی
ملیر کینٹونمنٹ ریکارڈ 21 فروری 1948 — قائداعظم کا پاکستانی فوج کی کسی یونٹ کا پہلا دورہ ملیر میں
Wikiquote / Pakistan Defence 21 فروری 1948 کا تاریخی خطاب — 5th Heavy Ack Ack Regiment کو ملیر کینٹونمنٹ میں
Punjab eCatalog قائداعظم کی تقاریر کا سرکاری مجموعہ — ملیر کا دورہ درج

قائداعظم کے لیے ملیر محض گزرگاہ نہیں تھی، یہ ان کا پسندیدہ مقام تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال میں، جب توانائی کم تھی، اپنے فوجی دوروں کے لیے ملیر کو چنا اور اپنا وقت یہاں گزارا۔


✅ اہم نکات: ایک نظر میں
  • طارق ابوالحسن جذباتی نہیں بلکہ حقائق پر مبنی بات کر رہے ہیں؛ سائنس انہیں درست ثابت کرتی ہے
  • 39 کلومیٹر لمبی 20 فٹ گہری کھدائی نے ملیر ندی کی زیر زمین پانی جذب کرنے کی صلاحیت ختم کی
  • کنوؤں میں پانی 100-150 فٹ سے 400-600 فٹ کی گہرائی میں چلا گیا؛ یہ Recharge Failure ہے
  • بائیں کنارے کے بند پر سیلابی دباؤ بڑھ گیا؛ کورنگی کی لاکھوں آبادی خطرے میں
  • نرم ریت سے بھرائی، مرم کی جگہ، پہلے ہی بہہ چکی اور آگے مزید خطرہ ہے
  • دنیا بھر میں جہاں ندیوں سے زبردستی کی گئی فطرت نے حساب چکایا؛ ملیر کا حساب باقی ہے
  • قائداعظم کا ملیر سے تعلق کئی تاریخی ذرائع سے ثابت ہے؛ ایک ایسی سرزمین جسے تباہ کیا جا رہا ہے

کچھوے نہیں رہے، گیدڑ نہیں رہے، ہد ہد اب لانوں میں نہیں آتا، سائبیریا کے پرندے اب یہاں نہیں اترتے۔ کنویں خشک ہیں، باغ اجڑ گئے، پانی چار سو فٹ نیچے چلا گیا ہے۔

اور شاہراہِ بھٹو کا افتتاح ہو گیا ہے۔ لوگ جشن منا رہے ہیں۔

میری ملیر ندی مر رہی ہے۔۔۔