بین الاقوامی کاربن ایکشن پارٹنرشپ کی نئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کاربن مارکیٹس کا دائرہ بڑھ رہا ہے، آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے اور زیادہ ممالک اخراج کم کرنے کے لیے مالیاتی نظام اپنا رہے ہیں۔
انٹرنیشنل کاربن ایکشن پارٹنرشپ نے اپنی سالانہ رپورٹ Emissions Trading Worldwide 2026 میں بتایا ہے کہ عالمی کاربن مارکیٹ نے 2025 کے دوران 79 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی۔ یہ صرف ایک مالیاتی خبر نہیں، بلکہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ دنیا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے قانون، منڈی اور سرمایہ کاری کو ایک ساتھ جوڑ رہی ہے۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
دنیا بھر میں اس وقت 38 ایمیشن ٹریڈنگ سسٹمز کام کر رہے ہیں۔ یہ نظام عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج کے تقریباً 23 فیصد حصے کا احاطہ کرتے ہیں، یعنی لگ بھگ 12 گیگاٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر اخراج ان کے دائرے میں آتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ کاربن پرائسنگ کے مختلف نظام اب عالمی اخراج کے مزید بڑے حصے کو کور کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلودگی کو مفت چھوڑنے کے بجائے اس پر باقاعدہ قیمت لگانے کا رجحان مضبوط ہو رہا ہے۔
گزشتہ دہائی کے مقابلے میں کاربن سے حاصل ہونے والی سرکاری آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ محض ماحولیات کی بحث نہیں رہی، بلکہ قومی بجٹ، صنعتی پالیسی اور ترقیاتی سرمایہ کاری سے جڑی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
کاربن کریڈٹ اصل میں کیا ہوتا ہے؟
اس پورے نظام میں کاربن کریڈٹ ایک مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کوئی منصوبہ ایک خاص مقدار میں کاربن اخراج کم کرتا ہے یا فضا سے کاربن جذب کرتا ہے، تو اس کے بدلے ایک قابلِ تجارت کریڈٹ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کاربن مارکیٹس کو بعض لوگ آلودگی کی قیمت قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے موسمیاتی حل کے لیے سرمایہ پیدا کرنے والا نظام سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی افادیت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ضوابط کتنے مضبوط ہیں، نگرانی کتنی شفاف ہے، اور آمدنی کہاں خرچ ہوتی ہے۔
کمپلائنس مارکیٹ اور والنٹری مارکیٹ میں فرق
عالمی کاربن مارکیٹ کو عمومی طور پر دو بڑے حصوں میں دیکھا جاتا ہے: ایک کمپلائنس مارکیٹ اور دوسری والنٹری مارکیٹ۔ دونوں میں کاربن کریڈٹ یا اخراج سے متعلق تجارت ہوتی ہے، مگر ان کا قانونی اور عملی ڈھانچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔
والنٹری مارکیٹ میں بھی سرگرمی بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر 2025 کے ابتدائی عرصے میں کمپنیوں نے بڑی مقدار میں کریڈٹس ریٹائر کیے، نئی سرمایہ کاری بڑھی، اور ایشیا نے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر توجہ حاصل کی۔
چین کی توسیع نے منظرنامہ بدل دیا
چین نے اپنے قومی ایمیشن ٹریڈنگ سسٹم کو صرف بجلی کے شعبے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اسٹیل، سیمنٹ اور ایلومینیم تک بھی وسعت دی۔ اس سے نظام کی کوریج میں مزید تقریباً 3 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر اضافہ ہوا۔
چین کی یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ جب دنیا کی بڑی معیشتیں اپنے صنعتی شعبوں کو کاربن نظام کے تحت لاتی ہیں تو عالمی منڈیوں، برآمدات اور سرمایہ کاری کے رجحانات بھی بدلنے لگتے ہیں۔
کاربن تلافی اور کاربن کیپچر کیوں زیرِ بحث ہیں؟
کاربن نظام صرف اخراج کم کرنے تک محدود نہیں۔ اب ایسے طریقے بھی اہم ہو رہے ہیں جن کے ذریعے یا تو اخراج کی تلافی کی جائے یا کاربن کو براہِ راست پکڑ کر محفوظ کیا جائے۔
ابھرتی معیشتیں بھی میدان میں آ رہی ہیں
برازیل، بھارت، انڈونیشیا، ترکیہ اور ویتنام جیسے ممالک اب کاربن ٹریڈنگ اور اخراجی ضوابط کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ ممالک اپنے مقامی صنعتی ڈھانچے، ترقیاتی ضرورتوں اور برآمدی مفادات کو سامنے رکھ کر نظام تیار کر رہے ہیں۔
یورپ اور برطانیہ کا زور معیار اور حفاظت پر
یورپی یونین کا ایمیشن ٹریڈنگ سسٹم دنیا کے قدیم اور بڑے نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی کاربن آمدنی میں بھی اس کا حصہ نمایاں رہتا ہے۔ یورپ اور برطانیہ اب صرف منڈی نہیں چلا رہے، بلکہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کاربن پالیسیوں سے صنعتیں ایسے ممالک میں منتقل نہ ہو جائیں جہاں قواعد کمزور ہوں۔
اگر کسی ایک خطے میں آلودگی پر سخت قیمت لگا دی جائے اور کمپنیاں اپنی پیداوار ایسے ملک میں منتقل کر دیں جہاں ایسا کوئی قانون نہ ہو، تو اسے کاربن لیکیج کہا جاتا ہے۔ اسی خدشے کے باعث کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ جیسے نظام اہمیت حاصل کر رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟
پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، مگر کاربن مارکیٹ کے مواقع سے ابھی تک بہت محدود فائدہ اٹھا سکا ہے۔ ملک میں جنگلات، مینگروز، قابلِ تجدید توانائی، توانائی بچت اور صنعتی بہتری جیسے کئی شعبے موجود ہیں جہاں سے کاربن کریڈٹس پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن بنیادی ڈھانچے، قواعد اور تربیت کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
جہاں دوسرے ابھرتے ہوئے ممالک اپنے کمپلائنس نظام، رجسٹریز اور لائسنسنگ ماڈلز پر کام کر رہے ہیں، وہاں پاکستان میں یہ شعبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس لیے یہ خبر پاکستان کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔
کیا ہم صرف موسمیاتی نقصان اٹھاتے رہیں گے، یا ایسی پالیسی، تربیت اور مارکیٹ ڈھانچہ بنائیں گے جس سے موسمیاتی مالیات اور کاربن فنانس میں اپنا حصہ لے سکیں؟
مزید پڑھیں
اگر آپ اس موضوع کو مزید گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں، تو یہ متعلقہ تحریریں اسی موضوع کو مختلف زاویوں سے کھولتی ہیں:
آپ کی رائے اہم ہے
کیا پاکستان کو بھی اپنا مؤثر قومی کاربن مارکیٹ فریم ورک بنانا چاہیے؟
کیا آپ کے خیال میں کاربن فنانس پاکستان کے لیے ایک حقیقی معاشی موقع بن سکتا ہے، یا ہم ابھی بھی بنیادی تیاری سے بہت دور ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں اور یہ تحریر ان لوگوں تک پہنچائیں جو پاکستان کے موسمیاتی مستقبل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
کلائمیٹ فنانس سیکھیں، عملی مہارت حاصل کریں
اگر آپ کاربن مارکیٹ، کاربن کریڈٹ، کاربن پرائسنگ، کاربن تلافی، ڈی کاربونائزیشن اور کلائمیٹ فنانس کو پیشہ ورانہ سطح پر سمجھنا چاہتے ہیں، تو کلائمیٹ فنانس کورس کے لیے ابھی رجسٹریشن کریں۔
اس کورس میں آپ کیا سیکھ سکتے ہیں؟
- کاربن مارکیٹ کا مکمل فریم ورک، یعنی کمپلائنس اور والنٹری دونوں نظام
- کاربن کریڈٹس کیسے بنتے، تصدیق ہوتے اور فروخت کیے جاتے ہیں
- کاربن رجسٹری اور لائسنسنگ کے بنیادی اصول
- پاکستان میں کلائمیٹ فنانس اور کاربن فنانس کے مواقع
- بین الاقوامی موسمیاتی معاہدوں کا عملی مفہوم
رپورٹنگ اور تدوین: کلائمیٹ اردو / ویب پبلشنگ کے لیے ازسرِ نو مرتب شدہ متن


Leave a Reply