اپریل ابھی پوری طرح آیا بھی نہیں اور کراچی، لاہور، اسلام آباد میں پارہ چڑھنا شروع ہو چکا ہے۔ جو گرمی کبھی مئی کے آخر یا جون کی آمد کے ساتھ آتی تھی، اب مارچ ہی میں دستک دینے لگی ہے۔ اور یہ صرف موسمیاتی تبدیلی کا احساس نہیں، بلکہ سائنس بھی یہی کہہ رہی ہے۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی ایک حالیہ تحقیق، جو سائنسی جریدے انوائرنمنٹل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہوئی ہے، نے بتایا ہے کہ زمین کے وسطی عرض بلد والے خطوں میں گرمی کا موسم 1960ء کی دہائی کے مقابلے میں اوسطاً 30 دن لمبا ہو چکا ہے۔

وسطی عرض بلد سے مراد وہ جغرافیائی پٹی ہے جو قطبوں اور خطِ استوا کے بیچ واقع ہے اور جہاں پاکستان، بھارت، یورپ اور امریکہ کے بڑے حصے آتے ہیں۔
قطب سے مراد زمین کے شمالی اور جنوبی انتہائی سرے ہیں جہاں برف ہی برف ہے اور جہاں سورج کی روشنی بہت کم پڑتی ہے۔
خطِ استوا خطِ استوا سے مراد زمین کے بیچوں بیچ سے گزرنے والی وہ خیالی لکیر ہے جس کے قریبی علاقے سال بھر گرم رہتے ہیں۔
مارچ 2026کو گلوبل وارمنگ نے چوتھا گرم ترین مارچ بنادیا
Heatwave Analysis

تحقیق کے مطابق 1990ء سے 2023ء کے دوران گرمی کا موسم ہر دہائی میں اوسطاً چھ دن مزید لمبا ہوتا رہا ہے۔ یہ رفتار ماضی کی تحقیقات میں سامنے آنے والی 4.8 دن فی دہائی سے کہیں زیادہ ہے، یعنی رفتار سست نہیں ہو رہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔

“کچھ شہروں میں تو گرمی ہر سال ایک سے زیادہ دن لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں 1990ء میں گرمی 80 دن رہتی تھی اور اب 130 دن تک پھیل گئی ہے۔ کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں یہ موسم ہر دہائی آٹھ دن اضافی ہو رہا ہے۔”

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ اعداد و شمار خاص طور پر تشویشناک ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ طویل اور شدید ہوتی جا رہی ہیں اور یہ خاص طور پر ان لوگوں پر زیادہ اثر ڈالتی ہیں جن کے پاس پنکھا، کولر یا ایئرکنڈیشنر جیسی سہولیات نہیں ہیں۔

گرین ہاؤس افیکٹ: موسمیاتی تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ انسانوں کی صنعتی سرگرمیوں، گاڑیوں اور بجلی گھروں سے خارج ہونے والے دھوئیں نے زمین کے گرد ایک نادیدہ چادر بچھا دی ہے جو سورج کی گرمی کو واپس جانے سے روکتی ہے، نتیجتاً زمین گرم سے گرم تر ہوتی جا رہی ہے۔
درختوں کے فوائد اور نقصانات: شجرکاری کب فائدہ دیتی ہے اور کب نقصان؟

ماضی میں پاکستان اور بھارت میں اپریل کے شروع میں درجہ حرارت معمول سے دس ڈگری بڑھ کر 43 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا تھا۔ جیکب آباد، بہاولنگر، بہاولپور، حیدرآباد اور کراچی ایسے شہر ہیں جہاں گرمی کی یہ لہریں سب سے شدت سے محسوس کی گئی ہیں۔

گرمی کی لہر سے مراد وہ صورتحال ہے جب کسی علاقے میں کئی دن مسلسل درجہ حرارت معمول سے بہت زیادہ رہے اور رات کو بھی گرمی سے راحت نہ ملے۔

“اس تحقیق میں ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ گرمی نہ صرف لمبی ہو رہی ہے بلکہ اچانک آتی ہے اور اچانک ختم بھی ہو جاتی ہے۔ موسموں کی یہ تیز رفتار تبدیلی انسانی جسم کو ڈھلنے کا وقت نہیں دیتی۔”

موسم کے ساتھ ڈھلنے سے مراد یہ ہے کہ انسانی جسم آہستہ آہستہ نئے درجہ حرارت کا عادی ہو جاتا ہے، جیسے سردیوں کے بعد جب گرمی آہستہ آہستہ آتی ہے تو ہم ایک ایک درجہ کرکے اس کے عادی ہو جاتے ہیں، لیکن اگر موسم یک دم بدل جائے تو جسم کو صدمہ لگتا ہے۔

تحقیق میں جمع شدہ حدت کا بھی ذکر ہے جو شمالی نصف کرے کی زمین پر 1990ء کے بعد سے تین سو فیصد تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔

جمع شدہ حدت سے مراد پورے موسمِ گرما میں جتنی گرمی کا کل بوجھ ہمارے جسم، ہماری فصلوں اور ہمارے گھروں پر پڑتا ہے، اس سب کا مجموعہ ہے۔
شمالی نصف کرہ سے مراد زمین کا وہ حصہ ہے جو خطِ استوا سے اوپر شمال کی طرف ہے اور جس میں پاکستان، بھارت، چین، یورپ اور امریکہ سب شامل ہیں۔
بلوچستان میں کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر

یونیسف کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچے بڑوں کے برعکس درجہ حرارت میں تبدیلی سے خود کو فوری طور پر ہم آہنگ نہیں کر سکتے۔ شدید گرمی میں ان کے جسم سے فاضل حرارت خارج نہیں ہو پاتی جس کے نتیجے میں پانی کی کمی، بے ہوشی، اور گردوں پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔

حاملہ خواتین کے لیے بھی خطرہ ہے۔ شدید گرمی کے دوران قبل از وقت زچگی اور کمزور بچے پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسموں کی اس بدلتی ہوئی ترتیب نے زرعی چکر یعنی فصلیں بونے اور کاٹنے کے وقت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

زرعی چکر سے مراد وہ روایتی ترتیب ہے جس کے مطابق کسان جانتے تھے کہ کب بیج ڈالنا ہے، کب پانی دینا ہے اور کب فصل کاٹنی ہے، یہ ترتیب صدیوں سے موسم کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔
جب برف تیزی سے پگھلتی ہے تو بہار کے موسم میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جب موسم اچانک بدلتا ہے تو ابتدائی گرمی کی لہریں زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں کیونکہ لوگوں کے جسم ابھی اس کے عادی نہیں ہوتے۔ اور جب گرمی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو بجلی کی کھپت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ صرف موسم کی خبر نہیں۔ یہ ہمارے طرزِ زندگی، ہمارے گھروں کی تعمیر، ہماری فصلوں کے کیلنڈر اور ہمارے بچوں کی صحت سے جڑا سوال ہے۔

آپ کے علاقے میں گرمی کا موسم پہلے کے مقابلے میں کتنا بدل گیا ہے؟ کیا آپ نے بھی محسوس کیا کہ اب سردیاں چھوٹی اور گرمیاں لمبی ہو گئی ہیں؟ نیچے کمنٹ میں اپنا تجربہ ضرور لکھیں کیونکہ آپ کی ایک بات کسی اور کو بھی سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

کلائمیٹ فنانس: وہ علم جو آپ کو ترقی کی بلندیوں تک لے جاسکتا ہے
© 2026 کلائمیٹ اُردو انیشیٹو – موسمیاتی رپورٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *