جب بنیادی ڈھانچہ ہی موجود نہ ہو تو کاربن کریڈٹ کا سودا کیسے چلے گا؟
جب بنیادی ڈھانچہ ہی موجود نہ ہو تو کاربن کریڈٹ کا سودا کیسے چلے گا؟

یکم اپریل 2026 کو اسلام آباد میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے دفتر میں ایک تقریب منعقد ہوئی جسے حکومت نے ”تاریخی سنگِ میل” قرار دیا۔ پاکستان اور ناروے کے درمیان پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6.2 کے تحت ایک دوطرفہ کاربن مارکیٹ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ بین الاقوامی کاربن تجارت، موسمیاتی مالیات اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا۔

کاربن مارکیٹ

کاربن مارکیٹ ایسا نظام یا منڈی ہے جہاں ”کاربن کریڈٹ” (یعنی کاربن میں کمی کے ثبوت) کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

کاربن کریڈٹ

”کاربن کریڈٹ” وہ ثبوت یا اجازت نامہ ہوتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی منصوبے نے فضا میں جانے والی کاربن گیس کو کم کیا یا محفوظ کیا ہے۔

پیرس معاہدے کا آرٹیکل 6.2

یہ پیرس معاہدے کا وہ حصہ ہے جس کے تحت ممالک آپس میں مل کر کاربن میں کمی کے منصوبے چلا سکتے ہیں۔

موسمیاتی مالیات

وہ سرمایہ یا فنڈنگ جو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے منصوبوں پر خرچ کی جائے۔

قابلِ تجدید توانائی

ایسی توانائی جو قدرتی طور پر بار بار حاصل ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی کاربن تجارت

یہ ایسا نظام ہے جس میں ایک ملک کاربن میں کمی کر کے اسے فروخت کرتا ہے۔

وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان اب تیاری کے مرحلے سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی طرف جا رہا ہے۔ ناروے کے سفیر پر البرٹ ایلساس کا بھی کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور یہ کہ ناروے ایسے ”کاربن کریڈٹ” خریدنا چاہتا ہے جن کی مدد سے وہ اپنے قومی اہداف سے آگے جا کر 2030 تک موسمیاتی غیرجانبداری حاصل کر سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کاغذی طور پر یہ معاہدہ متاثر کن لگتا ہے، مگر زمینی حقیقت اس سے مختلف نظر آتی ہے۔

چمک کے پیچھے حقیقت

عالمی سطح پر جاری ہونے والے ”کاربن کریڈٹ” میں پاکستان کا حصہ صرف 0.05 فیصد ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک اس شعبے میں ابھی بہت پیچھے ہے۔ مقابلتاً، بھارت میں 1600 سے زائد منصوبے عالمی معیارات کے تحت رجسٹرڈ ہیں، جبکہ پاکستان میں ایسے منصوبوں کی تعداد نہایت کم ہے۔

خود حکومتی سطح پر بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان ابھی اس نظام کے بنیادی ڈھانچے، ضابطوں اور نگرانی کے طریقہ کار کو تشکیل دینے کے مرحلے میں ہے۔ یعنی معاہدہ تو ہو چکا، مگر اس پر عملدرآمد کے لیے ضروری بنیادیں ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔

وہ بنیادی ستون جو ابھی ادھورے ہیں

ماہرین کے مطابق کاربن مارکیٹ کو مؤثر بنانے کے لیے چند بنیادی عناصر ناگزیر ہیں، لیکن پاکستان میں ان میں سے بیشتر ابھی یا تو زیرِ تکمیل ہیں یا سرے سے موجود ہی نہیں۔

  • قانونی فریم ورک: پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017 میں رجسٹری اور ڈیٹا بیس بنانے کی بات کی گئی تھی، مگر اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ”کاربن کریڈٹ” کی ملکیت، لائسنسنگ اور تنازعات کے حل سے متعلق قوانین بھی واضح نہیں ہیں۔
  • پیمائش، رپورٹنگ اور تصدیق (MRV): اس شعبے کے لیے تربیت یافتہ ماہرین کی کمی ہے جو درست طریقے سے کاربن میں کمی کی پیمائش اور تصدیق کر سکیں۔
  • تعلیم اور تربیت: یونیورسٹیوں میں اس شعبے سے متعلق باقاعدہ ڈگری یا سرٹیفکیشن پروگرام موجود نہیں۔ کچھ اداروں میں ابتدائی سطح پر بات ضرور شروع ہوئی ہے، مگر عملی پیش رفت محدود ہے۔
  • نجی شعبے کی شمولیت: نجی شعبہ، جو اس میدان میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اب تک مؤثر طریقے سے شامل نہیں ہو سکا۔
  • کاربن رجسٹری: ملک میں ابھی تک ایسا کوئی مکمل ڈیجیٹل نظام موجود نہیں جو کاربن کریڈٹ کو محفوظ اور شفاف طریقے سے درج کر سکے۔ اس حوالے سے صرف ابتدائی منصوبہ بندی جاری ہے۔

سندھ کا منصوبہ: کامیابی اور سوالات

اس پورے منظرنامے میں ایک نمایاں مثال سندھ کا ”ڈیلٹا بلیو کاربن” منصوبہ ہے۔ 2015 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کا مقصد انڈس ڈیلٹا کے مینگروو جنگلات کی حفاظت اور بحالی تھا۔ اس کے تحت سندھ حکومت نے تقریباً 30 لاکھ ٹن کاربن کے مساوی ”کاربن کریڈٹ” فروخت کر کے قریب 4 کروڑ ڈالر حاصل کیے۔ محکم جنگلات کے مطابق 2015 سے 2024 تک ایک لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے پر پودے لگائے جا چکے ہیں، اور مزید توسیع کا منصوبہ بھی موجود ہے۔ یہ کامیابی اہم ہے، مگر اس کے ساتھ کئی سوالات بھی اٹھتے ہیں۔

انصاف کا پہلو: فائدہ کس کو؟

کاربن کریڈٹ کی فروخت کے معاملے پر وفاق اور سندھ کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے۔ ملکیت اور فوائد کی تقسیم پر واضح اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی آبادیوں کی رضامندی، حقوق اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے لیے واضح نظام ہونا ضروری ہے۔ خود اس منصوبے میں بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ مقامی لوگوں تک براہِ راست فوائد پہنچانا اب بھی ایک چیلنج ہے۔

ناروے کا فائدہ واضح، پاکستان کا سوال باقی

ناروے کے لیے اس معاہدے کا مقصد صاف ہے۔ وہ کاربن کریڈٹ خرید کر اپنے موسمیاتی اہداف کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے لیے امکانات ضرور ہیں، جیسے کہ قدرتی وسائل اور کم لاگت کے منصوبے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ملک اس موقع سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے؟
  • کون منصوبے بنائے گا؟
  • کون ان کی تصدیق کرے گا؟
  • ریکارڈ کہاں محفوظ ہوگا؟
  • نگرانی کیسے ہوگی؟
ان سوالات کے واضح جواب موجود نہیں۔

دس سال، ایک منصوبہ

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک دہائی گزرنے کے باوجود پاکستان میں بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے والا بنیادی طور پر ایک ہی بڑا منصوبہ سامنے آیا ہے، اور وہ بھی ایک صوبے کی کوشش ہے۔

آگے کا راستہ

ماہرین کے مطابق پاکستان کو فوری طور پر ایک جامع قانون، مؤثر ادارہ جاتی نظام، تربیت یافتہ افرادی قوت اور شفاف نگرانی کے نظام کی ضرورت ہے۔ یہ معاہدہ بلاشبہ ایک اہم پیش رفت ہے، مگر فی الحال یہ ایک نیت نامہ(ایم او یو) زیادہ لگتا ہے۔ جب تک عملی نظام مضبوط نہیں ہوتا، ایسے معاہدے محض اعلانات تک محدود رہنے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ سندھ نے ایک راستہ دکھایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پورا ملک اس راستے پر سنجیدگی سے چلنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں:

کیا آپ کے خیال میں پاکستان اس وقت ”کاربن کریڈٹ” کی عالمی منڈی سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے؟

کیا ایسے معاہدے عملی تبدیلی لا سکتے ہیں یا یہ محض کاغذی وعدے رہ جاتے ہیں؟

آپ کے نزدیک مقامی آبادیوں کو ان منصوبوں کا فائدہ کس طرح ملنا چاہیے؟

اور کیا نجی شعبہ اس میدان میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے؟

کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے ضرور دیں، بحث کو آگے بڑھائیں اور دوسروں کی آرا بھی پڑھیں۔

اگر آپ کو یہ تجزیہ معلوماتی لگا تو اسے ضرور شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اہم موضوع پر آگاہی حاصل کر سکیں۔

تمام اصطلاحات آسان اور واضح

کاربن رجسٹری

ایک باقاعدہ ریکارڈ یا ڈیجیٹل نظام جہاں ”کاربن کریڈٹ” (یعنی کاربن میں کمی کے ریکارڈ) کو درج، محفوظ اور ٹریک کیا جاتا ہے۔

پیمائش، رپورٹنگ اور تصدیق (MRV)

کسی منصوبے کی کاربن کمی کی پیمائش، رپورٹ اور تصدیق کا نظام۔

ڈیلٹا بلیو کاربن

سندھ میں انڈس ڈیلٹا کے مینگروو جنگلات پر مبنی منصوبہ، جس کے ذریعے ”کاربن کریڈٹ” حاصل کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *