ذرا ایک لمحے کے لیے رکیں۔

آپ نے پچھلی گرمیوں میں محسوس کیا ہوگا کہ کراچی میں وہ جھلسا دینے والی لو، لاہور میں دھند اور دھوئیں کا وہ زہریلا ملاپ، یا سوات میں اچانک آنے والا وہ سیلاب جس نے پلک جھپکتے میں گھر بہا دیے۔ آپ نے سوچا ہوگا: «موسم کچھ بدل گیا ہے۔»

بدلا نہیں، بگڑ گیا ہے۔ اور یہ صرف موسم کی بات نہیں۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ گرمیاں جلد، کثرت سے اور شدید کیوں ہوتی جا رہی ہیں، تو آپ درست جگہ پر آئے ہیں۔

«لیکن یہ سائنس والی بات ہے، میں کہاں سمجھوں گا»

یہی وہ جملہ ہے جو ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں اور پھر اخبار کا صفحہ پلٹ دیتے ہیں۔

لیکن آج ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں، یہاں کوئی فارمولا نہیں، کوئی یونیورسٹی والا لیکچر نہیں۔ بس ایک سیدھی سچی بات، جیسے کوئی پرانا دوست چائے کے کپ پر بتاتا ہے۔

برف پر چلنے کا کھیل

فرض کریں آپ جھیل کی جمی ہوئی برف پر چل رہے ہیں۔ برف پتلی ہے۔ آپ کے قدموں تلے ہلکی سی چرچراہٹ آ رہی ہے۔

اب آپ کے پاس دو راستے ہیں، یا تو احتیاط سے کنارے کی طرف مڑ جائیں، یا سوچتے رہیں «ابھی تک تو ٹھیک ہے۔»

ہماری زمین اس وقت اسی پتلی برف پر کھڑی ہے۔ اور ہم میں سے بہت سے لوگ ابھی بھی یہی سوچ رہے ہیں: «ابھی تک تو ٹھیک ہے۔»

اصل کہانی کیا ہے؟

دنیا کے سیکڑوں سائنس دان، ماہرین اور لکھاری ایک جگہ بیٹھے اور انہوں نے ایک کتاب لکھی، حقائق کے ساتھ، نقشوں کے ساتھ، تصویروں کے ساتھ۔ اس کتاب میں وہ سب کچھ ہے جو شاید کوئی آپ کو سیدھے نہیں بتاتا: پگھلتے گلیشیئر، ڈوبتے جزیرے، ختم ہوتی فصلیں، بھاگتے جانور، اور وہ ادارے اور حکومتیں جنہیں بہت پہلے آپ کو سچ بتا دینا چاہیے تھا، مگر انہوں نے نہیں بتایا۔

سبز دکھاوا، یعنی «گرین واشنگ»

گرین واشنگ اس عمل کو کہتے ہیں جب کوئی کمپنی یا حکومت خود کو ماحول دوست ظاہر کرے، مگر اصل میں آلودگی جاری رکھے۔ جیسے سامنے سبزہ لگا دو اور پیچھے فیکٹری چلاتے رہو۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ بڑی بڑی کمپنیوں کے اشتہار، جن میں سبز درخت، نیلا آسمان اور مسکراتے چہرے ہوتے ہیں اور لکھا ہوتا ہے: «ہم ماحول کے دوست ہیں۔»

لیکن پردے کے پیچھے؟ وہی پرانی فیکٹریاں، وہی دھواں، بس غریب ممالک میں منتقل کر دی گئی ہیں تاکہ اپنے حساب کتاب میں گندگی نہ دکھے۔ یہی ہے «گرین واشنگ»، یعنی سبزے کا دکھاوا، اندر سے کچھ اور۔

اور اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ موسمیاتی تباہی آئے گی لیکن بچاؤ بھی ممکن ہے, تو یہ امید بھری رپورٹ ضرور پڑھیں۔

وہ ایک چونکا دینے والا حساب

دنیا کی صرف ایک فیصد امیر آبادی، دنیا کے پچاس فیصد غریب لوگوں سے دو گنا زیادہ کاربن فضا میں پھینک رہی ہے۔

سوچیں، آدھی دنیا مل کر جتنا نقصان کرتی ہے، اس سے دوگنا نقصان چند ہزار لوگ کر رہے ہیں۔

اور پھر وہی لوگ کہتے ہیں: «ہمیں امید ہے، حالات سدھر جائیں گے۔»

امید؟ ان کے لیے؟ یا ان کے لیے جو پہلے ہی اپنے گھر کھو چکے ہیں؟

ایک ٹن کا بوجھ

کاربن اخراج یعنی وہ گیسیں جو ہم گاڑیوں، فیکٹریوں اور بجلی کے استعمال سے فضا میں چھوڑتے ہیں۔ یہ گیسیں زمین کی گرمی کو باہر نہیں جانے دیتیں، جیسے کوئی کمبل اوڑھ لے جو اتارا نہ جا سکے۔

اگر دنیا کو بچانا ہے تو ہر انسان کو سال میں صرف ایک ٹن کاربن کا اخراج کرنا ہوگا۔ ابھی کتنا ہو رہا ہے؟

۱۷ ٹن سالانہ
امریکہ
۱۵ ٹن سالانہ
کینیڈا و آسٹریلیا
۹ ٹن سالانہ
سویڈن
۱ ٹن سالانہ
ہدف جو ہونا چاہیے

اور یہ ممالک کہہ رہے ہیں: «ہم ترقی کر رہے ہیں۔» جس راستے سے یہ «ترقی» ہو رہی ہے، اس پر بھروسا کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ کہے: «میں روز ایک سگریٹ کم پی رہا ہوں»، لیکن ابھی بھی دو ڈبیاں روز پھونک رہا ہو۔

«میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں؟»

یہ سوال ہر ذہن میں آتا ہے۔

اور جواب یہ ہے، بہت کچھ۔ چھوٹے قدم بھی اہم ہیں، مگر اس سے بھی بڑا کام یہ ہے کہ آپ جانیں، سمجھیں، اور پھر آواز اٹھائیں۔ کیونکہ اصل تبدیلی تب آتی ہے جب لوگوں کی بڑی تعداد اکٹھے مطالبہ کرے۔

اور یاد رکھیں، جو شخص آج پہلا قدم اٹھائے، وہ کل کی نسل کا رہنما ہے۔

یا تو آپ کا طرزِ زندگی اس زمین کے ساتھ چل سکتا ہے، یا نہیں۔ درمیان کی کوئی راہ نہیں۔ آپ «تھوڑا سا پائیدار» نہیں ہو سکتے، جیسے کوئی «تھوڑا سا حاملہ» نہیں ہوتا۔

زمین بول رہی ہے۔ سیلابوں میں، طوفانوں میں، جھلساتی گرمی میں۔

سوال یہ ہے: کیا ہم سننے کے لیے تیار ہیں؟