ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی، اردو میں Climate Urdu
خصوصی رپورٹ
بائیس درجے کی چھلانگ، مگر ہوا وہی: پاکستان کی ماحولیاتی درجہ بندی کی اصل کہانی
ییل یونیورسٹی کی نئی فہرست میں پاکستان 177 ملکوں میں 157ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ خبر اچھی لگتی ہے، مگر ہوا اور صحت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان اب بھی دنیا کے آخری ملکوں میں شامل ہے۔
فہرست میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
پاکستان ماحولیاتی درجہ بندی: پہلے اعداد دیکھیں
پاکستان ماحولیاتی درجہ بندی میں 22 درجے اوپر آ گیا ہے۔ اس خبر کے بعد بعض حلقے اسے ماحول میں بہتری قرار دے رہے ہیں، اور خاص طور پر پنجاب میں اسموگ کے خلاف اقدامات کی کامیابی بھی۔
ییل یونیورسٹی کے سینٹر فار انوائرنمنٹل لا اینڈ پالیسی نے ماحولیاتی کارکردگی انڈیکس (EPI) 2026 جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق پاکستان 177 ملکوں میں 157ویں نمبر پر ہے اور اس کا اسکور 100 میں سے 29.03 ہے۔ 2024 میں پاکستان 180 ملکوں میں 179ویں نمبر پر تھا۔ یوں فہرست میں 22 درجے کا فرق بنتا ہے۔
ییل یونیورسٹی EPI 2026 کے یہ اعداد و شمار درست ہیں۔ مگر اصل سوال کچھ اور ہے: کیا پاکستان میں ہوا واقعی صاف ہوئی ہے؟ اس کا جواب اتنا خوش کن نہیں، کیونکہ درجہ بندی میں اوپر آنا اور ماحول کا بہتر ہونا ایک ہی بات نہیں۔
اس بار امتحان پہلے جیسا نہیں تھا
ایک مثال سے بات آسان ہو جاتی ہے۔ فرض کریں ایک طالب علم نے پچھلی بار 180 طلبہ کی کلاس میں 58 سوالوں کا پرچہ دیا تھا۔ اس بار پرچے میں 47 سوال ہیں اور کلاس میں 177 طلبہ رہ گئے ہیں۔ اب اگر اس کی پوزیشن بہتر آ جائے تو کیا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ اس نے لازماً زیادہ محنت کی ہے؟ ممکن ہے اس نے واقعی زیادہ محنت کی ہو، لیکن پرچے اور کلاس کے بدلنے کا اثر بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
دونوں سالوں میں کیا بدلا؟
| پہلو | EPI 2024 | EPI 2026 |
|---|---|---|
| فہرست میں ملک | 180 | 177 |
| اشاریے | 58 | 47 |
| ماحولیاتی شعبے | 11 | 12 |
یعنی ملکوں کی تعداد تین کم ہو گئی، اشاریے گھٹ کر 47 رہ گئے اور شعبوں کی تعداد 11 سے بڑھ کر 12 ہو گئی۔ اس لیے 2024 کے نمبر کو 2026 کے نمبر سے سیدھا ملا کر یہ کہنا کہ پاکستان نے صرف اپنی ماحولیاتی کارکردگی سے 22 درجے ترقی کی، پوری تصویر پیش نہیں کرتا۔ ممکن ہے اس فرق کا کچھ حصہ بدلے ہوئے پیمانے کی وجہ سے ہو۔
اپنے آپ کو پرکھیں
سال 2024 اور 2026 کی فہرست میں سب سے اہم فرق کیا تھا؟
2024 میں 180 ملک، 58 اشاریے اور 11 شعبے تھے۔ 2026 میں 177 ملک، 47 اشاریے اور 12 شعبے ہیں۔ اسی لیے دونوں سالوں کا سیدھا موازنہ احتیاط مانگتا ہے۔
بھارت سے آگے نکلنے کی بات
کچھ خبروں میں کہا گیا کہ پاکستان بھارت سے آگے نکل گیا ہے۔ 2026 کی فہرست میں یہ بات درست ہے: پاکستان 157ویں نمبر پر ہے اور بھارت 176ویں پر۔ پاکستان کا اسکور 29.03 ہے اور بھارت کا 22.46۔
لیکن بھارت 2024 میں بھی 176ویں نمبر پر تھا۔ یعنی وہ نیچے نہیں گیا، اپنی جگہ پر رہا۔ فرق اس لیے بنا کہ پاکستان 179ویں نمبر سے اوپر آیا۔
دس سال کے اعداد و شمار الگ کہانی سناتے ہیں۔ EPI کے مطابق اس عرصے میں بھارت کے اسکور میں 7.47 پوائنٹ کا اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان کے اسکور میں صرف 1.05 پوائنٹ کا۔ فضائی معیار کے شعبے میں بھی پاکستان (176ویں) بھارت (175ویں) سے ایک درجہ پیچھے ہے۔
پاکستان اور بھارت: ایک نظر میں
| پہلو | پاکستان | بھارت |
|---|---|---|
| مجموعی درجہ 2026 | 157ویں | 176ویں |
| مجموعی اسکور 2026 | 29.03 | 22.46 |
| مجموعی درجہ 2024 | 179ویں | 176ویں |
| دس سال میں اسکور کا اضافہ | 1.05 پوائنٹ | 7.47 پوائنٹ |
| فضائی معیار میں درجہ 2026 | 176ویں | 175ویں |
سبز خانہ (✓) بتاتا ہے کہ اس پہلو میں کون سا ملک آگے ہے۔ 2024 کی قطار میں دونوں ملکوں کا درجہ 180 ملکوں کی فہرست میں ہے۔
اپنے آپ کو پرکھیں
دس سال کے اعداد و شمار کے مطابق EPI اسکور میں زیادہ اضافہ کس ملک کا ہوا؟
بھارت کے اسکور میں 7.47 پوائنٹ کا اضافہ ہوا اور پاکستان کے اسکور میں 1.05 پوائنٹ کا۔ یعنی پاکستان آج کی فہرست میں آگے ضرور ہے، مگر دس سال میں بہتری کی رفتار بھارت کی زیادہ رہی۔
پاکستان میں فضائی آلودگی: ہوا کا اصل حال
اب اس سوال پر آئیں جو ہر پاکستانی کے لیے سب سے اہم ہے: پاکستانی شہری جو ہوا سانس میں لیتے ہیں، اس کے بارے میں انڈیکس کیا کہتا ہے؟ جواب تشویشناک ہے۔
ماحولیاتی صحت
177 ملکوں میں سے
اسکور 14.57فضائی معیار
177 ملکوں میں سے
اسکور 7.54کاربن مونو آکسائیڈ کا اثر
177 ملکوں میں سے
اسکور 0 (صفر)یعنی مجموعی فہرست میں 157ویں نمبر پر آنا ایک عددی بہتری ہے۔ لیکن جب صرف ہوا اور انسانی صحت کو دیکھا جائے تو پاکستان اب بھی دنیا کے آخری ملکوں میں ہے۔
عام آدمی کے لیے اس کا مطلب سادہ ہے۔ اسموگ کے دنوں میں لاہور، ملتان اور دوسرے شہروں کے لوگ جو ہوا سانس میں لیتے ہیں، اس کے بارے میں رینکنگ کے 22 درجے کچھ ثابت نہیں کرتے۔ صرف درجہ بندی اوپر آنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کی صحت کے لیے ہوا بہتر ہو گئی ہے۔
اپنے آپ کو پرکھیں
فضائی معیار کے شعبے میں پاکستان کا درجہ کیا ہے؟
ہمارا157واں نمبر مجموعی درجہ بندی کا ہے۔ فضائی معیار میں پاکستان کا درجہ 176ویں ہے اور اسکور 7.54 ہے، یعنی فہرست کے آخری ملکوں میں سے ایک۔
کیا یہ پنجاب میں اسموگ کے خلاف اقدامات کا نتیجہ ہے؟
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ میں پاکستان کی بہتر رینکنگ کو پنجاب کے ماحولیاتی اقدامات کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں محکمہ ماحولیات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں آلودگی پھیلانے والی صنعتوں، بھٹوں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی تیز کی گئی ہے۔ ہوا کے معیار کی براہ راست نگرانی، گاڑیوں کے دھوئیں کی جانچ، پلاسٹک کے ممنوعہ تھیلوں کے خلاف اقدامات اور اسکولوں میں گرین اسکول سرٹیفکیشن جیسے پروگرام بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔
لیکن یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ییل کی ای پی آئی رپورٹ یہ نہیں کہتی کہ 22 درجے کی بہتری پنجاب کی اسموگ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ای پی آئی ایک قومی سطح کا انڈیکس ہے اور اس کا بہت سا ڈیٹا کئی سال پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس لیے پنجاب کے حالیہ اقدامات کا اثر ثابت کرنے کے لیے الگ سائنسی تحقیق چاہیے۔
کیا کہا جا رہا ہے
پاکستان کی بہتر رینکنگ کو پنجاب کے ماحولیاتی اقدامات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
رپورٹ کیا کہتی ہے
ای پی آئی کی رپورٹ میں ایسا تعلق بیان نہیں کیا گیا۔ اثر ثابت کرنے کے لیے الگ تحقیق درکار ہے۔
کسی سرکاری پروگرام کا شروع ہونا ایک بات ہے اور اس کے نتیجے میں قومی سطح پر ماپی جا سکنے والی بہتری ثابت ہونا دوسری بات۔ اگر یہ فرق نظر انداز ہو جائے تو خدشہ ہے کہ فیصلہ ساز یہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کی حکمت عملی پر عالمی مہر لگ گئی ہے، اور وہ ان مسائل پر توجہ کم کر دیں جو ہوا اور صحت کے اعداد میں اب بھی نمایاں ہیں۔
اپنے آپ کو پرکھیں
پنجاب کے اقدامات اور پاکستان کی 22 درجے بہتری کے بارے میں سب سے درست بات کون سی ہے؟
EPI قومی سطح کا انڈیکس ہے اور رپورٹ میں ایسا تعلق بیان نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اقدامات بے کار ہیں۔ مطلب صرف یہ ہے کہ ان کا اثر ثابت کرنے کے لیے الگ تحقیق چاہیے۔ بھارت بھی نیچے نہیں گیا، وہ دونوں سال 176ویں نمبر پر رہا۔
ای پی آئی کی اپنی حد
ای پی آئی ملکوں کا ماحولیاتی موازنہ کرنے والے بڑے عالمی پیمانوں میں سے ایک ہے۔ لیکن اس کی ایک کمزوری بھی ہے۔ ییل کے تجزیوں میں یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ ملک کی دولت اور اس کے اسکور کا گہرا تعلق ہے، یعنی عام طور پر امیر ملک بہتر اسکور لیتے ہیں۔ اگرچہ ایک جیسی آمدنی والے ملکوں کی کارکردگی میں بھی بڑا فرق ہو سکتا ہے۔
اس لیے پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں کے لیے 22 درجے جیسے بڑے دعوے، خواہ وہ اوپر جانے کے ہوں یا نیچے آنے کے، احتیاط مانگتے ہیں۔
خبر پڑھتے وقت تین سوال
آخر میں
پاکستان ماحولیاتی درجہ بندی کی اس کہانی کا خلاصہ سیدھا ہے۔ پاکستان 177 ملکوں میں 157ویں نمبر پر ہے اور اس کا اسکور 29.03 ہے۔ فہرست میں اس کی پوزیشن دو سال پہلے سے بہتر ہے، مگر پیمانہ بدل چکا ہے۔
یہ بہتری اس بات کا ثبوت نہیں کہ ماحول ٹھیک ہو گیا ہے۔ یہ بھارت پر کوئی بڑی جیت بھی نہیں۔ اور موجودہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت بھی نہیں دیتے کہ پنجاب کی اسموگ پالیسی نے یہ نتیجہ دیا۔
درجہ بندی میں بہتری ایک عدد ہے۔ صاف ہوا ایک حقیقت ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کتنے درجے اوپر آیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستانی شہریوں کو صاف ہوا، صاف پانی اور محفوظ ماحول کب ملے گا؟
ماخذ
- ییل EPI 2026: جنوبی ایشیا کے نتائج (epi.yale.edu)
- ییل EPI 2026: فضائی معیار کی فہرست (epi.yale.edu)
- ییل EPI 2024: بھارت کا صفحہ (epi.yale.edu)
- ماحولیاتی کارکردگی انڈیکس، ییل سینٹر فار انوائرنمنٹل لا اینڈ پالیسی
- بزنس ریکارڈر: پاکستان 22 درجے اوپر (brecorder.com)


Leave a Reply