COP31 ترکیہ: دنیا 1.5 ڈگری کی حد کے قریب

انطالیہ، ترکیہ — 9 تا 20 نومبر 2026

دنیا ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے عالمی اجلاس کی طرف بڑھ رہی ہے۔ نومبر میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں تقریباً 197 ممالک کے نمائندے ایک میز پر بیٹھیں گے۔ تقاریر ہوں گی، مذاکرات ہوں گے، وعدے کیے جائیں گے اور شاید نئے معاہدوں کا اعلان بھی ہو گا۔ لیکن اس بار کانفرنس کے دروازے پر ایک ایسا سوال کھڑا ہے جس سے فرار ممکن نہیں: کیا دنیا واقعی اخراج کم کر رہی ہے، یا ہر سال ایک نئی کانفرنس میں وہی پرانے وعدے دہرائے جا رہے ہیں؟

1.65°Cستمبر 2026 کا عالمی اوسط درجہ حرارت، صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں
197شریک ممالک
100,000+متوقع شرکاء
پاکستانLoss & Damage، NDC 3.0 اور موسمیاتی مالیات کا مرکزی کردار
مضمون میں شامل موضوعات

کیا دنیا واقعی موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے اخراج کم کر رہی ہے، یا ہم صرف ہر سال ایک نئی کانفرنس میں وہی پرانے وعدے دہرا رہے ہیں؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ جس 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو دنیا نے تقریباً ایک دہائی قبل پیرس معاہدے میں محفوظ رکھنے کا عہد کیا تھا، اب وہ حد پہلے سے کہیں زیادہ قریب محسوس ہو رہی ہے۔

1.65°C ستمبر 2026 میں یورپی موسمیاتی سروس کوپرنیکس کے مطابق عالمی اوسط درجہ حرارت، صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں

یہ نومبر 2025 کے بعد پہلا مہینہ تھا جب ماہانہ اوسط اس حد سے اوپر گئی۔

اسی دوران اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام، UNEP، نے ستمبر 2026 میں جاری اپنی نئی رپورٹ میں واضح کیا کہ آنے والے برسوں میں عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرے گا۔

یعنی دنیا اب اس سوال کے سامنے کھڑی ہے کہ اگر خطرہ سب کو معلوم ہے تو پھر اخراج کم کیوں نہیں ہو رہا؟

اور یہی وہ سوال ہے جس کے ساتھ COP31 کا سفر شروع ہوتا ہے۔

1.5 ڈگری آخر اتنی اہم کیوں ہے؟

2015 میں پیرس میں دنیا کے ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کافی نیچے رکھا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ اسے 1.5 ڈگری تک محدود رکھا جائے۔

یہ محض کوئی سیاسی نعرہ نہیں تھا۔

سائنسی جائزوں نے واضح کیا تھا کہ درجہ حرارت میں ہر اضافی اضافہ خطرات کو بڑھاتا ہے۔ شدید گرمی کی لہریں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں، سمندر کی سطح بلند ہوتی ہے، گلیشیئر تیزی سے پگھلتے ہیں اور زراعت سمیت انسانی زندگی کے مختلف شعبوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔

ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے

جب کسی ایک مہینے کا عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.65 ڈگری زیادہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیرس معاہدے کا 1.5 ڈگری کا ہدف باضابطہ طور پر اسی لمحے ختم ہو گیا۔ کیونکہ 1.5 ڈگری کا ہدف ایک دن یا ایک مہینے کا درجہ حرارت نہیں، بلکہ طویل عرصے کی عالمی اوسط سے متعلق ہے۔

اس کے باوجود ماہانہ ریکارڈ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اگست 2026 جولائی 2023 کے ساتھ اب تک کا مشترکہ گرم ترین مہینہ ریکارڈ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی نومبر 2025 کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ماہانہ اوسط درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے اوپر گیا۔

یہ اعداد و شمار ایک رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اسی رجحان نے موسمیاتی ماہرین کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

1.5 ڈگری ختم ہو گئی یا ابھی راستہ باقی ہے؟

2 ستمبر 2026 کو UNEP نے اپنی رپورٹ Limiting Overshoot جاری کی۔

رپورٹ کا پیغام بیک وقت تشویش ناک بھی ہے اور اہم بھی۔

دنیا کے لیے 1.5 ڈگری کی حد سے کچھ عرصے کے لیے تجاوز کرنا آنے والے برسوں میں تقریباً یقینی دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ 1.5 ڈگری کا ہدف ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔

Overshoot، Peak and Decline کیا ہے؟

یہاں ایک تصور سامنے آتا ہے، جسے Overshoot، Peak and Decline کہا جاتا ہے۔ سادہ زبان میں اس کا مطلب ہے کہ درجہ حرارت پہلے 1.5 ڈگری سے اوپر جائے، پھر کسی بلند سطح پر پہنچ کر عروج حاصل کرے اور اس کے بعد اخراج میں شدید اور مسلسل کمی کے نتیجے میں دوبارہ نیچے آنا شروع ہو۔

1.8°Cاگر موجودہ حکومتی وعدوں پر مکمل عمل ہو جائے تو ممکنہ عروج (UNEP)
2.6°Cاگر موجودہ پالیسیوں ہی کا راستہ برقرار رہا تو صدی کے آخر تک اوسط

یعنی وعدوں اور عملی پالیسیوں کے درمیان فرق محض کاغذی فرق نہیں۔ اس کا تعلق آنے والی دنیا کے درجہ حرارت سے ہے۔

اور اسی لیے 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کے بعد بھی راستہ بند نہیں ہوتا، مگر واپسی کے لیے اخراج میں بہت تیز اور مسلسل کمی ضروری ہو گی۔

UNEP کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے اس صورت حال کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1.5 ڈگری سے اوپر رہنے کی صورت میں کوئی اچھا نتیجہ موجود نہیں۔

ایک اور گھڑی چل رہی ہے، کاربن بجٹ کی گھڑی

موسمیاتی بحث میں ایک اور اصطلاح بہت اہم ہے، کاربن بجٹ۔

اسے یوں سمجھیں کہ اگر دنیا کسی مخصوص درجہ حرارت کی حد کے اندر رہنا چاہتی ہے تو فضا میں مزید کتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کی جا سکتی ہے، اس کی ایک محدود مقدار باقی رہ جاتی ہے۔

170 ارب ٹن Global Carbon Project (نومبر 2025) کے مطابق 1.5 ڈگری کی حد کو 50 فیصد امکان کے ساتھ برقرار رکھنے کے لیے باقی ماندہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بجٹ — موجودہ رفتار سے تقریباً چار سال کے اخراج کے برابر

یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا زیادہ گرم ہو رہی ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس گرمی کو محدود رکھنے کے لیے دستیاب گنجائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔

مگر کیا دنیا کے اخراج واقعی کم ہو رہے ہیں؟

یہ شاید COP31 سے پہلے سب سے اہم سوال ہے۔

جواب بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے اندر ایک پیچیدہ تصویر چھپی ہوئی ہے۔

Global Carbon Budget 2025 کے مطابق فوسل ایندھن سے عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 2025 میں مزید 1.1 فیصد بڑھ کر تقریباً 38.1 ارب ٹن کی نئی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کا امکان تھا۔

یعنی اخراج کم نہیں ہو رہا تھا، بلکہ بڑھ رہا تھا۔

اور 2015 میں پیرس معاہدے کے وقت کے مقابلے میں مجموعی عالمی اخراج تقریباً 10 فیصد زیادہ ہو چکا ہے۔

لیکن تصویر مکمل طور پر ایک رنگ کی نہیں۔

ترقی یافتہ ممالک، یعنی OECD ممالک، میں فوسل کاربن کا اخراج 2005 کے قریب عروج پر پہنچنے کے بعد گزشتہ دہائی میں اوسطاً سالانہ تقریباً 1.5 فیصد کی رفتار سے کم ہوا ہے۔

چین میں قابلِ تجدید توانائی کی تیزی سے توسیع کے باعث 2025 میں اخراج میں اضافے کی رفتار تقریباً 0.4 فیصد رہنے کا امکان تھا۔

0.4%چین
1.4%بھارت
1.9%امریکا
0.4%یورپی یونین

2025 کے دوران اخراج میں متوقع اضافے کی شرح، بمطابق Global Carbon Budget 2025

تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ اخراج کے بڑھنے کی رفتار کم ہونا اور اخراج کا حقیقت میں کم ہونا ایک ہی بات نہیں۔

دنیا میں شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہی ہے، لیکن دوسری طرف عالمی توانائی کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ قابلِ تجدید توانائی میں زبردست اضافے کے باوجود فوسل ایندھن سے ہونے والے مجموعی اخراج ابھی بھی کم نہیں ہوئے۔

کوئلہ، تیل اور گیس، تینوں کے اخراج میں 2025 کے دوران اضافے کی توقع تھی۔

کوئلے کے معاملے میں رفتار کچھ سست ضرور ہوئی، مگر عالمی سطح پر کوئلے کا استعمال ابھی اپنے عروج تک نہیں پہنچا تھا۔

Global Carbon Budget کے مطابق پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے اخراج میں دس گنا سے زیادہ کمی درکار ہو گی۔ اس کا اندازہ یوں لگایا گیا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں تقریباً 360 اوسط درجے کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو بند کرنا ہو گا۔

قدرتی نظام بھی کمزور پڑ رہے ہیں

موسمیاتی تبدیلی صرف انسانوں کے اخراج سے متاثر نہیں ہو رہی، بلکہ وہ قدرتی نظام بھی متاثر ہو رہے ہیں جو فضا سے کاربن جذب کرتے ہیں۔ جنگلات اور سمندر کاربن جذب کرنے کی دنیا کی قدرتی صلاحیت کا بڑا حصہ ہیں۔ مگر تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی خود ان نظاموں کو کمزور کر رہی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی امریکا کے بعض بڑے اشنکٹبندیی جنگلات، جو پہلے فضا سے کاربن جذب کرتے تھے، اب بعض حالات میں کاربن خارج کرنے کے ذرائع بننے لگے ہیں۔

تو سوال پھر وہی ہے۔

اگر دنیا جانتی ہے کہ اخراج کو پہلے روکنا اور پھر تیزی سے کم کرنا ضروری ہے تو اخراج کی رفتار اب تک کیوں نہیں رکی؟

اس کے پیچھے فوسل ایندھن کے مفادات، موسمیاتی مالیات کی کمی، سیاسی عزم کا فقدان اور دنیا میں مسلسل بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب جیسے عوامل موجود ہیں۔

COP31 آخر ہے کیا؟

یہ اصطلاح عام قاری کے لیے شاید سب سے پہلے سمجھنا ضروری ہے۔

1992 میں ریو ڈی جنیرو کے ارتھ سمٹ میں دنیا کے ممالک نے اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے فریم ورک کنونشن، یعنی UNFCCC، پر دستخط کیے۔

اس کنونشن کا بنیادی مقصد فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے ارتکاز کو ایسی سطح پر مستحکم کرنا تھا جس سے موسمیاتی نظام میں خطرناک انسانی مداخلت کو روکا جا سکے۔

COP کا مطلب کیا ہے؟

COP کا مطلب ہے Conference of the Parties۔ یعنی ان ممالک کی کانفرنس جو اس کنونشن کا حصہ ہیں۔ یہ کنونشن کا سب سے بڑا فیصلہ ساز ادارہ ہے۔ رکن ممالک ہر سال جمع ہوتے ہیں، گزشتہ فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں اور نئے فیصلوں کے لیے مذاکرات کرتے ہیں۔

پہلا COP اجلاس 1995 میں جرمنی کے شہر برلن میں ہوا تھا۔ اس کے بعد سے یہ سلسلہ ہر سال جاری ہے۔

یہاں ایک بات اہم ہے۔ COP میں موجود ہر شخص فیصلہ نہیں کرتا۔ رکن ممالک یعنی Parties باضابطہ مذاکرات اور فیصلہ سازی میں حصہ لیتے ہیں، جبکہ مبصر تنظیمیں، تحقیقی ادارے، اقوام متحدہ کے دوسرے ادارے، میڈیا اور دیگر متعلقہ فریق مختلف سطحوں پر شرکت کرتے ہیں، مگر ان کے اختیارات مختلف ہوتے ہیں۔

COP31 کے ساتھ کیوٹو پروٹوکول کے فریق ممالک کا اجلاس CMP21 اور پیرس معاہدے کے فریق ممالک کا اجلاس CMA8 بھی ہو گا۔

COP31 کہاں اور کب ہو گی؟

اس بارے میں بھی غلط معلومات گردش کرتی رہی ہیں۔

غلط معلومات سے ہوشیار

بعض غیر سرکاری مواد میں مقام استنبول اور تاریخیں 10 سے 21 نومبر بتائی گئی ہیں، مگر فراہم کردہ سرکاری حوالوں کے مطابق COP31 ترکیہ کے شہر انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر 2026 تک ہو گی۔ اجلاس کا مقام انطالیہ ایکسپو سینٹر ہو گا۔

کانفرنس کی صدارت ترکیہ کے وزیر ماحولیات مراد قروم کریں گے۔

ترکیہ نے آسٹریلیا کے ساتھ خصوصی مذاکراتی شراکت بھی قائم کی ہے، جس کا ایک مقصد بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کی آواز کو مذاکرات میں نمایاں رکھنا ہے۔

عالمی رہنماؤں کا اجتماع 11 اور 12 نومبر کو متوقع ہے۔

197رکن ممالک
100,000تقریباً متوقع کل شرکاء

COP میں اصل بات کیا ہوتی ہے؟

باہر سے دیکھیں تو COP ایک بہت بڑی کانفرنس دکھائی دیتی ہے۔ اندر جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کئی الگ الگ موضوعات پر ایک ساتھ مذاکرات چل رہے ہوتے ہیں۔

Mitigation

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی۔ اس میں فوسل ایندھن سے کم کاربن اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی جیسے معاملات شامل ہیں۔

Adaptation

بدلتے ہوئے موسم کے اثرات کے مطابق انسانوں، شہروں، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنا۔

Climate Finance

موسمیاتی کارروائی کے لیے مالی وسائل۔ یہ طویل عرصے سے سب سے متنازع معاملات میں سے ایک ہے۔ ترقی پذیر ممالک زیادہ تر گرانٹ پر مبنی اور قابلِ پیش گوئی مالیات چاہتے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک نجی سرمایہ کاری پر بھی زور دیتے ہیں۔

Loss and Damage

اس نقصان کے لیے استعمال ہوتا ہے جس سے صرف adaptation کے ذریعے بچنا ممکن نہ ہو۔ COP27 میں اس کے لیے فنڈ قائم کرنے پر اتفاق ہوا اور COP28 میں اسے فعال کیا گیا۔

اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، ترقی پذیر ممالک کی تکنیکی و ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، قومی موسمیاتی منصوبے یعنی NDCs، Global Stocktake، Just Transition اور Carbon Markets بھی مذاکرات کے اہم موضوعات ہیں۔

NDC سے مراد ہر ملک کا اپنا قومی موسمیاتی منصوبہ ہے جس میں وہ بتاتا ہے کہ اخراج اور موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے وہ کیا اقدامات کرے گا۔

Global Stocktake دنیا کی مجموعی موسمیاتی پیش رفت کا جائزہ ہے۔

اور Article 6 پیرس معاہدے کا وہ حصہ ہے جس کے تحت ممالک کے درمیان کاربن مارکیٹ کے ذریعے تعاون کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان نے COP29 میں اس حوالے سے اپنی پالیسی گائیڈ لائنز کا اعلان کیا تھا۔

Blue Zone کیا ہے؟

COP کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ کانفرنس کے مقام پر موجود ہر شخص مذاکرات میں شامل ہو سکتا ہے۔

ایسا نہیں ہے۔

Blue Zone

وہ سرکاری کانفرنس علاقہ جو UNFCCC کے زیر انتظام ہوتا ہے۔ باضابطہ مذاکرات، ملکی وفود کی نشستیں، عالمی رہنماؤں کے اجتماعات، سرکاری پویلین، صدارتی تقریبات، پینل مباحثے اور پریس کانفرنسیں اسی علاقے میں ہوتی ہیں۔

یہاں داخلے کے لیے UNFCCC کی منظوری اور accreditation ضروری ہوتی ہے۔ ملکی وفود، تسلیم شدہ مبصر تنظیموں کے نمائندے، اقوام متحدہ کے ادارے اور منظور شدہ میڈیا اس نظام کے تحت داخل ہو سکتے ہیں۔

اس لیے ہر ماحولیاتی کارکن محض کارکن ہونے کی بنیاد پر Blue Zone میں داخل نہیں ہو سکتا۔

Green Zone

زیادہ وسیع عوامی اور غیر سرکاری سرگرمیوں کے لیے جگہ فراہم کرتا ہے۔ یہاں نمائشیں، مباحثے، تعلیمی سرگرمیاں، سول سوسائٹی کے پروگرام اور مختلف تنظیموں کے ایونٹس ہو سکتے ہیں۔

لیکن ایک فرق ذہن میں رکھنا ضروری ہے: کسی پویلین کے ایونٹ میں شرکت کرنا اور باضابطہ مذاکرات میں بیٹھنا ایک ہی چیز نہیں۔ پویلین میں کسی تقریب میں شرکت ممکن ہو سکتی ہے، لیکن حتمی مذاکراتی متن پر فیصلہ رکن ممالک کے نمائندے ہی کرتے ہیں۔

پاکستان کی COP کہانی کیا ہے؟

پاکستان کے لیے COP محض ایک بین الاقوامی کانفرنس نہیں رہی۔

2022 میں پاکستان تباہ کن سیلاب سے دوچار تھا اور COP27 میں G77 پلس چین گروپ کی سربراہی بھی پاکستان کے پاس تھی۔

اسی ماحول میں پاکستان نے Loss and Damage کو عالمی مذاکرات کے مرکزی ایجنڈے پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی کانفرنس میں نقصانات اور تباہی کے لیے فنڈ قائم کرنے پر اتفاق ہوا۔

COP27 · 2022

پاکستان تباہ کن سیلاب کے بعد G77 پلس چین گروپ کا سربراہ رہا اور Loss and Damage کو مرکزی ایجنڈے پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نقصانات اور تباہی کے لیے فنڈ قائم کرنے پر اتفاق ہوا۔

COP28 · 2023

Loss and Damage Fund کو باضابطہ طور پر فعال کیا گیا اور اسے عارضی طور پر ورلڈ بینک کے زیر انتظام رکھا گیا۔ اسی کانفرنس میں پہلا مکمل Global Stocktake بھی سامنے آیا۔

COP29 · 2024

باکو میں ہونے والی کانفرنس میں موسمیاتی مالیات مرکزی موضوع رہا۔ پاکستان نے اسی موقع پر کاربن مارکیٹ کے حوالے سے اپنی پالیسی گائیڈ لائنز کا اعلان کیا، جو Article 6 کے تحت ملک کا پہلا باضابطہ فریم ورک تھا۔

COP30 · 2025

برازیل کے شہر بیلیم میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری عائشہ حمیرا چوہدری نے کی۔ پاکستان پویلین میں یونیسف کے تعاون سے Loss and Damage کی مالی اعانت پر سائیڈ ایونٹ ہوا، اور ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے 13 ہزار سے زائد گلیشیئرز کے پگھلاؤ پر خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔

COP31 · 2026

18 ستمبر 2026 تک پاکستان نے اپنی حتمی ترجیحات کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔ تاہم گزشتہ کانفرنسوں اور پاکستان کی NDC 3.0 کی بنیاد پر متوقع توجہ کے شعبوں میں گرانٹ کی بنیاد پر قابلِ پیش گوئی موسمیاتی مالیات، Loss and Damage Fund کے وعدوں کی عملی ادائیگی اور adaptation کے لیے زیادہ مالی وسائل شامل ہیں۔

ابھی حتمی نہیں

18 ستمبر 2026 تک پاکستان نے اپنی حتمی ترجیحات کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔ اوپر دی گئی متوقع توجہ کے شعبے گزشتہ کانفرنسوں اور NDC 3.0 کی بنیاد پر ایک اندازہ ہیں، حتمی سرکاری موقف نہیں۔

پاکستان نے NDC 3.0 میں کیا وعدہ کیا ہے؟

پاکستان نے ستمبر 2025 میں اپنی تیسری قومی موسمیاتی حکمت عملی، NDC 3.0، UNFCCC میں جمع کرائی۔

اس کے تحت پاکستان نے 2035 تک اپنے متوقع اخراج میں 50 فیصد تک کمی کا رضاکارانہ ہدف مقرر کیا ہے۔

17%غیر مشروط — مقامی وسائل سے حاصل کرنے کا ارادہ
33%مشروط — بین الاقوامی مالی معاونت، ٹیکنالوجی اور صلاحیت سازی درکار
US$ 565.7 اربمنصوبے پر عمل درآمد کے لیے مجموعی طور پر درکار سرمایہ کاری

پاکستان یہ بھی کہتا ہے کہ NDC 2.0 کے تحت 2021 سے 2025 کے دوران بین الاقوامی مالی معاونت کے بغیر ہی 37 فیصد اخراج میں کمی حاصل کی جا چکی ہے۔

لیکن پاکستان کے مطابق مستقبل میں اسی رفتار کو برقرار رکھنا بیرونی معاونت کے بغیر ممکن نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی مالیات پاکستان کے لیے محض مذاکرات کا ایک موضوع نہیں بلکہ عملی ضرورت ہے۔

COP میں پاکستان سے کون جا سکتا ہے؟

سب سے پہلے سرکاری وفد آتا ہے۔

پاکستانی حکومت وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کی سربراہی میں اپنا باضابطہ وفد تشکیل دیتی ہے۔

ہر ملک کا ایک National Focal Point ہوتا ہے جو UNFCCC کے ساتھ سرکاری رابطے کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔

وفد میں مذاکرات کار شامل ہوتے ہیں جو مختلف موضوعاتی گروپس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تکنیکی ماہرین انہیں سائنسی اور قانونی معاملات میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔

لیکن COP صرف حکومتی نمائندوں کے لیے نہیں۔

حکومتی / سرکاری وفد

وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی سربراہی میں مذاکرات کار اور تکنیکی ماہرین، جو National Focal Point کے ذریعے UNFCCC سے رسمی طور پر جڑے ہوتے ہیں۔

پیشہ ور افراد اور موسمیاتی ماہرین

موسمیاتی شعبے سے وابستہ ماہرین اور پیشہ ور افراد کسی تسلیم شدہ مبصر تنظیم کے وفد کا حصہ بن کر، سائیڈ ایونٹس یا پویلین تقریبات میں مقرر یا شریک بن کر، یا میڈیا accreditation کے ذریعے شرکت کر سکتے ہیں۔

سول سوسائٹی، کارکن اور تحقیق کار

UNFCCC کے مطابق غیر سرکاری اور بین الحکومتی ادارے observer organizations کے طور پر تسلیم کیے جا سکتے ہیں، مگر اس کے لیے باضابطہ admission process موجود ہے۔ کوئی فرد اپنے ذاتی نام سے UNFCCC کا observer نہیں بن سکتا؛ observer کا درجہ تنظیم کو حاصل ہوتا ہے اور فرد اسی تنظیم کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کرتا ہے۔ نوجوان کارکنوں کے لیے YOUNGO جیسے یوتھ نیٹ ورکس بھی ایک قائم شدہ راستہ ہیں۔

Accreditation

UNFCCC کی باضابطہ منظوری۔

Registration

کسی مخصوص ایونٹ یا زون میں شرکت کے لیے درکار اندراج۔

لیکن COP تک پہنچنے کی ایک اور کہانی بھی ہے

کاغذ پر راستہ کھلا ہے۔

عملی دنیا میں تصویر کچھ زیادہ پیچیدہ ہے۔

  • مبصر تنظیم کی nomination
  • سفر کا خرچ
  • رہائش کا خرچ
  • ویزا کا وقت
  • ادارہ جاتی معاونت

کسی مبصر تنظیم کی nomination درکار ہو سکتی ہے۔ سفر اور رہائش پر خاصا خرچ آ سکتا ہے۔ ویزا حاصل کرنے میں وقت لگ سکتا ہے اور ادارہ جاتی معاونت کے بغیر کسی فرد کے لیے عالمی کانفرنس میں شرکت مشکل ہو سکتی ہے۔

یعنی علم موجود ہونا اور عالمی مذاکرات کی میز تک پہنچ پانا دو الگ چیزیں ہیں۔

ایک نوجوان پاکستانی محقق کے پاس بہترین تحقیق ہو سکتی ہے، مقامی موسمیاتی اثرات کے بارے میں قیمتی معلومات ہو سکتی ہیں، لیکن اگر اس کے پاس سفر، رہائش اور رجسٹریشن کے وسائل نہیں تو اس کی آواز عالمی مذاکرات تک پہنچانا آسان نہیں۔

یہاں کچھ ماہرین ادارہ جاتی معاونت اور ملکی وفد سے وابستگی کو اس فرق کو کم کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے ایک ساختی مسئلہ قرار دیتے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کے مقامی اور نچلی سطح کے نقطۂ نظر کو عالمی موسمیاتی مذاکرات میں محدود کر سکتا ہے۔

اگر ایک نوجوان پاکستانی موسمیاتی محقق کے پاس علم اور تحقیق تو موجود ہے، مگر سفر اور رجسٹریشن کے وسائل نہیں، تو کیا وہ عالمی موسمیاتی سفارت کاری میں مؤثر آواز بن سکتا ہے؟

آپ کا انتخاب: ۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اس سوال کا کوئی ایک حتمی جواب موجود نہیں — ماہرین کی رائے تقسیم ہے۔

تیس برس کی کہانی، وعدوں سے مذاکرات تک

1992

ریو ارتھ سمٹ میں UNFCCC وجود میں آیا۔

1995

جرمنی کے شہر برلن میں COP1 ہوا۔

1997

کیوٹو پروٹوکول آیا، جس میں پہلی بار ترقی یافتہ ممالک کے لیے قانونی طور پر پابند اخراج میں کمی کے اہداف مقرر کیے گئے۔

2009

کوپن ہیگن کانفرنس سے ایک بڑے عالمی معاہدے کی امید تھی، مگر اتفاق رائے حاصل نہ ہو سکا۔

2015

پیرس معاہدہ ہوا اور دنیا نے 1.5 اور 2 ڈگری کے اہداف طے کیے۔ ہر ملک کے لیے NDC پیش کرنے کا نظام قائم ہوا۔

2021

گلاسگو میں COP کی حتمی دستاویز میں پہلی بار کوئلے کے بتدریج خاتمے کا ذکر شامل ہوا۔

2022

COP27 میں Loss and Damage Fund کے قیام پر اتفاق ہوا اور اس عمل میں پاکستان کا کردار نمایاں رہا۔

2023

COP28 میں پہلا Global Stocktake سامنے آیا، جس نے واضح کیا کہ دنیا اپنے موسمیاتی اہداف سے پیچھے ہے۔

2024

باکو کی COP29 میں نیا اجتماعی موسمیاتی مالیاتی ہدف طے پایا، جسے کئی ترقی پذیر ممالک نے ناکافی قرار دیا۔

2025

برازیل کے بیلیم میں COP30 ہوئی اور Loss and Damage Fund کے لیے پہلی بار عملی رقم دستیاب ہوئی۔

2026

COP31 انطالیہ میں ہونے جا رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار دنیا 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ رہی ہے۔

پھر COPs کے وعدے عمل میں کیوں نہیں بدلتے؟

اس سوال کا جواب ایک وجہ میں نہیں ملتا۔

۱

قانونی پابندیوں کی محدودیت

COP کے بیشتر فیصلے قانونی طور پر پابند نہیں ہوتے۔ پیرس معاہدے کے کچھ بنیادی تقاضے، مثلاً NDC جمع کروانے کا نظام، قانونی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن اپنے طے کردہ اخراج میں کمی کے ہدف کو حاصل کرنا اسی طرح لازمی نہیں۔

۲

موسمیاتی مالیات اور اصل ترسیل کا فرق

ترقی پذیر ممالک بار بار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وعدے کیے جاتے ہیں مگر مطلوبہ رقم بروقت اور مناسب شکل میں نہیں پہنچتی۔ ان ممالک کے لیے یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ انہیں ایک ہی وقت میں موسمیاتی اثرات سے نمٹنا، بنیادی ڈھانچہ دوبارہ تعمیر کرنا اور اپنی معیشتیں چلانا ہوتی ہیں۔ اگر مالی مدد قرض کی صورت میں آئے تو پہلے سے قرض میں جکڑے ممالک پر مزید مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

۳

قومی سیاست اور طویل مدتی اہداف کا تضاد

ایک حکومت کی مدت چند سال ہوتی ہے، جبکہ موسمیاتی پالیسی کے نتائج کئی دہائیوں تک سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح فوسل ایندھن کی صنعت سے وابستہ مفادات اور لابنگ بھی موسمیاتی پالیسی کے مباحث میں موجود رہتی ہے۔ کاربن مارکیٹ اور موسمیاتی پالیسی کے ماہرین اور مختلف صحافتی و تحقیقی رپورٹس نے برسوں سے اس مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔

۴

COP کا نفاذی نظام نہ ہونا

COP خود کوئی ایسی عالمی حکومت نہیں جس کے پاس رکن ممالک پر اپنے فیصلوں کا نفاذ کرانے کی طاقت ہو۔ یہ بنیادی طور پر مذاکرات کا پلیٹ فارم ہے۔ عمل درآمد کی اصل ذمہ داری ممالک کی اپنی حکومتوں پر ہوتی ہے۔

اور پھر ایک اور مشکل سامنے آتی ہے۔

تقریباً 197 ممالک کے درمیان اتفاق رائے سے فیصلہ کرنا خود ایک سست عمل ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ موسمیاتی بحران جس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے، کیا دنیا کے مذاکراتی نظام کی موجودہ رفتار اس کا ساتھ دے سکتی ہے؟

کیا COP31 فیصلہ کن ثابت ہو گی؟

اس سوال کا جواب کانفرنس شروع ہونے سے پہلے دینا ممکن نہیں۔

لیکن یہ ضرور دیکھا جا سکتا ہے کہ کانفرنس کے نتائج کو پرکھنے کے لیے کون سے سوالات اہم ہوں گے۔

  • کیا فوسل ایندھن سے منتقلی کے بارے میں واضح زبان شامل ہوتی ہے؟
  • کیا موسمیاتی مالیات کا نیا ہدف حقیقت میں بڑھتا ہے؟
  • کیا Loss and Damage Fund کو کیے گئے وعدوں کے مطابق رقم ملتی ہے؟
  • کیا adaptation کے لیے حقیقی مالی اضافہ ہوتا ہے؟
  • اور کیا دنیا کے نئے NDCs مجموعی طور پر اسے 1.5 ڈگری کے راستے کے قریب لے جاتے ہیں؟

یہی وہ سوالات ہیں جو تقاریر اور اعلانات سے زیادہ اہم ہوں گے۔

اصل امتحان انطالیہ میں نہیں، انطالیہ کے بعد ہو گا

COP31 میں کتنے سربراہانِ حکومت پہنچتے ہیں، کتنی تقاریر ہوتی ہیں اور کتنے نئے اعلانات سامنے آتے ہیں، یہ سب اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں۔

لیکن کانفرنس کی اصل کہانی شاید اس وقت شروع ہو گی جب کانفرنس ختم ہو جائے گی۔

اصل سوال یہ ہو گا کہ کیا دنیا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے بڑھتے ہوئے گراف کو پہلے روکنے اور پھر اسے نیچے لانے کے لیے اتنی تیزی سے عملی اقدامات کرتی ہے جتنی تیزی سے موسمیاتی خطرات بڑھ رہے ہیں۔

1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے تمام موسمیاتی اقدامات بے معنی ہو گئے۔

UNEP کی تحقیق کے مطابق اگر درجہ حرارت کچھ عرصے کے لیے 1.5 ڈگری سے اوپر چلا بھی جائے تو اسے دوبارہ نیچے لانے کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوتا۔

لیکن اس راستے کی ایک قیمت ہے۔

اخراج میں فوری، وسیع اور مسلسل کمی۔

اسی لیے COP31 کا اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا ایک بار پھر کیا وعدہ کرے گی۔

اصل سوال یہ ہے کہ اس وعدے کے بعد دنیا کیا بدلے گی؟

اصطلاحات

Mitigation

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی۔ اس میں فوسل ایندھن سے کم کاربن اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی جیسے معاملات شامل ہیں۔

Adaptation

بدلتے ہوئے موسم کے اثرات کے مطابق انسانوں، شہروں، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنا۔

Climate Finance

موسمیاتی کارروائی کے لیے مالی وسائل۔ ترقی پذیر ممالک زیادہ تر گرانٹ پر مبنی اور قابلِ پیش گوئی مالیات چاہتے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک نجی سرمایہ کاری پر بھی زور دیتے ہیں۔

Loss and Damage

اس نقصان کے لیے استعمال ہوتا ہے جس سے صرف adaptation کے ذریعے بچنا ممکن نہ ہو۔ COP27 میں اس کے لیے فنڈ قائم کرنے پر اتفاق ہوا اور COP28 میں اسے فعال کیا گیا۔

NDC (Nationally Determined Contribution)

ہر ملک کا اپنا قومی موسمیاتی منصوبہ، جس میں وہ بتاتا ہے کہ اخراج اور موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے وہ کیا اقدامات کرے گا۔

Global Stocktake

دنیا کی مجموعی موسمیاتی پیش رفت کا جائزہ۔

Article 6

پیرس معاہدے کا وہ حصہ جس کے تحت ممالک کے درمیان کاربن مارکیٹ کے ذریعے تعاون کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان نے COP29 میں اس حوالے سے اپنی پالیسی گائیڈ لائنز کا اعلان کیا۔

Just Transition عمومی اصطلاح

مضمون میں مذاکرات کے اہم موضوعات میں شمار کی گئی ہے۔ عمومی طور پر اس اصطلاح سے مراد فوسل ایندھن سے صاف توانائی کی طرف منتقلی کو اس طرح آگے بڑھانا ہے کہ متاثرہ کارکنوں اور کمیونٹیز کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

Carbon Market عمومی اصطلاح

مضمون میں مذاکرات کے اہم موضوعات میں شمار کی گئی ہے اور Article 6 سے جڑی ہے۔ عمومی طور پر اس نظام کے تحت ممالک یا ادارے کاربن کے اخراج میں کمی کے یونٹس کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔

ماخذ

۱

یورپی موسمیاتی سروس کوپرنیکس — ستمبر 2026 کے عالمی اوسط درجہ حرارت کے اعداد و شمار

۲

اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام UNEP — رپورٹ “Limiting Overshoot”، جاری کردہ 2 ستمبر 2026

۳

Global Carbon Project — Global Carbon Budget 2025 (نومبر 2025)

۴

UNFCCC — سرکاری حوالہ جات COP31 کے مقام، تاریخوں اور طریقہ کار سے متعلق

۵

پاکستان کی NDC 3.0 دستاویز — UNFCCC میں جمع کرائی گئی، ستمبر 2025

یہ مضمون 18 ستمبر 2026 تک دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔ اس تاریخ تک پاکستان نے COP31 کے لیے اپنی حتمی ترجیحات کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا؛ اس سے متعلق بیان اسی مضمون میں واضح طور پر درج ہے۔

COP31 · انطالیہ، ترکیہ · 9–20 نومبر 2026

2 responses to “کیا COP31 بھی یونہی گزر جائے گی”

  1. Abdul Razak Khatti Avatar
    Abdul Razak Khatti

    بہت ہی آسان الفاظ میں مشکل اصطلاحات کو آسانی سے سمجھنے کیلئے بیان کیا گیا ہے، اور پورا منظر نامہ بھی بیان کردیا گیا ہے ۔ آپ کا بہت شکریہ

    1. fz8hp Avatar

      بہت شکریہ کھٹی صاحب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *