آب و ہوا کا بحران سمجھنا ہو تو کوئی بھی شہر دیکھ لیجیے۔ گرمی بڑھے تو بجلی کی مانگ بڑھتی ہے، بجلی کم پڑے تو لوگ سڑکوں پر آ جاتے ہیں، اور بارش ہو تو نالے ابل پڑتے ہیں۔ آب و ہوا کا بحران آج انسانیت کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے، اور آنے والے برسوں میں ہماری روزمرہ زندگی کی شکل بھی بڑی حد تک اسی سے طے ہوگی۔ گزشتہ چند برسوں میں اس موضوع پر بات کرنے کا انداز ضرور بدلا ہے، لیکن ہم نے کئی دہائیاں اس خطرے کو نظر انداز کر کے گزاریں۔ اسی لیے آج بھی بہت سے لوگ اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں یا نظر چرا لیتے ہیں۔
آج بولنا کرنے سے کہیں آسان ہو گیا ہے۔ جو ممالک سب سے زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیں، ان میں سے کئی خود کو “ماحول دوست رہنما” کہلوانے لگے ہیں، حالانکہ ان کے پاس کوئی ٹھوس اور قابلِ اعتبار منصوبہ نہیں ہوتا۔ اس رویے کو “گرین واشنگ” (Greenwashing) کہتے ہیں، یعنی عمل کے بغیر سبز دکھاوا۔
ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ زندگی میں کچھ بھی مکمل صحیح یا مکمل غلط نہیں ہوتا اور ہر معاملے میں تھوڑا سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ پائیداری (Sustainability) کے معاملے میں یہ اصول نہیں چلتا۔ کچھ حدیں ایسی ہیں جنہیں پار نہیں کیا جا سکتا۔ آپ “تھوڑے سے پائیدار” نہیں ہو سکتے۔ آپ کا طرزِ زندگی یا تو اس زمین کے ساتھ نبھ سکتا ہے یا نہیں نبھ سکتا۔ یہ برف کی پتلی تہہ پر چلنے جیسا ہے۔ یا تو برف وزن سہار لیتی ہے، یا ٹوٹ جاتی ہے اور آدمی گہرے، یخ پانی میں جا گرتا ہے۔ اگر ہم گر گئے تو ہمیں نکالنے کے لیے کسی دوسرے سیارے سے کوئی نہیں آئے گا۔
بحران کے بدترین نتائج سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے: ایسے لوگوں کی بڑی تعداد جو حقیقی تبدیلی کا مطالبہ کریں۔ اس کی پہلی شرط شعور ہے، کیونکہ عام لوگوں کو اب بھی اس مسئلے کی سنگینی کا پورا اندازہ نہیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے لکھی گئی ہے۔ اس میں جدید ترین سائنسی معلومات کی بنیاد پر موسمیاتی، ماحولیاتی اور پائیداری کے بحران کو ایک مکمل تصویر کی صورت میں رکھا گیا ہے۔ موسمیاتی بحران دراصل پائیداری کے اس بڑے بحران کی ایک علامت ہے۔
2021 میں دنیا بھر کے نامور سائنس دان، ماہرین، لکھاری اور کارکن اس کتاب کے لیے اکٹھے ہوئے۔ ان کی محنت سے ایسی کتاب بنی جو حقائق، کہانیوں، نقشوں اور تصویروں کے ذریعے بحران کے مختلف پہلو دکھاتی ہے۔ اس میں پگھلتے گلیشیئر اور معیشت کا ذکر ہے، فاسٹ فیشن اور جانوروں اور پودوں کی نسلوں کے خاتمے کا بھی۔ وبائیں اور ڈوبتے جزیرے بھی ہیں، جنگلات کی کٹائی اور زرخیز زمین کا زوال بھی، پانی کی قلت اور مقامی (قدیمی) باشندوں کے حقوق بھی، اور مستقبل کی خوراک اور کاربن بجٹ بھی۔ کتاب یہ بھی بتاتی ہے کہ اصل ذمہ دار کون ہیں، اور وہ ادارے کہاں ناکام ہوئے جنہیں لوگوں کو سچ بہت پہلے بتا دینا چاہیے تھا۔
بدترین انجام سے بچنے کا وقت ابھی باقی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اپنا موجودہ راستہ بدلیں۔ اس کے لیے پہلے یہ ماننا ہوگا کہ یہ کوئی ایک مسئلہ نہیں، بلکہ کئی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل کا مجموعہ ہے۔ ہمیں حقائق کو لگی لپٹی کے بغیر دیکھنا اور سننا ہوگا۔ سائنس ایک اوزار ہے، اور اسے برتنا ہمیں سیکھنا ہوگا۔
ان حقائق کے ساتھ کچھ بنیادی سوالوں کے جواب بھی ڈھونڈنے ہوں گے۔ ہم اصل میں کیا چاہتے ہیں؟ صرف اخراج گھٹانا، یا اپنا موجودہ فضول خرچ طرزِ زندگی بچانا؟ کیا ہمارا مقصد آج اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر حالاتِ زندگی یقینی بنانا ہے، یا محض ایک مہنگا نظام چلتا رکھنا؟ کیا “سبز ترقی” (Green Growth) واقعی کوئی چیز ہے؟ اور کیا ایک محدود سیارے پر معاشی ترقی ہمیشہ جاری رہ سکتی ہے؟
آج بہت سے لوگ “امید” ڈھونڈ رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ امید کس کے لیے؟ ان کے لیے جنہوں نے یہ مسئلہ پیدا کیا، یا ان کے لیے جو پہلے ہی اس کے اثرات بھگت رہے ہیں؟ اور کہیں ایسا تو نہیں کہ امید کا سہارا ہمیں عمل سے روک دے اور ہم مزید نقصان کر بیٹھیں؟
آب و ہوا کا بحران اور اخراج کی ذمہ داری
ایک چونکا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی صرف ایک فیصد امیر ترین آبادی، غریب ترین پچاس فیصد لوگوں کے مقابلے میں دو گنا کاربن اخراج کی ذمہ دار ہے۔ اگر آپ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جن کے پاس دس لاکھ (ایک ملین) ڈالر سے زیادہ دولت ہے، تو آپ کو شاید “امید” سے زیادہ “ذمہ داری” کی ضرورت ہے، کیونکہ آپ بھی بہت زیادہ کاربن خارج کرنے والوں میں شامل ہیں۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ پیش رفت ہو رہی ہے اور کئی ممالک اپنے کاربن اخراج میں کمی کے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن جب پورا اور اصل اخراج گنا جائے تو تصویر مختلف نکلتی ہے۔ بہت سی امیر ریاستیں اپنی فیکٹریاں غریب ملکوں میں منتقل کر دیتی ہیں، اور فضائی و بحری سفر کا اخراج اپنے کھاتے میں شامل ہی نہیں کرتیں۔ یوں سستی محنت کا فائدہ بھی انہیں ملتا ہے اور اخراج کا بوجھ بھی نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ ذرا سوچیے، کیا اسے واقعی کمی کہا جا سکتا ہے؟
عالمی موسمیاتی اہداف پر پورا اترنے کے لیے ہر انسان کا سالانہ کاربن اخراج تقریباً ایک ٹن تک آنا چاہیے۔ مگر عملی صورت یہ ہے کہ سویڈن میں یہ اوسط تقریباً نو ٹن ہے، امریکہ میں سترہ ٹن، کینیڈا میں پندرہ ٹن، آسٹریلیا میں تقریباً پندرہ ٹن اور چین میں چھ ٹن سے زیادہ۔ اگر لکڑی اور پودوں کے جلنے سے ہونے والا اخراج بھی شامل کر لیا جائے تو یہ اعداد اور بڑھ جاتے ہیں۔
دنیا کی بڑی آبادی کے لیے ایک ٹن کی حد کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی کم وسائل پر گزارا کر رہی ہے۔ ان میں سے بعض کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس میں کچھ اضافے کی گنجائش بھی درکار ہوگی۔ لیکن یہ سمجھنا کہ جرمنی، اٹلی، ناروے یا نیوزی لینڈ جیسے ممالک اپنے معاشی اور سماجی نظام میں کوئی بڑی تبدیلی لائے بغیر چند دہائیوں میں اتنی بڑی کمی کر لیں گے، خود کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں۔
بعض لوگوں کو لگتا ہے کہ اب اس تحریک میں شامل ہونے کا کوئی فائدہ نہیں، بہت دیر ہو چکی۔ مگر موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کی کوشش میں آج پہلا قدم اٹھانے والا بھی رہنما ہی شمار ہوگا۔ کتاب کا آخری حصہ یہی بتاتا ہے کہ چھوٹے انفرادی کاموں سے لے کر پورے نظام میں بڑی تبدیلی تک، ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔
یہ کتاب جمہوری سوچ کے ساتھ لکھی گئی ہے، کیونکہ اس بحران کو حل کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ جمہوریت ہی ہے۔ مختلف مصنفین کی آرا میں معمولی اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن ان سب کی اجتماعی دانش وہ دباؤ بنا سکتی ہے جو حقیقی تبدیلی کے لیے ضروری ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ چند ماہرین آپ کی جگہ فیصلے کر لیں۔ مقصد یہ ہے کہ آپ خود حقائق کو جوڑ کر نتیجہ نکال سکیں۔ سب سے اہم نتائج شاید ابھی آنے ہیں، اور امید ہے کہ وہ نتائج آپ خود اخذ کریں گے۔
بات آخر میں اتنی ہی ہے: جب تک ہم مسئلے کو پوری طرح نہیں سمجھیں گے، اسے حل نہیں کر سکیں گے۔ اور سمجھنے کا مطلب صرف جان لینا نہیں، سچ کا سامنا کرنا اور پھر اس کے مطابق عمل کرنا ہے۔


Leave a Reply